’آرتھر پہلے ڈومیسٹک کرکٹ دیکھیں پھر بیان دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTV

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کے خیال میں کوچ مکی آرتھر نے 30 سال سے زائد عمر کے کھلاڑیوں کو کارکردگی بہتر کرنے سے متعلق جو بات کی ہے وہ اگرچہ درست ہے لیکن انھیں پہلے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کا سروے کرنا چاہیے پھر یہ بات کرنی چاہیے۔

مکی آرتھر نے گذشتہ دنوں ایک بیان میں پاکستان کی ون ڈے کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ 30 سال سے زائد عمر کے کرکٹرز کو اپنی کارکردگی میں بہتری لانی ہوگی ایسا نہ کرنے کی صورت میں نئے کھلاڑیوں کو موقع ملے گا۔

٭’ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کا مستقبل غیریقینی ہے‘

٭ ’میچ کے آخر میں جیت دلانے والے کھلاڑی موجود نہیں‘

٭’پاکستانی ٹیم میں خود غرض کھلاڑی نہیں چاہیے‘

بازید خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مکی آرتھر نے ایک لحاظ سے صحیح بات کہی ہے لیکن وہ یہ بیان دینے میں جلدی کرگئے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو سینئیرز کھلاڑیوں کی جگہ لے سکیں۔؟

بازید خان کا کہنا ہےکہ مکی آرتھر کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے تھی کہ پاکستان کی کرکٹ دیگر ملکوں سے بہت مختلف ہے۔ مکی آرتھر انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ سے وابستہ نہیں ہیں جہاں کرکٹ کا ڈھانچہ بہت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ یہاں تک کہ انڈیا میں بھی ڈومیسٹک کرکٹ بہت مضبوط ہے جہاں اعلیٰ معیار کے کھلاڑی تیار ہوکر انٹرنیشنل کرکٹ میں آتے ہیں جب کہ پاکستان میں ایسانہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ چند سیریز کے بعد مکی آرتھر کو اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ پاکستان کی کرکٹ کیسے چل رہی ہے اور کھلاڑی نچلی سطح سے انٹرنیشنل کرکٹ تک کیسے آتے ہیں۔؟

پاکستان کے سابق کرکٹر کا کہنا ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اظہر علی کو کپتانی سے ہٹانے سے ون ڈے ٹیم اچھے نتائج دینا شروع کردے گی۔ یہ پورے سسٹم کا معاملہ ہے کہ ہماری فرسٹ کلاس کرکٹ کس طرح کھیلی جا رہی ہے۔ پاکستان میں جن وکٹوں پر ڈومیسٹک ون ڈے میچ کھیلے جاتے ہیں ان میں بھی 300 رنز کم ہی بن رہے ہیں۔

بازید خان نے کہا کہ محمد عامر سے بے پناہ توقعات وابستہ کرلی گئی تھیں جو ظاہر ہے پوری نہیں ہو سکیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بولنگ کی رفتار میں پہلے کے مقابلے میں کمی ہوئی ہے۔ انھوں نے دورۂ انگلینڈ میں ٹھیک بولنگ کی ہے لیکن پہلے جیسی بات نظر نہیں آئی جس کی وجہ ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں چھ سال بعد واپسی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں