علمِ فلکیات

  1. آئی ایس ایس

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس چھوٹی سے غلطی سے کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آ سکتا تھا تاہم مشن کنٹرول میں موجود اہلکاروں نے خلائی سٹیشن کے ایک اور حصے پر نصب راکٹ چلا کر آئی ایس ایس کی حرکت پر قابو پا لیا۔

    مزید پڑھیے
    next
  2. An area on Mars nicknamed the “Cratered Floor Fractured Rough”

    امریکی خلائی ایجنسی کا پرسیورینس روور مریخ کی چٹان کا پہلا نمونہ لینے کے لیے تیار ہے جسے تحقیق کے لیے زمین پر لایا جائے گا۔

    مزید پڑھیے
    next
  3. سریشا

    بندلا خلائی سائنس میں دلچسی رکھتی تھیں، انھوں نے اپنی ابتدائی دلچسپی کو آگے بڑھایا اور اب وہ ورجن گیلیکٹک کے سرکاری امور کی نائب صدر کے طور پر کام کرتی ہیں۔

    مزید پڑھیے
    next
  4. جوناتھن ایموس

    بی بی سی سائنس رپورٹر

    Akatsuki image of Jupiter

    گذشتہ سال اس حوالے سے ایک نئی امید پیدا ہوئی تھی کہ سیارے زہرہ کے ماحول میں مائیکروآرگنزمز ہو سکتے ہیں کیونکہ وہاں پر فوسفین گیس کی کافی مقدار پائی گئی تھی۔

    مزید پڑھیے
    next
  5. The Oort Cloud is thought to consist of billions, if not trillions, lumps of ice and rock that formed at around the same time as the planets (Credit: Pablo Carlos Budassi)

    ہمارے نظام شمسی کے سرد اور سیاہ ترین حصوں میں سے ایک میں، جہاں ابھی تک انسان کا بنا ہوا خلائی جہاز نہیں پہنچا، عجیب طرح کا بادل ہے جس میں دوسرے ستاروں کے حصے موجود ہیں۔

    مزید پڑھیے
    next
  6. جوناتھن ایموس

    بی بی سی سائنس نامہ نگار

    Annular eclipse

    اس مخصوص موقعے کو اینیولر گرہن ہوگا یعنی چاند زمین اور سورج کے درمیان سے گزرے گا مگر اس کی روشنی کو مکمل طور پر بلاک نہیں کرے گا۔

    مزید پڑھیے
    next
  7. ناسا

    جوپیٹر یا مشتری کے چاند گانیمید کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی سطح پر برف کے نیچے پانی کے بحر ہونے کا امکان ہے۔

    مزید پڑھیے
    next
  8. زہرہ

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اعلان کیا ہے کہ وہ نظام شمسی کے گرم ترین سیارے زہرہ پر اگلے چند برسوں میں دو مشن بھیجیں گے جن کا مقصد سیارے کے ماحول اور جغرافیہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہو گا۔

    مزید پڑھیے
    next
  9. Self portrait of Nasa’s Perseverance Mars rover with the Ingenuity helicopter, on 6 April 2021

    ناسا کا پرسیویرینس روور مریخ پر لینڈ کرنے کے بعد وہاں اپنا 100واں دن منا رہا ہے۔ یہ روور مریخ پر ماضی میں زندگی کے آثار کے حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے جس میں سیارے کی ارضیاتی ساخت اور اس کے ماحول کے حوالے سے انتہائی اہم معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔

    مزید پڑھیے
    next
  10. The brightness of 'Oumuamua was found to fluctuate at regular intervals, suggesting that it's rotating and either highly elongated or disc-shaped (Credit: Alamy)

    ماہرین فلکیات نے پچھلی کئی دہائیاں ہمارے نظام شمسی سے باہر کے کسی مادے کی تلاش میں گزاری ہیں جو ہمارے نظام شمسی میں داخل ہوا ہو۔ دہائیوں کے انتظار کے بعد اچانک دو چیزیں آن پہنچیں۔ ہمیں اگلی کسی چیز کے ملنے کی توقع کب تک کرنی چاہیے؟ اور یہ مادے ہمیں کیا معلومات فراہم کر سکتے ہیں؟ُ

    مزید پڑھیے
    next