سرینا ولیمز ٹینس کی نئی بلندیوں سے ہمکنار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرینا خواتین کے زمرے میں دنیا کی نمبر ون کھلاڑی ہیں اور ابھی ان میں بہت دم خم ہے اس لیے ان سے مستقبل میں بھی کافی توقعات وابستہ ہیں

حال ہی میں یو ایس اوپن میں یرسلوا شیوڈو کو ہرانے کے بعد امریکہ کی ٹینس سٹار سرینا ولیمز نے گرینڈ سلیم میں 308 ویں کامیابی کے بعد فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

ٹینس کے کھیل میں روجر فیڈرر کی فتوحات کا ریکارڈ توڑ کر وہ سب سے زیادہ میچ جیتنے والی کھلاڑی بن گئی ہیں۔

خواتین کے زمرے میں دنیا کی وہ نمبر ون کھلاڑی ہیں اور ابھی ان میں بہت دم خم ہے اس لیے ان سے مستقبل میں بھی کافی توقعات وابستہ ہیں۔ یہاں پر ان سے متعلق وہ تمام پہلو پیش ہیں جنہیں آپ کو جاننے کا اشتیاق ہو سکتا ہے۔

بہت کم ہی ایسے کھلاڑی ہوں گے جو سرینا کی طرح اتنے طویل عرصے تک کھیل سکیں اور اتنی کامیابیاں حاصل کر سکیں۔ سنہ 1998 میں انھوں نے 16 برس کی عمر میں آسٹریلین اوپن میں سے بین الاقوامی مقابلوں کی ابتدا کی تھی۔ اب ان کی عمر 34 برس کی ہے اور خواتین کے زمرے میں وہ عالمی سطح پر سب سے عمررسیدہ نمبر ون کھلاڑی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

انھوں نے 22 گرینڈ سلیم سنگل ٹائٹل اپنے نام کیے ہیں، اولمپکس میں چار بار گولڈ میڈل حاصل کیا ہے اور تقریباً 80 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم جیتی ہے۔

ان سے جب ایک بار پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے آپ کو اب تک کی سب سے عظیم خاتون کھلاڑی مانتی ہیں تو ان کا جواب تھا: ’میں اب تک کے سب سے عظیم کھلاڑی کے لفظ کو ترجیح دیتی ہوں۔‘

سرینا نے پہلی بار تین برس کی عمر میں ٹینس کا ریکٹ تھاما تھا اور کیلیفورنیا کے اس علاقے میں اس کھیل کی مشق میں گھنٹوں وقت صرف کرنا شروع کیا جو غنڈہ گردی کے لیے معروف ہے۔

ان کے والد رچرڈ نے یہاں منتقل ہونے کا قدم دانستہ طور اٹھایا تھا۔ انھوں نے اپنے بچوں کی عظمت کی پیشن گوئی کی تھی۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اگر ان کے بچے تعلیم کے ساتھ ساتھ سخت محنت کريں تو ان کی زندگی تبدیل ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کمپٹن کونسل کی ایک سابق خاتون پیٹرکا مور کا کہنا ہے کہ علاقے کے گینگ کے ارکان نے دونوں بہنوں سرینا اور وینس کو تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ انھوں نے سی این این کو بتایا: ’وہ چاہتے تھے کہ دونوں لڑکیاں اچھا کریں اسی لیے ان کی تربیت کے وقت وہ کورٹ کوگھیرے میں لیے رکھتے تھے۔‘

سنہ 1992 میں جب سرینا 11 اور وینس 12 برس کی تھیں اور ٹینس اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہی تھیں تبھی ٹرانس ورلڈ سپورٹس نے ان کے بارے میں لکھا تھا کہ ان میں بلا کی صلاحیت ہے۔

دونوں سے جب پوچھا گیا کہ بڑے ہو کر وہ کیا کرنا پسند کریں گی تو انھوں نے ٹینس کا انتخاب کیا۔ جب یہ پوچھا گیا کہ اگر یہ نہیں ہوا تو پھر؟ اس پر سرینا نے کہا کہ پھر وہ مویشیوں کی ڈاکٹر بنیں گی جبکہ وینس نے کہا کہ وہ تعمیرات کے شعبے میں جانا پسند کریں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اور جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس ٹینس کھلاڑی کی مانند بننا چاہتی ہیں تو ان کا جواب تھا: ’میں تو چاہوں گی دوسرے لوگ میرے جیسا بننا چاہیں۔‘

اپنے پہلے گرینڈ سلیم مقابلے میں سرینا کا مقابلہ بڑی بہن وینس سے ہوا اور وہ ہار گئی تھیں۔

اسی برس نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سرینا نے کہا: ’میرے پاس سستی برتنے کا وقت نہیں ہے، ہم دونوں ہی نمبر ون بننا چاہتے ہیں اور میرے خیال سے یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم میں سے زیادہ سنجیدہ کون ہے۔‘

اس کے بعد سے دونوں کے درمیان کھیل کے میدان میں کئی بار مقابلہ ہوا اور سرینا اپنے والد کی پیشن گوئی پر پوری اتریں۔ ایک بار تو گرینڈ سلیم کے فائنل مقابلوں میں سرینا نے اپنی بہن وینس کو مستقل چار بار ہراتے ہوئےگرینڈ سلیم ٹائٹل جیتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

لیکن اس سے سرینا کو بےچینی ہی ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’میں کورٹ میں وینس کو دیکھتی نہیں ہوں، میں نہیں دیکھ سکتی، اگر میں جیت رہی ہوں تو میں ان کے لیے افسردہ ہو جاتی ہوں۔‘

اس برس جب یہ بحث چھڑی کہ خواتین ٹینس کھلاڑی کو بھی مردوں کے برابر انعامی رقم ملنی چاہیے تو سرینا نے بڑے بے باکانہ انداز میں کہا: ’میں اس بات کی مستحق نہیں ہوں کہ میری جنس کی وجہ سے مجھے کم معاوضہ ملے۔‘

سرینا ولیمز کی ماں نے 1980 میں مذہب تبدیل کر لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی پرورش مذہبی ماحول میں ہوئی۔ وہ میچ جیتنے کے بعد اکثر یہووا خدا کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔

انھیں مایا اینجلیو کی شاعری پسند ہے اور ان کی نظم ’سٹل آئی رائز‘ ان کی سب سے پسندیدہ نظم ہے۔

2009 میں دونوں بہنوں نے امریکہ کی ایک فٹبال ٹیم میامی ڈولفن میں تھوڑی سرمایہ کاری بھی کی تھی۔ اس طرح امریکی نیشنل فٹبال لیگ کی کسی بھی ٹیم میں پیسہ لگانے والی وہ پہلی سیاہ فام خواتین ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اتنی تمام کامیابیوں کے باوجود سرینا ولیمز کے حلیے، خاص طور جنسی اور نسلی نقطۂ نظر سے، نکتہ چینی بھی کی جاتی رہی ہے۔

لیکن سرینا اس سے مطمئن ہیں۔ 2015 میں گڈ مارننگ امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا: ’میں پوری زندگی اسی طرح رہی ہوں اور میں جو کچھ بھی جیسے ہوں اسے ہی گلے لگاتی اور اس سے پیار کرتی ہوں۔

’مجھے اس بات پر پیار ہے کہ میں مکمل عورت ہوں، اور میں مضبوط ہوں، طاقتور ہوں اور ساتھ ہی خوبصورت بھی ہوں۔ اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں