’پاجاما کرکٹ میں پاکستان ناکام‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم آئی سی سی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ ون ڈے ٹیم نویں نمبر پر ہے۔ یہ تفاوت اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کھیل کی تمام قسموں میں کامیابی کے لیے جس مہارت اور استعداد کی ضرورت ہوتی ہے، پاکستانی ٹیم میں اس کی کتنی کمی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ٹیم جس کی کارکردگی کے بارے میں پیشگوئی کرنا ناممکن ہے، وہ سفید جامے کی کرکٹ میں تواتر کے ساتھ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن رنگ دار ’پاجامے‘ کی کرکٹ میں ان کی حالت بری ہے۔ پاکستانی ٹیم اب ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بھی ساتویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان نے پہلی بار آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں اس وقت پہلی پوزیشن حاصل کی جب اس نے انگلینڈ کی مضبوط ٹیم کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر دو ٹیسٹ میچوں میں شکست دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2013 میں مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے ایک روزہ میچوں کی سات سیریز میں کامیابی حاصل کی

پاکستان نے چار میچوں کی سیریز کے دو میچ جیتے اور دو میچ ہارے۔ لیکن ٹیسٹ سیریز کےفوراً بعد ایک روزہ سیریز میں انگلینڈ نے پاکستان کو واضح مارجن سے شکست دے دی۔

پاکستان کے ماضی کے نامور بولر اور کپتان وسیم اکرم نے لمبے اور چھوٹے فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کے فرق کو تلخ حقیقت قرار دیا۔ انھوں نے کہا ’دوسری ٹیمیں اپنے آپ کو بدل رہی ہیں جبکہ پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔‘

انگلینڈ کی موجودہ ٹیم جس نے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ سکور کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ایک برس پہلے ہونے والے ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے سے ہی آگے نہیں بڑھ پائی تھی۔

انگلینڈ کی موجودہ ٹیم ایک روزہ میچوں کی فارمیٹ میں دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک تصور کی جاتی ہے جس میں ایسے تباہ کن کھلاڑی شامل ہیں جو کسی بھی لمحے کھیل کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وسیم اکرم کہتے ہیں: ’انگلینڈ کی ٹیم کو دیکھو، وہ دو ہزار پندرہ ورلڈ کپ کے بعد کتنی بدل گئی ہے۔ ہم بہت نیچے چلے گئے ہیں۔ ہماری ٹیسٹ ٹیم مستحکم ہے اور اچھے نتائج دے رہی ہے لیکن ون ڈے سے مصباح الحق، شاہد آفریدی اور سعید اجمل کے جانے سے ہمارے پاس ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔‘

مصباح الحق اور شاہد آفریدی نے 2015 ورلڈ کپ میں کواٹر فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کے بعد ون ڈے کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ گزشتہ ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی کارکردگی پاکستان سے بھی بدترین تھی اور وہ ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے سے باہر نکل گئی تھی۔

انگلش ٹیم اپنے نئے کوچ ٹریور بیلس کی نگرانی میں ایک مضبوط ٹیم کا روپ دھار چکی ہے۔گزشتہ ٹی ٹوئنٹی میچ میں انگلینڈ کی ٹیم فائنل میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کھا گئی تھی۔

پاکستان کے ورلڈ کپ کے فاتح کپتان عمران خان کی نظر میں اس مسئلے کا حل مصباح الحق کی ون ڈے ٹیم میں واپسی ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ کھلاڑی جو ٹیسٹ کرکٹ میں اتنا کامیاب ہے وہ ون ڈے میچ کیوں نہیں کھیل سکتا۔ ’اگر وہ پاکستان کو ٹیسٹ میں پہلے نمبر کی ٹیم بنا سکتا ہے، وہ ایک روزہ ٹیم کو بھی اوپر لے جا سکتا ہے۔‘

عمران خان کی تجویز کتنی قابل عمل ہے یہ بحث طلب ہے۔

مصباح الحق کو2010 میں ٹیسٹ اور 2011 میں ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان مصباح الحق اور شاہد آفریدی کا متبادل ڈھونڈنےمیں ناکام رہا ہے: وسیم اکرم

اگر ٹیسٹ ٹیم کی عمدہ کارکردگی کا سہرا مصباح الحق کے سر بندھتا ہے تو ون ڈے ٹیم کی بری کارکردگی کی ذمہ داری بھی انھیں کے کندھوں پر ہے۔ ایک روزہ کپتان کی حیثیت سے مصباح الحق کا آغاز انتہائی شاندار تھا۔ 2013 میں ان کی قیادت میں ٹیم نے سات ایک روزہ سیریز میں فتح حاصل کی۔ ان فتوحات میں آف سپنر سعید اجمل اور لیفٹ آرم فاسٹ بولر جنید خان کی کارکردگی کا اہم کردار تھا۔ پاکستان نے مصباح الحق کی قیادت میں انڈیا میں ہونے والی ایک روزہ سیریز فتح حاصل کی بلکہ جنوبی افریقہ کو بھی مات دی۔

سعید اجمل کے بولنگ ایکشن پر اعتراضات کے بعد ان کی افادیت ختم ہوگئی اور جنید خان اپنی فٹنس کے مسائل سے دوچار ہو کر اپنی فارم کھو بیٹھے۔

2013 میں شاندار کارکردگی کے بعد 2014 میں پاکستان کی کارکردگی یکدم نیچےگر گئی اور وہ 2014 میں ایک روزہ میچوں کی ایک سیریز بھی نہ جیت سکا۔ 2015 میں اظہر علی کے کپتان بننے کے بعد بنگلہ دیش نے بھی پاکستان کو ایک روزہ میچوں کی سیریز میں تین صفر سے شکست دی۔

سعید اجمل کے جانے کے بعد پاکستان کو ٹیسٹ میچوں میں یاسر شاہ کی شکل میں ایک میچ وننگ بولر دستیاب ہوگیا۔ یاسر شاہ نےمتحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا، انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف سیریز کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے جن دو میچوں میں فتح حاصل کی اس میں بھی یاسر شاہ کی بولنگ کا بہت اہم کردار رہا ہے۔

وسیم اکرم کی نظر میں ون ڈے ٹیم کی بری کارکردگی کی وجہ ٹیم میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں بھی ہیں۔ایک روزہ میچوں میں پاکستان نے چار برسوں میں 21 نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا۔ وسیم اکرم کہتے ہیں کہ ہر نئے کھلاڑی کو دس سے بارہ میچوں میں موقع دیا جانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں پاکستان نے پچھلے چار برسوں میں 34 اوپنروں کی جوڑیاں کھلائی ہیں۔

گیند کو باونڈری سے باہر پھینکنے کی صلاحیت

پاکستان میں گیند کو باونڈری سے باہر پھینکے والےکھلاڑیوں کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ پاکستان کے پاس آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر، جنوبی افریقہ کے اے بی ڈویلیئرز، اور انڈیا کے ویراٹ کوہلی جیسا کوئی کھلاڑی موجود نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کو جدید طرز کی کرکٹ کھیلنے کے لیے شرجیل خان جیسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے

پاکستان کے پاس اظہر علی اور اسد شفیق کی شکل میں اچھے کھلاڑی موجود ہیں جو ٹیسٹ ٹیم میں تو ٹیم کو استحکام دینے میں کامیاب ہیں لیکن ون ڈےکرکٹ میں تیز رفتاری سے کھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں بیٹنگ ٹیلنٹ کی واضح طور پر کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ ڈومیسٹک ٹورنامنٹوں میں بھی ٹیمیں بڑا سکور کرنےمیں ناکام رہی ہیں۔پاکستان کپ میں صرف چھ بار ٹیمیں 300 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ پاکستان کے نئے چیف سلیکٹرانضمام الحق کہتے ہیں کہ ہمیں نئے کھلاڑی سامنے لانے ہوں گے۔ ہم ایک روزہ میچوں میں ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو باونڈری لائن عبور کر سکیں۔

پاکستان کو’ وقت کم اور مقابلہ سخت‘ والی صورتحال کا سامنا ہے۔ اگر پاکستان ون ڈے میچوں کی رینکنک میں اگلے برس ستمبر تک ایک درجے کی بہتری نہیں ہوتی تو 2019 میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کی شمولیت یقینی نہیں اور اسے کوالیفائنگ مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔ ایک روزہ میچوں کی رینکنک میں پاکستان کی پوزیشن نویں ہے اور اسے ورلڈ کپ میں اپنی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم آٹھویں پوزیشن پر آنا ہوگا۔

پاکستان کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ وہ ابھی نوے کی دہائی کی کرکٹ کھیل رہا ہے اور اسے اکیسویں صدی کی جدید کرکٹ کی طرف لے جانے کےلیے شرجیل خان اور سرفراز احمد جیسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔