BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 January, 2009, 21:27 GMT 02:27 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
محمد آصف، نئی کمیٹی تشکیل
 

 
 
محمد آصف
آئی سی سی نے اس کیس کے بارے میں پی سی بی سے معلومات مانگی تھی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بالر محمد آصف کے گزستہ سال دبئی ائیر پورٹ پر حراست میں لیے جانے کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کمیٹی جمعہ سے اپنا کام شروع کر دے گی۔

بورڈ کے ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز اور سابق ٹیسٹ کرکٹر وسیم باری اس کمیٹی کے سربراہ ہیں اور دو ممبران میں پی سی بی کے جرنل مینیجر سپورٹس میڈیسن ڈاکٹر سہیل سلیم اور چئرمین پی سی بی اعجاز بٹ کے خصوصی اسسٹنٹ آصف سہیل شامل ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے دریافت کیا ہے کہ محمد آصف کے دبئی ائر پورٹ پر پکڑے جانے کے معاملے پر پی سی بی نے کیا کارروائی کی ہے۔

سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے انہیں دبئی انتظامیہ کی بنائی گئی رپورٹ بھی بھیجی ہے۔ اس کی روشنی میں پی سی بی کے قانونی مشیر سے مشورہ کیا گیا جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین کی ہدایت پر اس تمام معاملے کی تحقیق کے لیے یہ کمیٹی بنائی گئی ہے۔

سلیم الطاف نے اس بات سے انکار کیا کہ ایسی کسی کمیٹی بنانے کے لیے آئی سی سی نے انہیں کہا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے آئی سی سی نے محض ہم سے یہ دریافت کیا ہے کہ اس سلسلے میں ہونے والی تمام کارروائی سے انہیں آگاہ رکھا جائے۔

گزشتہ سال بھارت میں ہونے والے آئی پی ایل ٹورنامنٹ سے واپسی پر فاسٹ بالر محمد آصف دبئی ائر پورٹ پر کسی ممنوعہ دوا کی برآمدگی پر تقریبا بیس دن دبئی ائر پورٹ کی انتظامیہ کی حراست میں رہے۔

ان کے واپس آنے کے بعد اس وقت کی پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ نے اس تمام معاملے کی تحقیق کے لیے سابق چیف آپریٹنگ آفیسر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی کو دبئی انتظامیہ کی جانب سے بھی ایک تفصیلی رپورٹ ملی تھی۔

تاہم پی سی بی کے سابق چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے استعفے کے سبب یہ کمیٹی اپنی تحقیق جاری نہ رکھ سکی تاہم سابق چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے بارہا کہا کہ دبئی سے موصول ہونے والی رپورٹ پی سی بی کے پاس ہے لیکن پی سی بی کی نئی انتظامیہ کسی بھی رپورٹ کی موجودگی سے انکار کرتی رہی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے چند دن پہلے ہونے والے اپنے اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو دبئی سے آنے والی رپورٹ دی تاہم اس انتظامیہ نے اس کے اصلی ہونے پر شک کا اظہار کیا۔

اب پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آئی سی سی نے انہیں یہ رپورٹ بھیج دی ہے جو اس تحقیق میں کام آئے گی۔

یہ کمیٹی کب تک اپنا کام کر لے گی اس ضمن میں سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کے سبب کچھ وقت لگ سکتا ہے تاہم امید ہے کہ ایک ماہ تک یہ کمیٹی اپنی سفارشات دے دے گی۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد