BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 09 February, 2009, 17:26 GMT 22:26 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
چیئرمین کے استعفٰی کا مطالبہ
 

 
 
پی سی بی چیئرمین
’اعجاز بٹ کو فوری طور اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے‘
سینیٹ کی سپورٹس سے متعلق سٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے مالی معاملات پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے چیئرمین اعجاز بٹ کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

سٹینڈنگ کمیٹی نے پیر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے مختلف معاملات کا جائزہ لینے کے لیے موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کو طلب کیا تھا۔ یہ اجلاس تقریباً چھ گھنٹے جاری رہا۔

سینیٹر انور بیگ کا کہنا ہے کہ اگر یہی بورڈ برقرار رہا تو ملک میں کرکٹ تباہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اعجاز بٹ کو فوری طور اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

کمیٹی کے رکن سینیٹر طاہر مشہدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ دعوٰی بالکل بے بنیاد ہے کہ سابقہ حکام کی مبینہ ناقص پالیسیوں کےسبب وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے پہلے یہ کہا تھا کہ اس کے پاس ایک بلین روپے رہ گئے ہیں۔ تنخواہوں اور دیگر ادائگیوں کے بعد بورڈ کی مالی حالت بہت خراب ہو جائے گی لیکن کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس دو اعشاریہ سات بلین روپے ہیں۔

سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے حکام قذافی اسٹیڈیم کے ایک پویلین کی تعمیر کے بارے میں سابقہ حکام کے خلاف اپنے الزام کوبھی درست ثابت نہیں کر سکے۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی کو مبینہ طور پر اس تعمیر کی لاگت بڑھنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ سینیٹر مشہدی نے کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں کرکٹ بورڈ کے حکام یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ پویلین کی تعمیر کی لاگت سنتالیس کروڑ روپے ہوگئی ہے۔

 اس میں کوئی شک نہیں کہ اعجاز بٹ کی تقرری سیاسی ہے لیکن صدر آصف علی زرداری نے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف ہیں اس خیال سے اعجاز بٹ کو یہ ذمہ داری سونپی ہوگی کہ وہ کرکٹ کے حالات درست انداز میں چلائیں گے تاہم کئی عوامل ہیں جو انہیں درپیش رہے ہیں
 
سینیٹر طاہر مشہدی

انہوں نے کہا کہ جب اس بارے میں وضاحت طلب کی گئی تو پی سی بی حکام کا کہنا تھا کہ بورڈ کے ایک ایم اے اردو ملازم نے یہ اعدادوشمار مرتب کرکے دیے تھے۔

شفقت نغمی نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ وہ ہتک عزت کا دعوی کرکٹ بورڈ کے خلاف دائر کریں جو صرف ایک روپے ہوگا کیونکہ ان کے نزدیک بورڈ کی وقعت اتنی ہی ہے۔

سینیٹر طاہر مشہدی کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اعجاز بٹ کی تقرری سیاسی ہے لیکن صدر آصف علی زرداری نے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف ہیں اس خیال سے اعجاز بٹ کو یہ ذمہ داری سونپی ہوگی کہ وہ کرکٹ کے حالات درست انداز میں چلائیں گے تاہم کئی عوامل ہیں جو انہیں درپیش رہے ہیں۔

سینیٹ کی سپورٹس کمیٹی نے سابق کپتان جاوید میانداد کو بھی طلب کیا تھا جنہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے اس موقع پر کہا کہ میانداد نے سولہ لاکھ روپے تنخواہ کا مطالبہ کیا جبکہ وہ سلیکشن کے معاملے میں بھی مداخلت کررہے تھے۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ میانداد کو پانچ لاکھ روپے تنخواہ کی پیشکش کی گئی کیونکہ اس سے زیادہ کا بورڈ متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ میانداد کو ڈائریکٹر جنرل بناتے وقت ہی کنٹریکٹ پر دستخط نہ کرایا جانا بڑی غلطی تھی۔

میانداد نے جو کمیٹی کے اجلاس میں موجود تھے اس بات کی تردید کی کہ وہ زیادہ تنخواہ طلب کررہے تھے۔ انہوں نے چار دسمبر کو جاری کردہ اس سرکلر کی کاپی بھی اجلاس کو دکھائی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ سلیکٹرز، انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈائریکٹرز، کوچ اور مینیجر ان کو جواب دہ ہوں گے لیکن جب انہیں کنٹریکٹ دیا گیا تو اس میں انہیں ڈومیسٹک کرکٹ کا نگراں دکھایا گیا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد