BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 January, 2009, 15:04 GMT 20:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
آصف امارات میں داخلے پر پابندی
 

 
 
محمد آصف
پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ حکام آصف کیس کی تحقیقاتی رپورٹ کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں
پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آنے کے بعد بھی متحدہ عرب امارات میں داخل نہیں ہوسکتے جہاں سے انہیں افیون کی برآمدگی پر انیس روز حراست میں رہنے کے بعد ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔

دبئی میں محمد آصف سے کی گئی تحقیقات کی دستاویزات کے مطابق دبئی کے پبلک پراسیکیوٹر عصام عیسیٰ الحمیدان نے ڈائریکٹر انوسٹی گیشن اینڈ کرمنل انسپکشن کو تحریر کیا تھا کہ اگرچہ محمد آصف کے خلاف فوجداری کیس درج نہیں کیا گیا ہے لیکن انہیں نہ صرف ڈی پورٹ کردیا جائے بلکہ ان کا نام ان ممنوعہ افراد کی فہرست میں شامل کردیا جائے جن پر امارات میں داخل ہونے کی پابندی ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر کی اس تجویز کی اٹارنی جنرل نے منظوری دیتے ہوئے محمد آصف کو ڈی پورٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔

اگر محمد آصف آئی پی ایل کے ڈرگ ٹریبونل کی جانب سے ڈوپ ٹیسٹ میں بری بھی ہوجاتے ہیں اس صورت میں بھی وہ امارات میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کی وہاں نمائندگی نہیں کرسکیں گے۔

تھوڑی بہت مقدار میں وہ اپنے پاس سے برآمد ہونے والی چیز سال میں ایک مرتبہ ضرورت پڑنے پر بلڈ پریشر کم کرنے اور طاقت کے لیے تھوڑی مقدار میں دودھ کے ساتھ استعمال کرتے رہے تھے

محمد آصف نے دبئی حکام کے سامنے جو بیان ریکارڈ کرایا تھا اس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پاس سے برآمد ہونے والی چیز سال میں ایک مرتبہ ضرورت پڑنے پر بلڈ پریشر کم کرنے اور طاقت کے لیے تھوڑی مقدار میں دودھ کے ساتھ استعمال کرتے رہے تھے۔

جب محمد آصف سے پوچھا گیا تھا کہ کیا اس کے استعمال کے لیے ان کے پاس کسی ڈاکٹر کی ہدایت موجود ہے تو انہوں نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی حکیم سے یہ لیتے رہے ہیں۔

محمد آصف نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ ان سے برآمد ہونے والی چیز منشیات کے زمرے میں آتی ہے۔البتہ دبئی حکام نے ان کے پاس سے برآمد ہونے والی شے کی لیبارٹری جانچ پڑتال کرائی اور دو ماہرین سیف الدین رحیم اوربوتھینا محمود الخویلدی کی جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات درج ہے کہ محمد آصف کے قبضے سے صفر اعشاریہ 24 گرام افیون برآمد ہوئی جس کا شمار متحدہ عرب امارات کے قانون14 مجریہ 1995 اور ترمیمی قانون ایک مجریہ2005 کے تحت منشیات میں ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ حکام آصف کیس کی تحقیقاتی رپورٹ کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد