ٹی ٹوئنٹی میں تبدیلی کا سفر؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دبئی کے حبس کو دوش دیجیے یا دوسری اننگز میں پڑتی اوس کو قصور وار ٹھہرایے، ٹی ٹوئنٹی چیمپیئنز پاکستان کے سامنے بالکل بے بس نظر آئے۔ بلے خلا میں گھومتے رہے، گیند وکٹوں کا تعاقب کرتی رہی اور ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ عمومی پاکستانی بیٹنگ کی یاد تازہ کرتی رہی۔

٭ پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز تصویری جھلکیاں

یہ کہنا مشکل ہے کہ ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ ابتر تھی یا بولنگ یا شاید ان دونوں سے کہیں بری فیلڈنگ۔ کم ہدف کا دفاع کرتے ہوئے بھی کپتان براتھ ویٹ نے بابر اعظم کے لیے ایک اچھا جال بچھایا تھا مگر جیروم ٹیلر باونڈری کے قریب کیچ نہ کر سکے۔

پاکستان پہلے اوور سے ہی میچ پر حاوی ہو گیا اور ٹیلر، براوو ریکارڈ پارٹنر شپ بھی میچ کا پانسہ نہ پلٹ سکی۔

پاکستانی فینز کے لیے میچ بہت اچھا تھا۔ آپ ذرا تصور کیجیے کہ اگر ویسٹ انڈیز پہلی چند وکٹیں گنوانے کے بعد بھی کم بیک کرتا اور 150 کے لگ بھگ مجموعی سکور بورڈ پہ سجاتا۔ پھر دبئی کی سست وکٹ پر 150 کا تعاقب پاکستانی بیٹنگ کو بھی زیادہ جاندار بنا سکتا تھا مگر عماد وسیم کی نپی تلی سپن اور ویسٹ انڈیز کی جلد بازی کے طفیل مقابلہ کانٹے دار نہ ہو سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

عماد وسیم ایک ٹیلنٹڈ سپنر تو ہیں ہی مگر جس طرح انھوں نے پانچ وکٹیں لیں، واضح ہوتا ہے کہ وہ نہایت شاطر بھی ہیں۔ پہلی وکٹ کے حصول کے لے انھوں نے لیوس کو مجبور کیا کہ وہ سپن کے خلاف شاٹ کھیلیں۔ تمام چیمپیئنز کا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ وہ گرنے کے بعد فورا حملہ کرتے ہیں تاکہ حریف حاوی نہ ہونے پائے۔ ویسٹ انڈین بیٹسمینوں نے بھی یہی کیا۔ وہ ذہنی طور پہ یہ قبول کرنے کو تیار نہیں تھے کہ اس وکٹ پہ پاکستانی بولنگ ان کی بیٹنگ سے بہتر تھی۔ اسی الجھن میں وہ مسلسل چڑھائی کرنے کے چکر میں بلے گھماتے گھماتے میچ ہی پاکستان کی جھولی میں ڈال بیٹھے۔ سو ایک لحاظ سے زیادہ کریڈٹ اس پہلی وکٹ کو جاتا ہے جس کے گرنے کے بعد ویسٹ انڈیز نفسیاتی طور پہ پاکستان کے دباؤ میں آ گیا۔

یہ کہنا شاید قبل از وقت ہو گا مگر متواتر دو بڑی فتوحات یہ عندیہ دے رہی ہیں کہ پاکستان کے لیے ٹی ٹوئنٹی میں تبدیلی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی لگن سے بعض مبصرین کی اس رائے کو غلط ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عماد وسیم نے پاکستان کی گذشتہ دونوں فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بابر اعظم نہایت دلکش اور تکنیکی اعتبار سے مضبوط کھلاڑی ہیں۔ نواز بہت اچھے آل راؤنڈر ثابت ہوئے ہیں۔ شرجیل خان نے پاکستان کا پاور پلے میں ہٹنگ کا دیرینہ مسئلہ کافی حد تک حل کر دیا ہے۔ خالد لطیف نے بہت اچھا کم بیک کیا ہے۔ سرفراز کے بطور کپتان فیصلے نہایت موثر ثابت ہوئے ہیں۔ یہ سبھی آثار واضح کرتے ہیں کہ یہ ٹیم مزید بہتری کی طرف جائے گی۔

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ گذشتہ دونوں ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان نے بڑے مارجن سے فتوحات تو حاصل کیں مگر دونوں میں ہماری بیٹنگ کو 150 سے کم ہدف کا تعاقب کرنا تھا۔ ماڈرن ٹی ٹوئنٹی گیم میں 150 سے کم ہدف کا تعاقب ایک نہایت معمولی بات ہے۔ اصل امتحان تب ہوتا ہے جب آپ کو آٹھ یا اس سے زیادہ فی اوور کی اوسط سے ہدف حاصل کرنا ہو۔

بولنگ یونٹ نے تو اپنی افادیت ثابت کر دی ہے لیکن اگر سنیچر کے میچ میں ویسٹ انڈیز 150 سے زائد رنز بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، جس کا قوی امکان ہے، تو پاکستانی بیٹنگ کا اصل امتحان تب شروع ہو گا۔ امید یہی ہے کہ سنیچر کا میچ کل کی نسبت بہتر ہو گا کیونکہ ویسٹ انڈین ٹیم فائٹ بیک کرنا جانتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں