BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 February, 2009, 17:50 GMT 22:50 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’پابندی کے خلاف اپیل کروں گا‘
 

 
 
محمد آصف پاکستان کے ’اٹیک‘ بالروں تھے
پاکستان کے تیز رفتار بالر محمد آصف نے کہا ہے کہ وہ انڈین کرکٹ لیگ کی طرف سے لگائی گئی ایک سالہ پابندی کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

آئی پی ایل کے ڈرگ ٹریبیونل نے مثبت ڈوب ٹیسٹ آنے پر پاکستانی فاسٹ بالر محمد آصف پر ایک سال کی پابندی کی سزا عائد کر دی ہے یہ سزا 22 ستمبر تک ختم ہوگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ محمد آصف پر پابندی کی مدت ختم ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں سنٹرل کانٹریکٹ بھی دے گا اور اگر وہ فٹ ہوئے تو انہیں ٹیم میں بھی رکھنے پر غور کرے گا۔

محمد آصف کا کہنا تھا کہ انہیں اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔ ان کی اپنے وکیل سے بات ہو گئی ہے اور ان کے برطانوی ماہر ڈاکٹر گراہم بھی دو دن تک پاکستان آ رہے ہیں وہ آ کر تمام تفصیلات دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے باقی کھلاڑیوں کی طرح ڈیوڈ ڈائر سے تربیت حاصل کر رہے ہیں اور وہ فٹ ہیں۔محمد آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان پر گزشتہ سال جولائی کو پابندی عائد کی تھی اور اس سال پندرہ جولائی کو ایک سال پورا ہو جائے گا اور انہیں امید ہے کہ انہیں ٹیم میں شامل کر لیا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل ٹریبیونل نے 22 ستمبر تک محمد آصف پر پابندی لگائی ہے اور جب یہ مدت ختم ہو جائے گی تو پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں ٹیم میں شامل کر سکتا ہے۔

اعجاز بٹ نے بدھ کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دبئی میں محمد آصف کو حراست میں لیے جانے پر نہ تو ان کے خلاف کوئی مقدمہ بنا اور نہ ہی انہیں کوئی سزا ہوئی تو پھر اس بناء پر ان پر پابندی کیسے لگائی جا سکتی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے محمد آصف کے رویوں کے سبب پی سی بی کو تجویز دی تھی کہ انہیں ٹیم میں نہ رکھا جائے اس پر اعجاز بٹ کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی کمیٹی کے ہر سوال کا جواب دینے کو تیار ہیں لیکن یہ کمیٹی ہمیں ہدایات دینے کی مجاز نہیں۔

اعجاز بٹ نے اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اٹھائے گئے کئی نکات کا جواب دے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے چارج سنبھالا تو کرکٹ بورڈ کے پاس ایک اعشاریہ چھ ارب روپے تھے۔ کرکٹ بورڈ نے اب تک کی سب سے بڑی بولی پر اپنے نشریاتی حقوق بیچے اور اس کی ایڈوانس رقم اب ہمارے پاس ہے جس کے شامل ہونے سے ہمارے پاس دو اعشاریہ چھ ارب روپے ہیں۔

سینیٹ والوں نے ہمیں اس کامیابی پر شاباش دینے کی بجائے ہم پر اکاؤنٹس کے معاملے میں غلط بیانی کا الزام لگا دیا۔

اعجاز بٹ نے ایک بار پھر دہرایا کہ محمد یوسف عظیم کھلاڑی ہیں لیکن وہ آئی سی ایل چھوڑ کر ہمارے پاس آئیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سال جون سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ان بورڈز کے خلاف کاروائی کا آغاز کر رہی ہے جنہوں نے آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاریوں کو اپنی ٹیم میں رکھا ہے۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ مستعفی ہونے والے ڈائریکٹر جنرل جاوید میاں داد کے معاملے میں جس طرح ان کے بیانات اور سینیٹ کی کمیٹی کے اجلاس دوران کی گئی گفتگو سے تنازعہ پیدا ہوا اس کے بعد وہ انہیں کرکٹ بورڈ میں لینے کے بارے میں سوچیں گے۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ سابق چیف ایگزیکٹو شفقت نغمی کے ہتک عزت کے دعوے کو وہ چیلنج کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ان کے پاس شفقت نغمی کے خلاف کافی شواہد ہیں۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ ٹیم کی کاکردگی بہتر کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ فاسٹ بالنگ، سپن بالنگ اور بیٹنگ کے شعبوں میں خصوصی کیمپ کا انعقاد کرے گا جن میں ماضی کے ماہر کرکٹرز تربیت دیں گے۔

کرکٹ بورڈ کے تمام گزشتہ چئرمینوں کی طرح اعجاز بٹ نے بھی دعوی کیا کہ وہ کرکٹ کا ڈومیسٹک ڈھانچہ بہتر کریں گے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد