صبح خیزی کتنی فائدہ مند ہے؟

سحرخیزی تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

بچپن سے ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ کامیاب ہونا ہے تو صبح سویرے اٹھیں۔

صبح جلدی بستر چھوڑنے سے زیادہ کام ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیوں کے سی ای او اور مشہور شخصیات بھی ایسا کرتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سحر خیزی سے صحت اچھی رہتی ہے۔ آپ خوش رہتے ہیں اور زندگی پر آپ کا کنٹرول رہتا ہے۔

اس قسم کی اچھی باتوں کے باوجود صبح سویرے اٹھنے سے کوئی جادو نہیں ہوتا نہ ہی اس سے ٹائم مینجمنٹ کا مسئلہ حل ہوتا ہے بلکہ بعض افراد پر تو اس کا الٹا اثر بھی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اچھی نیند کے چھ نسخے

’بے خوابی اور جلد موت میں کوئی تعلق نہیں‘

نیند کی کمی سے زیادہ بھوک کیوں لگتی ہے

کامیابی اس معمول کی تلاش میں ہے جو آپ کے موافق ہو۔ یہاں چند بروقت تجاویز دی جارہی ہیں جو آپ کے بیدار ہونے کے مناسب وقت کو طے کرنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سحرخیزی کے فوائد

اس کے کئی فوائد ہو سکتے ہیں۔ کم از کم ان لوگوں کے خیال میں جو سحر خیز ہیں۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ صبح دم بھٹکانے والی چیزیں کم ہوتی ہیں۔ گھر کے بچوں یا دوسرے لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت میسیجز اور ای میلز بھی کم آتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے سی ای او ٹِم کُک کہتے ہیں کہ وہ صبح چار بجے اٹھتے ہیں اور کیلیفورنیا میں رہنے کے بعد بھی مشرقی ساحل پر رہنے والے اپنے ساتھی سے پہلے ای میلز دیکھتے ہیں۔

کیلیفورنیا میں جب صبح کے 3:45 بجتے ہیں تو امریکہ کے مشرقی ساحل پر 6:45 بج رہے ہوتے ہیں۔

معروف میڈیا پرسن اور اداکارہ اوپرا ونفری روزانہ صبح چھ بجکر دو منٹ پر بیدار ہوتی ہیں۔ مراقبے اور ورزش کے بعد نو بجے سے اپنا کام شروع کرتی ہیں۔

ہالی وڈ سٹار مارک والبرگ تو سحر خیز کے بجائے شب بیدار لگتے ہیں۔ وہ صبح ڈھائی بجے ہی جاگ جاتے ہیں۔ ورزش کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں۔

چند مطالعوں میں یہ کہا گیا ہے کہ سحر خیزی اور کامیابی حاصل کرنے میں روابط ہوسکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC FUTURE

جو لوگ جلدی اٹھتے ہیں ان کا روایتی کارپوریٹ شیڈول کے ساتھ اچھا تال میل رہتا اور وہ فعال ہوتے ہیں۔

سکول کالج میں ان کے گریڈ بہتر ہوسکتے ہیں اور انھیں بڑی تنخواہ بھی مل سکتی ہے۔

لیکن اگر آپ صبح صبح جلدی نہیں اٹھ سکتے تو آپ کچھ نسخے آزما سکتے ہیں۔

صبح سویرے ورزش کرنے اور جلد از جلد سورج کی روشنی میں آنے سے میٹابولزم میں اضافہ ہوتا ہے جسم کو گرم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

لیکن الارم کی مدد سے بیدار ہونا سب کے لیے مناسب نہیں۔ اگر آپ سحر خیز نہیں ہیں اور زبردستی ایسا کر رہے ہیں تو اس کا نقصان ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہالی وڈ سٹار مارک والبرگ کہتے ہیں کہ وہ ڈھائی بجے ہی بیدار ہو جاتے ہیں

کیا سب کو جلدی اٹھنا چاہیے؟

نہیں۔ سحرخیزی سے آپ زیادہ کارگر ہوسکتے ہیں اس کا دارومدار دراصل آپ کے جین پر ہوتا ہے۔

کئی مطالعوں سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگ صبح زیادہ الرٹ رہتے ہیں جبکہ بعض رات کے وقت ہشاش بشاش رہتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی تیزی اور ذہنی صلاحیت دوپہر کے بعد سب سے زیادہ ہو۔

نیچر کمیونیکیشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے۔

سات لاکھ سے زائد لوگوں کے اعداد و شمار کے مطالعے کے بعد محققین نے 350 جینیاتی عوامل کی نشاندہی کی ہے جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کوئی شخص صبح کو زیادہ توانا محسوس کرتا ہے یا پھر رات کو۔

نمونے کے سائز کے اعتبار سے یہ اس قسم کی سب سے بڑی تحقیق ہے۔ اگرچہ اس کے نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

لہذا اگر آپ قدرتی طور پر سحر خیز نہیں ہیں اور آپ جلد اٹھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے آپ کو نقصان ہو سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کے جلدی بیدار ہونے کی ذاتی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

مانچسٹر یونیورسٹی میں ورک سائیکالوجی کی پروفیسر میریلن ڈیوڈسن کہتی ہیں کہ سحرخیزی اور جلدی کام شروع کرنے کے دوسرے عوامل بھی ہوسکتے ہیں جیسے جوش و خروش اور ملازمت پر اطمینان وغیرہ۔

چھوٹے بچوں کے والدین اور غیر روایتی کام کے گھنٹوں کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے پاس یہ چھوٹ نہیں ہوتی کہ اپنا دن کب شروع کریں۔

اہم بات یہ ہے کہ جلدی بیدار ہونے سے فوری طور پر دفتر میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی ہے۔ بعض اوقات اس کے منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا جلدی اٹھنے کے نقصانات بھی ہیں؟

جی ہاں۔ اگر آپ عام طور پر سحر خیز نہیں ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیت میں اضافے کے لیے ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ممکنہ طور پر اس کے نقصان ہو سکتے ہیں۔

امریکہ میں جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ریچل سلاس نیند کی بیماریوں کے ماہر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی کی نقل میں ہفتے کے دو دن صبح پانچ بجے اٹھنے کی کوشش کریں گے تو آپ اپنے جسم کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔

رات بھر کی نیند لینا اور ایک مقررہ وقت پر جاگنا اور سونا دونوں اہمیت کے حامل ہیں۔

اس سے بھی زیادہ نقصان دہ صبح جلدی جاگنے کے لیے نیند میں کمی کرنا ہے۔ نیند میں کمی کرنے کا مطلب اس کے منفی اثرات کو مدعو کرنا ہے۔

اس سے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت میں کمی ہو سکتی ہے، بیچینی ہو سکتی ہے۔ دل کی بیماری اور ہائی بلڈ پریشر کا بھی خطرہ رہتا ہے۔

لہذا اگر آپ کو سحر خیزی کے لیے نیند میں کمی کرنی پڑ رہی ہے تو اس سے پرہیز کریں۔

سلاس کے پاس بہت سے ایسے مریض آتے ہیں جنھوں نے نوجوانی کے دنوں میں نیند میں کٹوتی کی تھی۔ جب وہ بڑے ہو ئے، طرز زندگی بدلی، ان کے بچے ہوئے تو انھیں مشکلات ہونے لگيں۔

انگلینڈ کے شہر لوٹن میں بیڈفورڈ شائر یونیورسٹی کے پروفیسر گیل کن مین کہتے ہیں کہ اگر آپ صبح جلد کام شروع کرتے ہیں تو آپ کو جلد ہی کام ختم کرنا ہوگا۔ نہیں تو آپ کو صبح اٹھنے کا حقیقی فائدہ نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ جو ہائی پروفائل کاروباری صبح جلد اٹھتے ہیں، دیر تک دفتر میں رہتے ہیں یا رات میں بھی ای میل پر دستیاب ہیں، وہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز نے حال ہی میں 'پرفارمیٹو ورکاہولزم' کی اصطلاح ایجاد کی ہے۔ یہ ان کے لیے ہے جو صبح اٹھنے اور رات دیر گئے تک کام کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور یہ مثبت مثال نہیں ہے۔

کِن مین نے کہا: 'سی ای اوز ملازمین کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ ان کے اس قسم کے رویے کو ضروری سمجھنا غیر ذمہ دارانہ فعل ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آپ کیا کرنا چاہیے؟

ماہرین کا خیال ہے کہ کسی کی بات میں نہ آ جائیں بلکہ خود آزمائيں۔ معلوم کریں کہ آپ کے لیے بہترین کیا ہے۔ شاید سحر خیزی آپ کے لیے مفید نہ ہو۔

غور کریں کہ آپ کب تھکا ہوا اور کب تروتازہ محسوس کرتے ہیں۔

چھٹی ملنے پر یہ دیکھیں کہ آپ کو کب نیند آتی ہے اور کب آنکھ خود ہی کھل جاتی ہے۔ اپنے روزانہ کے معمول کو اسی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔

اس طرح آپ اپنی قدرتی توانائی کا پوری طرح استعمال کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

اگر معاملہ کسی دفتر یا ٹیم کا ہے، تو ماہرین کا مشورہ ہے سب لوگوں کی عادات کے حساب سے بہترین کارکردگی کے لیے ایڈجسٹمنٹ ہونی چاہیے۔

نیویارک یونیورسٹی میں مینجمنٹ کمیونیکیشن پروگرام کی ڈائریکٹر سوزین سٹیلک کا مشورہ ہے کہ دفاتر اور ٹیموں کو 'ایپریشی ایٹِو انکوائری' یعنی تعریفی تحقیقات کی تکنیک کا استعمال کرنا چاہیے۔

اس میں کسی منصوبے کے آغاز میں ہی تمام لوگ ساتھ بیٹھ کر اپنی ذاتی ضروریات، معمولات اور ترجیحات پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں تاکہ ٹیم میں ربط پیدا کیا جا سکے۔

مثال کے طور پر، اگر کسی کا بچہ چھوٹا ہے، اسے صبح پانچ بجے ہی اٹھنا پڑتا ہے اور بچے کو 'ڈے کیئر' میں رکھنا ہوتا ہے تو وہ دیر تک نہیں رک سکتا۔ ٹیم میں اسے ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے۔

اگر ٹیم کے رہنما کا رویہ لچکدار ہے تو صبح جلدی کام شروع کرنے والے کو دوپہر میں جلدی گھر بھیجا جا سکتا ہے۔

اس طرح کام کرنے والے لوگوں کو جلد اٹھانے کا فائدہ بھی ملے گا اور وہ تھکاوٹ سے بھی بچیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خود کو پہچانیے

جن کے لیے علی الصبح بیدار ہونا اچھا ہے وہ بیدار ہوں تو بہتر ہے لیکن تخلیقی صلاحیت میں اضافے کے چکر میں سب کو صبح جگانے کا فائدہ نہیں ہے۔

اپنی نیند کی عادات کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ آپ بھرپور نیند لیں اور اس میں کٹوتی نہ کریں۔

سورج طلوع ہونے س قبل ہی صرف اس لیے اٹھ بیٹھنا کہ آپ کے مثالی کاروباری ایسا کرتے ہیں دن کے آغاز کا سب سے سمارٹ طریقہ نہیں ہے۔

کِن مین متنبہ کرتی ہیں کہ 'اگر آپ سحر خیز نہیں تو ایسا بالکل نہ کریں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں