سیاحت

  1. بلال کریم مغل

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد

    اگر آپ سیر کے لیے اسلام آباد آئے ہیں تو شاید آپ کے ذہن میں قابلِ دید مقامات میں فیصل مسجد اور دامنِ کوہ کے نام ہوں گے لیکن پاکستان کے اس دارالحکومت میں کچھ ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں عام سیاح نہیں جاتے۔

    مزید پڑھیے
    next
  2. ریاض سہیل

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ننگر پارکر

    تھر

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائے تھر کا شمار دنیا کے بڑے صحراؤں میں ہوتا ہے، اسے انسان دوست صحرا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ دیگر صحرائی علاقوں کے مقابلے میں یہاں رسائی آسان ہے۔

    مزید پڑھیے
    next
  3. ایڈریئن برن ہارڈ

    بی بی سی ٹریول

    بائیا، رومی سلطنت کا لاس ویگس

    ان محل نما گھروں کے مکین یہاں اپنی نفسانی خواہشوں کو تصور کی آخری حد تک پورا کرتے تھے، ایک رئیس نے تو ایسا راحت کدہ بنوایا جس میں جنسی لذتوں کا اظہار کرتے سنگ مرمر کے مجسمے نصب تھے۔

    مزید پڑھیے
    next
  4. کریم الاسلام

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاڑکانہ

    موئن جو دڑو

    اگر آپ نے موئن جو دڑو جانے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو 20 روپے کا نوٹ رکھنا نہ بھولیں۔ جب سیر کرتے کرتے آپ حمام کے قریب پہنچیں گے تو بائیں ہاتھ پر سٹوپا کی طرف مڑیں اور نوٹ پر بنا منظر آپ کے سامنے آ جائے گا۔

    مزید پڑھیے
    next
  5. پیٹرا

    یہ قدیم شہر وادی موسیٰ میں پہاڑوں کو کھود کر بنایا گیا ہے۔ چٹانوں کے منفرد رنگ کی وجہ سے ’روز سٹی‘ بھی کہلانے والے اس شہر کو مشرق وسطیٰ میں سیاحوں کے لیے محفوظ مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    مزید پڑھیے
    next
  6. سعودی گل پوش

    سعودی جنوب مغربی صوبے عسیر کے قحطانی قبیلے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے بیٹے اسماعیل کے خاندان سے ہیں اور ملک کے قدیم ترین سماج میں سے ایک ہیں۔

    مزید پڑھیے
    next
  7. وینس، اٹلی

    گذشتہ پانچ دہائیوں میں آنے والی سب سے بڑی مدوجزر کے بعد اٹلی کے شہر وینس کا 80 فیصد حصہ زیر آب آ چکا ہے، لہروں کی اونچائی 1.87 میٹر یا چھ فٹ تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

    مزید پڑھیے
    next
  8. عمران خان

    عمران خان نے گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی نئے سرے سے تعمیر اور انڈین یاتریوں کے لیے تیار کی گئی راہدرای کا افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر بات چیت سے حل ہو سکتا ہے۔ کشمیر میں 80 لاکھ لوگوں کے تمام انسانی حقوق ختم کرکے انھیں نو لاکھ فوج سے بند کیا ہوا ہے۔

    مزید پڑھیے
    next