BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 19:42 GMT 00:42 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’آصف کیس رپورٹ بورڈ کے پاس‘
 

 
 
محمد آصف
پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ حکام آصف کیس کی تحقیقاتی رپورٹ کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے کہا ہے کہ محمد آصف کیس کی رپورٹ پی سی بی کے پاس ہے اور انہیں حیرت ہے کہ پی سی بی کے موجودہ حکام اس کی موجودگی سے کیوں انکار کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ محمد آصف گزشتہ سال بھارت سے پاکستان آتے ہوئے دبئی ائرپورٹ پر ممنوعہ قوت بخش شے کی برآمدگی پر انیس روز حراست میں رکھے گئے تھے جس کے بعد انہیں ڈی پورٹ کردیا گیا تھا اور دبئی حکام کی اس کیس سے متعلق دستاویز میں درج ہے کہ وہ آئندہ متحدہ عرب امارات میں داخل نہیں ہوسکتے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین اعجاز بٹ اور دیگر حکام آصف کیس رپورٹ کی اپنے پاس موجودگی سے لاعلمی ظاہر کرتے آئے ہیں۔

محمد آصف کو سزا کے بغیر وطن واپس بھیجے جانے میں بیک ڈور ڈپلومیسی نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات میں سابق پاکستانی سفیر احسان اللہ خان دبئی کی ایک اعلی سرکاری شخصیت سے بات کرکے محمد آصف کو سزا کے بجائے ڈی پورٹ کرانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

شفقت نغمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دبئی میں محمد آصف کی قانونی معاونت کرنے والی لیگل فرم نے اس کیس کا فیصلہ اور دیگر تفصیلات ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ذاکرخان کو بھیجی تھیں جنہوں نے اس بارے میں انہیں (نغمی ) مطلع کیا کہ محمد آصف پر جرم ثابت ہوگیا ہے اور انہیں ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔اب انہیں حیرت ہے کہ ذاکر خان اس رپورٹ کی موجودگی سے ہی انکار کررہے ہیں۔ممکن ہے وہ اپنی نوکری بچانے کی خاطر ایسا کررہے ہوں۔

شفقت نغمی نے کہا کہ انہوں نے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن اعجاز بٹ سے کہا تھا کہ وہ انہیں چند اہم معاملات پر بریفنگ دیناچاہتے ہیں جن میں آصف کامعاملہ بھی شامل ہے جس پر چیئرمین نے کہا تھا کہ وہ جب ضرورت محسوس کرینگے اس معاملے پر ان سے بات کرلیں گے۔

شفقت نغمی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ چھوڑتے ہوئے وہ دیگر ریکارڈ کے ساتھ ساتھ آصف کیس کی پوری فائل ڈائریکٹر مارکیٹنگ احسن حمید ملک کی موجودگی میں پی سی بی ہیڈکوارٹرمیں چھوڑ آئے تھے۔

شفقت نغمی نے کہا کہ یہ معاملہ سیدھا سادہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ حقائق چھپانے کے بجائے دبئی میں محمد آصف کی قانونی معاونت کرنے والی لیگل فرم سے رابطہ کرکے وہ رپورٹ جو اگر پی سی بی کو نہیں مل رہی تو دوبارہ منگوالے حالانکہ اب تو یہ رپورٹ ذرائع ابلاغ کی زینت بن چکی ہے۔

واضح رہے کہ دبئی کی لیگل فرم نے محمد آصف کیس کا اپنا معاوضہ بھی طلب کررکھا ہے اس بارے میں شفقت نغمی نے کہا کہ چونکہ محمد آصف کا جرم ثابت ہوگیا تھا لہذا وہی اس کیس کے اخراجات ادا کرنے کے پابند ہیں۔

شفقت نغمی ندیم اکرم اور ذاکرخان پر مشتمل انکوائری کمیٹی نے محمد آصف کے لئے ستر لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی تھی لیکن بورڈ میں تبدیلی کے سبب اس سلسلے میں مزید پیش رفت نہ ہوسکی تھی۔

شفقت نغمی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان پر مبینہ طور پر مالی بے ضابطگیوں کے جو سنگین الزامات عائد کئے ہیں اس پر وہ سرکاری افسر ہونے کے ناطے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت قانون سے مشورے کررہے ہیں اور انہی کی بنیاد پر وہ کوئی قدم اٹھائیں گے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد