ارتقا

  1. ڈینیئل گونزالیز کاپا

    بی بی سی مُنڈو

    خاتون

    اگر بائیولوجی کے اعتبار سے انسان اور بندر ایک دوسرے سے اتنے مماثل ہیں تو کیوں بندروں کی دمیں ہوتی ہیں پر ہماری نہیں؟

    مزید پڑھیے
    next
  2. الیزبتھ پریسٹن

    بی بی سی فیوچر

    فادرہُڈ

    ممالیہ کی چند ہی دوسری انواع ایسی ہیں جو اپنے یا دوسروں کے بچے پالنے میں اتنا وقت صرف کرتی ہیں جتنا ایک باپ کے طور پر انسان کرتا ہے۔

    مزید پڑھیے
    next
  3. MAXIME AUBERT

    اس پینٹنگ کو سلواسی جزیرے پر ایک دور افتادہ وادی کے ایک غار میں دریافت کیا گیا ہے۔ یہ اس خطے میں انسانی آبادی کا قدیم ترین ثبوت ہے۔

    مزید پڑھیے
    next
  4. مائیکل مارشل

    بی بی سی فیوچر

    ارتقا

    ڈارون نے اپنی تصنیفات میں کہیں نہیں لکھا کہ زندگی کا آغاز کیسے ہوا لیکن انھوں نے اپنی نجی زندگی میں اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس سلسلے میں کلیدی دستاویز اُن کا ایک خط ہے جو انھوں نے یکم فروری سنہ 1871 کو اپنے ایک قریبی دوست جوزف ڈالٹن کے نام لکھا تھا۔

    مزید پڑھیے
    next
  5. ریچل نویر

    بی بی سی فیوچر

    خانہ جنگی

    اس بات پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ انسانیت آج کل غیر مستحکم اور غیر یقینی راستے پر ہے لیکن ہم اس نقطے پر پہنچنے کے کتنے قریب ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں؟

    مزید پڑھیے
    next
  6. سائبیریا، روس، کتا

    اس پِلّے کے ڈی این اے کا موازنہ دیگر معلوم جانوروں سے کرنے پر بھی اس کی نوع کا پتا نہیں لگایا جا سکا چنانچہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ شاید جدید کتوں اور بھیڑیوں کے درمیان کی ارتقائی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

    مزید پڑھیے
    next
  7. Video content

    Video caption: ڈارون کا نظریہ ارتقا: کچھ کچھوؤں کی گردن لمبی تو بعض کی چھوٹی
  8. عزیز اللہ خان

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان

    درازندہ، ڈیرہ اسماعیل خان، فوسل، جغرافیہ

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحد کے ساتھ واقع اس خشک پہاڑی علاقے میں 50 سے زائد اقسام کے سمندری حیات کے رکاز یا فوسلز دریافت ہوئے ہیں جنھیں ماہرین لاکھوں سال قدیم قرار دیتے ہیں۔

    مزید پڑھیے
    next
  9. Video content

    Video caption: ڈیرہ اسماعیل خان کے چٹیل پہاڑوں سے سمندری حیات کی باقیات دریافت
  10. روپ کنڈ جھیل

    20ویں صدی کے وسط میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع اس جھیل سے 500 انسانی ڈھانچے ملے تھے۔ 1960 کی دہائی میں ان کی ہڈیوں کا ریڈیو کاربن تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں بہت سی ہڈیاں ایسے انسانوں کی بھی ہیں جو پہلی صدی عیسوی سے تعلق رکھتے تھے۔

    مزید پڑھیے
    next