BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 February, 2009, 10:09 GMT 15:09 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ہاکی کھلاڑیوں کے کنٹریکٹ پرغور
 

 
 
ہاکی
ہاکی فیڈریشن کھلاڑیوں کی فلاح کے لیے کچھ اقدامات کرنا چاہتی ہے
پاکستان ہاکی فیڈریشن ہاکی کے کھلاڑیوں کو کرکٹ کے کھلاڑیوں کی طرح سینٹرل کنٹریکٹ دینے پر غور کر رہی ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری آصف باجوہ کے بقول پاکستان ہاکی فیڈریشن کو مالی مسائل کا سامنا ہے لیکن وہ کھلاڑیوں کی فلاح کے لیے کچھ اقدامات کرنا چاہتی ہے اور سینٹرل کنٹریکٹ دینا اس کی ترجیح ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ابھی ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم اپنے اس منصوبے کو فوری عملی جامہ پہنا سکیں لیکن اس سکیم پر غور شروع ہو چکا ہے۔

ادھر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے چیف سلیکٹر اور ماضی میں پاکستان کے مایہ ناز سینٹر فارورڈ کھلاڑی حسن سردار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کرکٹ کی طرح پاکستانی ہاکی کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیے گئے تو اس کا دو طرفہ فائدہ ہو گا۔

حسن سردار کے بقول سینٹرل کنٹریکٹ ملنے سے ایک طرف تو کھلاڑیوں کو معاشی تحفظ حاصل ہوگا اس کے ساتھ ہی یہ کھلاڑی بھی پاکستان کے لیے کھیلنے کے پاپند ہوں گے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پینیلٹی کارنر لگانے کے ماہر سہیل عباس،وسیم احمد، ریحان بٹ، سلمان اکبر اور کئی سینئر کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے یورپ کے ہاکی کلبز کے ساتھ معاہدے کر رکھے ہیں اور اس وجہ سے وہ پاکستان کے لیے اہم ٹورنامنٹس میں نمائندگی کے لیے دستیاب نہیں ہوتے۔

سینٹرل کنٹریکٹ
 معاہدے کے ذریعے ان کھلاڑیوں کو پابند کرنا چاہیے کہ یہ کم از کم بڑے ٹورنامنٹس جیسے اولمپکس،عالمی کپ، ایشین گیمز، ایشیاء کپ اور چمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کی ٹیم کے لیے دستیاب ہوں
 

حال ہی میں ہالینڈ کے ایک کلب نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو آگاہ کیا ہے کہ ریحان بٹ اور سلمان اکبر ڈچ کلب کے ساتھ معاہدے کے سبب پاکستان کے ایک انتہائی اہم ٹورنامنٹ جو کہ عالمی کپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ ہے کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

حسن سردار کا کہنا تھا کہ ہاکی فیڈریشن کو ایک معاہدے کے ذریعے ان کھلاڑیوں کو پابند کرنا چاہیے کہ یہ کم از کم بڑے ٹورنامنٹس جیسے اولمپکس،عالمی کپ، ایشین گیمز، ایشیاء کپ اور چمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کی ٹیم کے لیے دستیاب ہوں اور پاکستان اپنی پوری طاقت کے ساتھ ایسے ٹورنامنٹس میں شرکت کر سکے۔

پاکستان کی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور اب رکن محمد ثقلین کا کہنا ہے کہ ہاکی فیڈریشن کی یہ سوچ اچھی ہے لیکن اس پر جلد عمل درآمد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس سینٹرل کنٹریکٹ کے ذریعے کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات ملنی چاہیں اور کرکٹ اور ہاکی کے کھلاڑیوں میں مالی لحاظ سے جو اتنا بڑا فرق ہے اسے دور کیا جائے۔

محمد ثقلین کے مطابق اس سے ہاکی کھلاڑیوں کو مالی تحفظ حاصل ہوگا اور بچے کرکٹ کی طرح ہاکی کی طرف راغب ہوں گے۔

محمد ثقلین کا تو یہ کہنا ہے کہ ہمیں بھی اتنی ہی تنخواہ ہاکی فیڈریشن سے ملنی چاہیے جتنی کرکٹ کے کھلاڑیوں کو ملتی ہے لیکن ہاکی فیڈریشن تو ابھی تک اپنی اس سوچ کو معاشی مسائل کے سبب جلد عملی جامہ پہنانے سے عاری ہے اور کرکٹ جتنی تنخواہ تو ممکن نہیں البتہ ہاکی فیڈریشن کی سوچ ہے کہ ہاکی کے کھلاڑیوں کو اے،بی اور سی کیٹیگری میں کنٹریکٹ دیے جائیں۔اے کیٹگری کو پچاس ہزار، بی کو پینتیس اور سی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو پچیس ہزار ماہانہ تنخواہ دی جائے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد