’زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ICC
Image caption ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا سہرا پوری ٹیم کو جاتا ہے: مصباح

پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ ان کی کافی عرصے سے خواہش تھی کہ وہ پاکستان کے لیے ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کریں۔

لاہور میں بدھ کو ’ٹیسٹ میس‘ حاصل کرنے کی تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا ہے کہ آج ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوئی ہے اور وہ اس کے لیے پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

٭ پاکستان پہلی بار عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں سرفہرست

٭ پاکستان کی پہلی پوزیشن کا انحصار انڈیا کی کارکردگی پر

پاکستان کے کپتان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا سہرا پوری ٹیم کو جاتا ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ ٹیسٹ رینکینگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے لیے تمام کھلاڑیوں نے بھر پور محنت کی۔ پاکستان کے لیے آئندہ بھی مزید کامیابیاں لائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ICC
Image caption مصباح کی کپتانی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا: ڈیوڈ رچررڈسن

اس موقع پر بات کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچررڈسن کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’مصباح کی کپتانی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔‘

اس سے قبل آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچررڈسن نے قذافی سٹیڈیم میں ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں نمبر ون ٹیم بننے کی تقریب میں پاکستان کے کپتان مصباح الحق کو خصوصی گرز کا ایوارڈ دیا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم گذشتہ ماہ کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

آئی سی سی کی جانب سے سنہ 2003 میں اس عالمی درجہ بندی کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستانی ٹیم اس فہرست میں پہلا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی سی سی کی جانب سے سنہ 2003 میں اس عالمی درجہ بندی کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستانی ٹیم اس فہرست میں پہلا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی

ماضی میں پاکستان کی بہترین کارکردگی دوسری پوزیشن تھی جو اس نے گذشتہ برس متحدہ عراب امارات میں کھیلی جانے والی سیریز میں انگلینڈ کو شکست دینے کے بعد اور پھر رواں برس انگلینڈ کے خلاف سیریز برابر کر کے حاصل کی۔

نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بننے کے لیے پاکستان کو انڈیا اور ویسٹ انڈیز کی سیریز کے چوتھے اور آخری ٹیسٹ کے نتیجے کا انتظار تھا۔

انڈیا کو اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے یہ ٹیسٹ جیتنا لازمی تھا تاہم بارش سے متاثرہ اس ٹیسٹ میچ کے بےنتیجہ رہنے کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم 111 پوائنٹس کے ساتھ آئی سی سی کی درجہ بندی میں سب سے اوپر پہنچ گئی۔

یہ میچ برابر رہنے کی صورت میں انڈیا کو دو پوائنٹس کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑا اور یوں وہ اب 110 پوائنٹس کے ساتھ درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر پہنچ گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں