’شرجیل خان پاکستان کی قسمت بدل سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈین جونز اور وسیم اکرم مردوں اور عورتوں کے مشترکہ میچ میں حصہ لیا۔اس میچ میں انم آمین اور بسما معروف نے بھی حصہ لیا

آسٹریلیا کےسابق بلے باز ڈین جونز نے کہا ہے کہ پاکستانی سپر لیگ کی کامیابی کے بعد پاکستان ایک بار پھر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں طاقت بن کر ابھرے گا۔

ڈین جونزسمجھتے ہیں کہ شرجیل خان اگلے دس برسوں میں دنیا کے بڑے بڑے بولروں کےلیے پریشانی کا باعث بنیں گے۔

ڈین جونز کے خیال میں شرجیل خان شارٹ فارمیٹ کرکٹ میں پاکستان کی قسمت بدل سکتے ہیں۔

ڈین جونز نے کہا کہ پاکستانی سپر لیگ کی کامیابی نے پاکستان میں ٹی ٹوئنٹی کے مستقبل کو بھی تابناک بنا دیا ہے۔

گذشتہ روز راولپنڈی میں مردوں اور عورتوں کی مشترکہ ٹیم میں شرکت کے بعد ڈین جونز نے کہا کہ انڈین ٹیم کی عمدہ کارکردگی کی وجہ پریمئیر لیگ ہی ہے۔ ڈین جونز نےگزشتہ برس سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی کوچنگ کی تھی۔

ڈین جونز اور وسیم اکرم نے مردوں اور عورتوں کے مشترکہ میچ میں حصہ لیا۔اس میچ میں پاکستانی عورتوں کی ٹیم کی کھلاڑی انعم آمین اور بسما معروف نے حصہ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈین جونز نےگزشتہ برس پریمئیر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی کوچنگ کی تھی

ڈین جونز نے کہا کہ گذشتہ برس پاکستانی سپر لیگ انتہائی کامیاب رہی اور پاکستان کو 2.6 ملین ڈالر کا منافع ہوا۔

انھوں نے کہا کہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انڈیا میں آٹھ نو پریمئیر لیگز کھیلی جاتی ہیں اور انڈین کھلاڑیوں نے غیر ملکی کوچز اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سیکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے صرف ایک لیگ کھیلی ہے اور اب کھلاڑیوں کو سمجھ آنا شروع ہو گیا ہے کہ اس فارمیٹ میں کیسے کھیلا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کھیل ہی طاقت اور فٹنس کا ہے۔ جو بولر ڈیٹھ اوروں میں عمدہ دفاعی بولنگ کر سکتا ہے وہی کامیاب رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی یہ سب کچھ سیکھ رہے ہیں۔

ڈین جونز نے کہا کہ اگلے تین چار برسوں میں پاکستانی ٹیم بہت ترقی کرے گی اور اسے دنیا کی ٹاپ ٹیموں میں سے ایک ہونا چاہیے۔

شرجیل خان کا ذکر کرتے ہوئے ڈین جونز نے کہا کہ اگلے دس برسوں کے لیے وہ ایک انتہائی اہم کھلاڑی ہیں۔ شرجیل خان اگلے دس برسوں میں دنیا کے اکثر بولروں کو بہت تنگ کریں گے۔

ڈین جونز نے پاکستان کے ٹیسٹ کی درجہ بندی پہلے نمبر پر پہنچنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یونس خان اور مصباح الحق کے علاوہ کم ہی ایسے کھلاڑی ہیں جنھوں نے پاکستانی سرزمین پر کوئی میچ کھیلا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ انھوں نے اپنےگھر میں کوئی میچ ہی نہیں کھیلا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں