جانوروں کی فلاح

  1. ریاض سہیل

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    ہاتھی

    سندھ ہائی کورٹ کو اپنی تحریری رپورٹ میں ڈاکٹر فرینک گورٹز نے بتایا ہے کہ سفاری پارک میں موجود سونو ہاتھی جس کو نر سمجھا جاتا تھا وہ دراصل مادہ ہیں۔

    مزید پڑھیے
    next
  2. زاریہ گوروِٹ

    بی بی سی، فیوچر

    مکڑی

    مکڑیوں کو انسان کسی بھی توجیح یا تاسُّف کے بغیر مار دیاتا ہے اور دیکھنے والے بھی برا نہیں مناتے ہیں۔ آخر یہ ایک جاندار مخلوق ہے، لیکن ہم ان سے ہمدردی کیوں نہیں رکھتے ہیں؟

    مزید پڑھیے
    next
  3. محمد زبیر خان

    صحافی

    مادہ بھیڑیا

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی وادی سینگور میں آج کل ایک مادہ بھیڑیے کے چرچے ہیں جو روزانہ رات کو گول نیشنل پارک کے قریب واقع ایک ہوٹل میں آتی ہے اور وہاں چند گھنٹے گزارنے کے بعد واپس جنگل میں چلی جاتی ہے۔

    مزید پڑھیے
    next
  4. Video content

    Video caption: معدومیت کے خطرے کا شکار نایاب ’کھارائی‘ اونٹ
  5. مشرقی انگلینڈ کے وپسنیڈ چڑیا گھر کے تمام جانوروں کا وزن چڑیا گھر کے سالانہ وزن پروگرام میں ہوتا ہے۔ اس وائلڈ لائف پارک میں موجود ساڑھے نو ہزار جانوروں کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے۔

  6. ریاض سہیل

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نوشہرو فیروز

    ڈاکٹر

    ’میں نے فیصلہ کیا کہ اگر لوگوں کے بارے میں سوچوں گی تو آگے نہیں بڑھ سکوں گی پھر میں نے یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ 'لوگ کیا کہیں گے'، اب میں اپنے دل کی بات سُنتی ہوں اور دل سے کام کرتی ہوں۔‘

    مزید پڑھیے
    next
  7. Rani standing with another cow

    بنگلہ دیش کی صرف 51 سینٹی میٹر کے قد کی اس گائے کو دیکھنے ہزاروں لوگ اس کے فارم پر جا چکے ہیں۔

    مزید پڑھیے
    next
  8. سرنجنا تیواری

    بی بی سی نیوز

    ہاتھی

    چینی میڈیا نے ان ہاتھیوں کے سفر پر مسلسل نظر رکھی ہوئی ہے اور یہ جھنڈ چین سے باہر بھی انٹرنیٹ پر بہت مشہور ہو گیا ہے۔

    مزید پڑھیے
    next
  9. سوتک بسواس

    بی بی سی نامہ نگار، انڈیا

    Cheetah running

    اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو آٹھ چیتے جن میں پانچ نر اور تین مادہ شامل ہیں، رواں برس نومبر میں جنوبی افریقہ سے ہزاروں میل کا سفر طے کر کے انڈیا کے ایک وسیع و عریض نیشنل پارک میں اپنے نئے گھر پہنچیں گے۔

    مزید پڑھیے
    next
  10. محمد زبیر خان

    صحافی

    ریچھ

    ڈبو نامی اس ریچھ کی جائے پیدائش پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم ہے مگر اسے اپنی ماں اور اپنے گھر سے دور راولپنڈی میں ایک خاتون کو بیچا گیا تھا اور اس کی یہ تکلیف ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں منظر عام پر آئی تھی۔

    مزید پڑھیے
    next