پیرالمپیئنز کی کامیابی کے جذباتی تصویر

تصویر کے کاپی رائٹ YIP PIN XIU
Image caption سنگاپور کی پیرالمپیئن یپ پن ژیو نے گوہ کے کانسی کے تمغے پر اپنی جذباتی تصویر پوسٹ کی

سنگاپور کی دو طلائی تمغے جیتنے والی پہلی خاتون پیرالمپیئن نے اپنی ایک ساتھی کے ساتھ جذباتی تصویر شیئر کی ہے۔

یہ تصویر یپ پن ژیو نے اپنی سینیئر ساتھی تھریسا گوہ کے چوتھے پیرالمپکس میں پہلا تمغہ جیتنے کے بعد شیئر کی ہے اور اپنی ساتھی کے کانسی کے تمغے کا جشن منایا ہے۔

ژیو نے تصویر کے ساتھ لکھا: ’دنیا ہمار روتا ہوا بدصورت چہرہ دیکھنا نہیں چاہتی۔۔۔ لیکن دنیا کو یہ جاننا چاہیے کہ میں تمہارے لیے کتنا فخر محسوس کر رہی ہوں۔ بالآخر تم نے کر دکھایا۔ پگلی تم نے کر دکھایا۔‘

گوہ سنہ 2004 سے پیرالمپکس میں شرکت کر رہی ہیں اور ریو میں جاری رواں پیرالمپکس میں اتوار کی شب 100 میٹر برسٹ سٹروک میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا اور سنگاپور کو دوسرا میڈل دلویا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گوہ نے 17 سال کی محنت کے بعد کوئی اتوار کی شب کوئی تمغہ حاصل کیا

جبکہ یپ نے اس سے قبل سنہ 2008 میں بیجنگ اولمپکس میں پہلا طلائی تمغہ حاصل کیا تھا اور پھر سنیچر کو اپنا ہی ریکارڈ دو سیکنڈ سے توڑ کر ریو میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔

انھوں نے انسٹا گرام پر گوہ کے لیے اپنی پوسٹ میں لکھا: ’کوئی بھی ہمارے سفر کو ہم سے زیادہ نہیں جانتا اور میں تمہارے لیے بہت فخر محسوس کر رہی ہوں۔ تم 17 سال کی کڑی محنت، تربیت اور مستقل لگن کے ساتھ اب پیرالمپیئن ہو۔‘

ان خواتین کی کامیابی کے بعد اب سنگاپور کے پیرالمپیئنز کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ انھیں بھی اولمپیئنز کی طرح عزت اور تنخواہ دی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سکولنگ کا سنگاپور میں فاتح جیسا استقبال ہوا تھا

خیال رہے کہ اگست میں ہونے والے اولمپکس میں جوزف سکولنگ کے طلائی تمغے پر پورے سنگاپور میں جشن منایاگیا۔ سکولنگ نے امریکہ کے لیجنڈ مائکل فلپس کو شکست دے کر طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔ ان کا شاندار استقبال ہوا تھا اور انھیں ایئر ایشیا پر زندگی بھر مفت پرواز کے علاوہ دس لاکھ سنگاپوری ڈالر کا انعام دیا گیا تھا۔

لیکن ان کے مقابلے یپ کو ٹیکس کاٹنے کے بعد تقریباً ڈیڑھ لاکھ سنگاپوری ڈالر ملیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں