تحریکِ طالبان پاکستان

  1. جنرل فیض

    پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتے، وہ اپنے فائدے کو جانتے ہیں اور ایسا بالکل نہیں ہے کہ انھیں جا کر کچھ بھی کہا جائے تو وہ فوراً مان جائیں گے۔

    مزید پڑھیے
    next
  2. شاہ محمود قریشی

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی کی جانب سے پاکستانی طالبان کو مشروط معافی دیے جانے کے بیان کے جواب میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ 'معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے اور ہم نے کبھی دشمن سے معافی نہیں مانگی‘۔

    مزید پڑھیے
    next
  3. عزیز اللہ خان اور عابد حسین

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    شدت پسند، تحریک طالبان پاکستان

    گذشتہ سالوں میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی آپریشنز کے نیتجے میں کالعدم تنظیم کو شدید نقصان پہنچا تھا اور ان کی کارروائیوں میں واضح کمی آئی تھی تاہم پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے آٹھ مہینوں میں تحریک طالبان پاکستان نے اب تک 78 حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تو کیا یہ سب محض پروپیگینڈا ہے یا معاملہ کچھ اور ہے؟

    مزید پڑھیے
    next
  4. عبدالسید

    محقق و تجزیہ کار، سویڈن

    اسامہ بن لادن

    آج دیکھا جائے تو طالبان نوے کی دہائی کی طرح تنظیمی، سیاسی اور عسکری لحاظ سے اتنے کمزور نہیں کہ القاعدہ اُن کے احکامات کو نظر انداز کر سکے اور نہ ہی آج القاعدہ کو افغانستان کی سرزمین سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ماضی جیسے حملوں کی ضرورت ہے۔

    مزید پڑھیے
    next
  5. افغانستان

    اگرچہ مغربی ممالک کے پاس مصدقہ اطلاعات تھیں کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ خراسان کی جانب سے کابل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، پھر بھی اس کے حملہ آور کابل کے ہوائی اڈے اور اس کے قریب واقع بیرن ہوٹل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    مزید پڑھیے
    next
  6. ملالہ

    نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ نو سال کے بعد وہ ابھی تک صرف ایک گولی سے ہی صحت یاب ہو رہی ہوں جبکہ افغانستان کے لوگوں نے پچھلی چار دہائیوں میں لاکھوں گولیاں کھائی ہیں اور ان کا ان لوگوں کے لیے ٹوٹ جاتا ہے جن کے نام ہم بھول جائیں گے یا انھیں کبھی پہچان بھی نہیں سکیں گے اور جو مدد کے لیے پکار رہے ہیں لیکن ان کی مدد کے لیے کوئی نہیں پہنچ سکے گا۔

    مزید پڑھیے
    next
  7. محمد کاظم، عزیز اللہ خان

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    افغانستان

    افغانستان میں طالبان کے قبضے کے دوران کئی شہروں کی جیلوں سے قیدیوں کو آزاد کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق اب تک ہزارں کی تعداد میں قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے، جن میں داعش، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے عہدیدار اور کارکن بھی شامل ہیں۔

    مزید پڑھیے
    next
  8. سحر بلوچ

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    کرم

    سنہ 1980 میں افغان پناہ گزین کے آنے سے کرّم کی آبادی میں ایک واضح فرق رونما ہوا۔ مذہب، جو اس سے پہلے زیادہ توجہ کا مرکز نہیں ہوتا تھا، وہ آہستہ آہستہ افغان جہاد کی نظر ہو گیا جس کے نتیجے میں مذہب سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہونا شروع ہو گیا اور مذہب کا نام استعمال کرنے والوں کو وہ خصوصی طاقت مل گئی جو اس سے پہلے ان کے پاس نہیں تھی۔

    مزید پڑھیے
    next
  9. محمد حنیف

    صحافی و تجزیہ کار

    طالبان

    لیکن وہ دن آیا چاہتا ہے کہ جب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا طالبان ہمارا اثاثہ ہیں یا ہم طالبان کا اثاثہ بن چکے ہیں اور جب وہ پہاڑوں سے اتر کر ہمیں بہتر مومن بنانے کے لیے ہماری مسجدوں اور سکولوں کا رخ کریں گے تو اللہ اکبر کا پہلا نعرہ وہ لگائیں گے یا ہم۔ پڑھیے محمد حنیف کا کالم۔

    مزید پڑھیے
    next
  10. مولانا مظہر سعید شاہ

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں علما و مشائخ کی مخصوص نشست تنازع کا شکار ہوگئی ہے۔ اس نشست پر کامیاب ہونے والے امیدوار پر الزام ہے کہ وہ ماضی میں وقتاً فوقتاً پاکستان کی کالعدم تنظیموں کے علاوہ افغان طالبان کے عہدے دار رہے ہیں۔

    مزید پڑھیے
    next