گیم پلان اچھا تو سب اچھا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ویسٹ انڈیز کے خلاف دونوں میچز میں پاکستان کہیں زیادہ بہتر اور پر اعتماد ٹیم دکھائی دی

ٹی 20 اپنی نوعیت کے اعتبار سے کرکٹ کی خطرناک ترین شکل ہے کیونکہ اوسطاً ایک بلے باز کو اننگز میں صرف تین، چار اوورز کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور اسے اپنی وکٹ سے ویسا لگاؤ نہیں ہوتا جیسا ون ڈے اور بالخصوص ٹیسٹ میں دکھائی دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پہلے 15 اوورز میں صرف دو وکٹیں گنوانے والی ٹیمیں عموماً آخری پانچ اوورز میں پانچ وکٹیں بھی گنوا بیٹھتی ہیں۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین دوسرے ٹی 20 میچ میں جب خالد لطیف رن آوٹ ہوئے اور سرفراز کریز پر آئے تو متوقع یہ تھا کہ پاکستان باقی ماندہ اوورز میں زیادہ سے زیادہ باونڈریز بٹورنے پہ توجہ دے گا کیونکہ اوورز کم اور وکٹیں زیادہ باقی تھی مگر شعیب ملک اور سرفراز نے ہر بال کو میرٹ پہ کھیلا۔

٭ دوسرا میچ جیت کر سیریز بھی پاکستان کے نام

٭ دوسرے ٹی 20 میچ کی تصویری جھلکیاں

وکٹوں کے درمیان دوڑیں بھی بنائیں اور جہاں برا بال ملا اسے باؤنڈری کی سیر بھی کرائی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 139 کے اوسط مجموعے والے گراؤنڈ پہ پاکستان نے 160 رنز کا مجموعہ تشکیل دیا۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ پاکستان کی گیم سینس اور پلاننگ میں حیران کن بہتری آئی ہے۔

کرکٹ نے گذشتہ چند برسوں میں جس تیزی سے اپنے اطوار بدلے ہیں، گیم پلاننگ کی اہمیت کہیں بڑھ گئی ہے۔ پاور پلے متعارف ہوئے، بولنگ میں نئی اختراعات سامنے آئیں، بلے بازوں نے ہاکی اور بیس بال جیسے شاٹس کھیلنا شروع کئے اور کرکٹ اپنے شائقین کے لیے نئی دلچسپیاں اور سنسنی پیدا کرتی چلی گئی۔ اور گیم پلان کی اہمیت بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ کئی ٹیموں نے ڈیتھ اوورز کے لیے الگ بولنگ کوچز رکھنا شروع کر دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مختصر طرز کی کرکٹ میں اب ایسا نہیں رہا کہ ٹاس جیت کر ہی یہ طے کر لیا جائے کہ ہمیں اتنا ہدف سیٹ کرنا ہے

لیکن اس منظرنامے میں پاکستان کا معاملہ قدرے مختلف رہا۔ تاریخی اعتبار سے پاکستان ہمیشہ انفرادی پرفارمنسز کی بنیاد پر جیتنے کا عادی رہا ہے۔ وسیم اکرم، وقار یونس، ثقلین مشتاق، انضمام اور سعید انور جیسوں کو کسی گیم پلان کی ضرورت نہیں ہوا کرتی تھی۔ وہ انفرادی طور پہ اس قابل تھے کہ اپنی پرفارمنس سے میچ کا رخ بدل کے گیم پلان کا تعین کر سکیں۔ سو پاکستان ماڈرن کرکٹ میں بھی اسی ڈگر پہ چلتا آیا جو کہ محدود طرز کی کرکٹ میں اس کے زوال کا باعث بنا۔

لیکن اگر محدود اوورز میں پاکستان کے گذشتہ چار میچز کو مدنظر رکھا جائے تو لگتا یہی ہے کہ کایا پلٹنے کو ہے۔ انگلینڈ کے خلاف آخری ون ڈے میچ کی جیت سے شروع ہونے والا سفر اس کامیابی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ پاکستان ٹی 20 کے عالمی چیمپئینز کو سیریز ہرا چکا ہے۔ اور گذشتہ میچ کی طرح سنیچر کا میچ بھی پاکستان نے خم ٹھونک کر جیتا ہے۔

عمومی طور پہ دیکھا یہ گیا ہے کہ مسلسل ناکامی کا شکار ٹیمیں جب کبھی بہتری کی جانب گامزن ہوتی ہیں تو وہ ایک سست آغاز کرتی ہیں۔ سنسنی خیز لمحات میں محدود مارجن سے جیتتی ہیں، کبھی گر جاتی ہیں پھر سنبھلتی ہیں اور دھیرے دھیرے ایک مکمل ٹیم بن جاتی ہیں۔ مگر پاکستان کے لیے یہ سفر نہایت حیران کن رہا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف آخری ون ڈے میں انھوں نے نہایت اعتماد سے 300 سے زائد ہدف عبور کیا۔ انگلینڈ کے خلاف ٹی 20 میں پاکستان نے ورلڈ کپ کی رنر اپ ٹیم کو یکسر بے بس کر دیا۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف دونوں میچز میں پاکستان کہیں زیادہ بہتر اور پر اعتماد ٹیم دکھائی دی۔ سو آخر ایسا کیا ہوا کہ پاکستان جیسی غیر یقینی ٹیم راتوں رات اتنی مضبوط اور پر اعتماد الیون بن گئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان بطور ٹیم ایک یونٹ ہو کر کھیلا اور جیت میں پوری ٹیم کی کاوش نظر آئی

اس کی بنیادی وجہ بہتر گیم پلاننگ ہے جس میں کوچ مکی آرتھر کی سوچ جھلکتی ہے۔ جدید دور کی مختصر طرز کی کرکٹ میں اب ایسا نہیں رہا کہ ٹاس جیت کر ہی یہ طے کر لیا جائے کہ ہمیں اتنا ہدف سیٹ کرنا ہے۔ اب یہ پلاننگ ہر پانچ دس اوور بعد بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ پاور پلے کے لیے الگ پلان ہوتا ہے۔ مڈل اوورز میں کچھ اور گیم ہوتی ہے۔ آخری دس اوورز کے لیے یکسر مختلف پلان درکار ہوتا ہے۔ اور جو ٹیم جتنی مہارت سے یہ چھوٹے چھوٹے پلان تشکیل دے سکتی ہے وہی ماڈرن کرکٹ میں آگے بڑھ سکتی ہے۔

میچ کے آخری پانچ اوورز کے علاوہ پہلے 35 اوورز میں پاکستان کا گیم پلان ویسٹ انڈیز سے بہتر رہا۔ آخری پانچ اوورز میں نارائن نے میچ میں سنسنی پیدا کی تو وہاب ریاض دباو کا شکار دکھائی دیے۔ ایسی صورت حال میں کپتان کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے کہ وہ پراعتماد رہے اور ٹیم کا مورال گرنے نہ دے لیکن سرفراز قدرے پریشان دکھائی دیے۔

ماڈرن کرکٹ میں ڈیتھ اوورز میں امتحان ٹیلنٹ کا نہیں اعصاب کا ہوتا ہے۔ اور جس مستقل مزاجی سے پاکستان بہتری کی طرف بڑھ رہا ہے، اس پہلو میں بھی ہمیں جلد بہتری کی امید رکھنا چاہیے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان بطور ٹیم ایک یونٹ ہو کر کھیلا اور جیت میں پوری ٹیم کی کاوش نظر آئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں