آپ اچھے سیاح کیسے بن سکتے ہیں؟

استنبول کا بڑا بازا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ آپ کا سیاحتی مقام ہے یا ہمارا مقامی بازار، استنبول کے بڑے بازار میں روزانہ چار لاکھ لوگ آتے ہیں

'اب زیادہ لوگ سفر کرتے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے لیکن اب ایسی اچھی جگہیں بھی باقی نہیں رہ گئی ہیں جہاں کوئی گیا نا ہو۔‘

یہ تبصرہ میں نے گذشتہ ماہ ڈبلن میں اس وقت سنا جب میں امیگریشن والی قطار میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔ مسافر کروشیا کے جنوبی ساحلی شہر ڈبرووِنک کے بارے میں بات کر رہے تھے کہ اب تمام سیاحتی مقامات کس قدر بھیڑ والے ہو چکے ہیں۔

اس بات نے میرے خیالات کو بہت متاثر کیا۔ یہ بات سچ ہے کہ اب زیادہ لوگ سفر کررہے ہیں جو کہ اچھی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر میں برفباری نے سیاحت کو زندہ کردیا

بارسلونا سمیت مختلف شہروں میں سیاحوں کے خلاف مہم

’ویزے کی مشکلات سیاحوں کو راغب کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ‘

لوگ اپنے دائرہ نظر کو وسیع کر رہے ہیں لیکن ایسے میں 'پوشیدہ جواہرات' یعنی اہم اور قابل دید مقامات کی فہرست روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے اور لوگوں کا ان مقامات کی فہرست پر ’دیکھ لیا‘ کا نشان لگانے والا رویہ سیاحت کو ایک حد سے زیادہ بڑھا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سیاحت ک مخالفت کرنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ سیاحت سے ان کے شہر مر رہے ہیں لیکن دیہی علاقے بھی اس کے دباؤ سے بچے نہیں رہے

مسئلہ کیا ہے؟

حد سے زیادہ سیاحت عالمی مسئلہ ہے۔ پیرو کا ماچو پِیچو ہو یا سکاٹ لینڈ کا قابل دید جزیرہ سکائی، جاپان کے کیوٹو میں جاپانی رقاصہ کا علاقہ جیئن ہو یا ایمسٹرڈم کے قحبہ خانے کا علاقہ، وینس کی نہریں ہوں یا کیلیفورنیا کے بڑے بڑے پوست کے کھیت، تھائی لینڈ کی خلیج مایا جو کہ اب سیاحوں کے لیے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے ہو یا پیرس کا لوو میوزیم جو قلیل وقت کے لیے بند رہنے کہ بعد پھر سے کھول دیا گیا ہے۔ زیادہ بھیڑ کے سبب وہاں کے ملازمین نے واک آؤٹ کیا تھا اور اسی لیے یہ کچھ عرصے تک بند رہا۔

ان تمام مقامات پر حد سے زیادہ مقامی اور غیرملکی سیاح آتے ہیں جن کا بوجھ وہ سہار نہیں سکتے۔

پاکستان میں سیاحت کے بارے میں

وادئ کُمراٹ: ’یہاں تو پانی کا شور بھی سکون دیتا ہے‘

سون سکیسر: ’اتنی حسین جھیلیں لیکن بندہ نہ بندے کی ذات‘

جب سمندر، پہاڑ اور صحرا ایک جگہ ہوں!

’پاکستان سفر کرنے کے لیے آسان ملک نہیں‘

باہر سے آنے والوں کے سبب بھیڑ اور گندگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ ماحولیات کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مقامی تہذیب و ثقافت کی تعظیم نہیں کرتے، مدہوش ہو جاتے ہیں یا چھچھورے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں، چیزوں کو غیر مناسب طور سے چھوتے اور لیتے ہیں اور کرایوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

ان سب کے باوجود سفر اور سیاحت کے لیے کسی کی حوصلہ شکنی نہیں کی جانی چاہیے تو پھر ایسے میں آپ کس طرح بہتر سیاح بن سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیا کمبوڈیا کا اینگکور واٹ اس بڑی سیاحت سے بچ سکتا ہے؟ کمبوڈیا کا اینگکور واٹ مندر جس کے کلس سے سورج کو طلوع ہوتے دیکھا جا سکتا ہے

میں وہاں کیوں جانا چاہتا ہوں؟

سنہ 2013 میں صحافی الزبتھ بیکر نے اپنی کتاب 'اوور بُکڈ: دی ایکسپلوڈنگ بزنس آف ٹریول اینڈ ٹورزم' حد سے زیادہ سیاحت کے مسئلے پر بحث کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ '(اس وقت) میں جو کہہ رہی تھی کوئی نہیں سمجھ رہا تھا۔ لیکن اب یہ حقیقت ہے اور دنیا بھر کے شہر اس کی زد میں ہیں۔'

اقوام متحدہ کی ورلڈ ٹورزم آرگنائزیشن کی جنوری کی ایک رپورٹ کے مطابق 2018 میں بین الاقوامی سطح پر سیاحوں کی تعداد ایک ارب 40 کروڑ رہی۔

سنہ 1950 میں یہ تعداد محض ڈھائی کروڑ تھی جبکہ 1998 میں یہ 60 کروڑ سے ذرا زیادہ تھی اور 2008 میں یہ 93 کروڑ 60 لاکھ رہی۔ اب یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2030 تک یہ تعداد ایک ارب 80 کروڑ پہنچ جائے گی۔

سیاحت میں اس بڑے اضافے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں ترقی پزیر متوسط طبقے، سستے ہوائی ٹکٹ، حکومتوں کی جانب سے سیاحت سے متعلق بڑے اہداف اور سوشل میڈیا کے ذریعے ابھارے جانے والے فومو جس میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے یعنی کہیں ہم کوئی خاص پروگرام میں شرکت سے نہ رہ جائيں وغیرہ شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption کیا آپ اس طرح پیرو کے مشہور ماچو پکچو میں داخل ہونا چاہیں گے۔ اب یہاں روزانہ ڈھائی ہزار لوگوں کو ہی داخل ہونے کی اجازت ہے۔

اپنا کردار ادا کرتے ہوئے یہ جانچنا آپ کے لیے ضروری ہو کہ آخر آپ وہاں کیوں جانا چاہتے ہیں۔

مئی میں میرا برلن کی دیوار کے مشرقی حصے کی سمت میں چلنا ہوا۔ یہ مشرقی حصہ کبھی کمیونسٹوں کا تھا اور یہ شہر کو 12 فٹ اونچی کنکریٹ کی دیوار سے تقسیم کرتا تھا۔

دیوار کے منہدم کیے جانے سے قبل اس پر کسی قسم کے سیاسی اور ثقافتی علامات کا بنانا یا لکھنا ممنوع تھا۔ لیکن اب یہ 1.3 کلومیٹر طویل سٹریٹ آرٹ اور نقش دیوار کی گیلری ہے جو کہ شہر کے ایک ہونے کے بعد آزادی کو پیش کردہ خراج عقیدت ہے۔

لیکن وہاں کھڑے ہو کر اس مقام کی خوبصورتی اور علامات کی قدر کا اندازہ لگانا بہت مشکل کام ہے کیونکہ تین جگہ نوجوان سیاح بڑے نئے انداز میں فوٹو شوٹ کر رہے تھے جس کی وجہ سے بڑا حصہ ان کے قبضے میں تھا۔

مقامی اور ساتھی سیاح کو وہاں سے گزرنے میں جدوجہد کرنی پڑ رہی تھی کیونکہ بہت سے لوگ خود میں مگن نظارہ بنے ہوئے تھے۔

یورپی ٹریول کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایڈورڈو سینٹینڈر نے کہا: 'سوال یہاں یہ ہے کہ کیا آپ واقعی وہاں جانا چاہتے ہیں یا لوگوں کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ آپ وہاں گئے تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آپ وائلڈ لائف کے نظارے کے لیے گیلاپاگوس جانا چاہیں گے لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے وہاں جانے سے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

صحافی بیکر کا خیال ہے کہ 'نصف وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو سفر کا سطحی تجربہ اس لیے ہے کہ انھوں نے سطحی منصوبہ بنایا ہے۔'

وہ کہتی ہے کہ 'آپ کو کسی گائڈ بک سے ایک پیرا گراف پڑھنے یا کسی دوست کے فیس بک پوسٹ پر کچھ دیکھنے کے بعد کسی شہر میں اتر پڑنے اور وہی سیلفی لینے جو انھوں نے لی تھیں کے بجائے کچھ محنت کرنی چاہیے۔‘

'نہیں تو آپ وہی کر رہے ہوں گے جو سیاحت سے مغلوب لوگ کرتے ہیں اور جو کہ حد سے زیادہ سیاحت کی علامات ہیں جیسے بھیڑ بڑھانا اور مقامی لوگوں کو پریشان کرنا۔'

دوسری حکمت عملی یہ ہے آپ خود سے یہ پوچھیں کہ آپ واقعی کیا کرنا اور دیکھنا چاہتے ہیں نہ کہ صرف دیکھنا ہے اس لیے کہیں جا رہے ہیں۔

بیکر کہتی ہے کہ آپ جو اپنے یہاں نہیں کرتے وہ مت کریں، جیسے اگر آپ کو میوزیم پسند نہیں تو پھر پیرس کے سفر میں لورے میوزیم میں بھیڑ نہ بڑھائیں جہاں آپ کو یہ نا معلوم ہو کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فلم دی بیچ سے مشہور ہونے کے بعد تھائی لینڈ کے مایا ساحل پر لوگوں کی بھیڑ بڑھنے لگی اور اب اسے بند کر دیا گیا ہے تاکہ اس کے ماحولیات کو بازیابی کا موقع مل سکے

دور دراز کا سفر کریں

بیکر کہتی ہیں کہ 'اگر آپ پراگ جا رہے ہیں تو دو دن کے بجائے ایک ہفتہ گزاریں اور سیاحتی مقامات پر نہ جائيں بلکہ پورا شہر گھومیں۔

'ہو سکتا ہے کہ آپ نے کوئی ناول پڑھ رکھا ہو، چیک مصنف کا، یا ہو سکتا ہے کہ آپ نے تاریخ، حالیہ سیاست کی کتاب پڑھ رکھی ہو اس لیے آپ کو زیادہ پتا ہوگا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ ایک جگہ سے سیراب ہوں اور میں وعدہ کرسکتی ہوں کہ آپ بھیڑ سے بچ جائيں گے۔'

اگر آپ پیرس جاتے ہیں تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آپ ایفل ٹاور دیکھنا چاہیں گے۔ لیکن صرف سیاحتی دلچسپی کے مقامات پر بگولے کی طرح گھومنا حد سے زیادہ سیاحت ہوگا۔ بھیڑ والے سیاحتی مقامات پر بھیڑ بڑھانے سے بہتر ہے کہ آپ دور دراز کے علاقے میں جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بارسلونا کے بعض رہائیشیوں کا کہنا ہے کہ سیاحوں کے لیے جگہ بنانے کے لیے انھیں شہر سے باہر جانا پر رہا ہے۔

ایپ حاصل کریں اور بحری سفر کو مختصر کریں

آپ ایپ کے استعمال سے اس بات کی یقین دہانی کر سکتے ہیں کہ آپ بھیڑ بھاڑ والے علاقے کو مزید بھیڑ والا نہ بنائیں۔

واشنگٹن میں سینٹر فار ریسپانسیبل ٹریول کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارتھا ہنی ایمسٹرڈم میں ایک ایسی ایپ کا ذکر کرتی ہیں جو اگر شہر کے کسی حصے میں کہیں بھیڑ ہے تو وہ آپ کو فون پر الرٹ بھیجتا ہے۔

بحری سفر کے بارے میں مارتھا ہنی کہتی ہیں کہ چھوٹی کشتیوں کا انتخاب کریں اور ان علاقوں کا سفر کریں جہاں زیادہ لوگ نہ جاتے ہوں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'وینس، بارسلونا اور ڈبرونوک جیسی جگہوں پر بڑے کروز جہازوں میں جانے کے بجائے چھوٹے کروز میں جائیں کیونکہ یہ چھوٹے جہاز چھوٹی بندرگاہوں پر جا سکتے ہیں اور اس طرح آپ کم سفر کیے جانے والے مقامات پر جائیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آئس لینڈ نے کامیابی کے ساتھ سیاحت کی بھیڑ کو قابو میں رکھنے کا طریقہ اپنایا ہے

آئس لینڈ کا پیش کردہ حل

آئس لینڈ کی آبادی صرف تین لاکھ 40 ہزار ہے لیکن 2018 میں وہاں 23 لاکھ سیاح پہنچے۔ یہاں سیاحوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ ریکجاوک یا بلو لیگون کے علاوہ مزید دور دراز کے مقامات کا سفر کریں۔

اس پیش قدمی سے ان کی معیشت میں اس طرح پیسے آتے ہیں جو مقامی لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔

پروموٹ آئس لینڈ کے پبلک ریلیشنز منیجر سگریو ڈگ گومندسدوتر نے کہا کہ 'اس سے سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کو مدد مل رہی ہے کیونکہ یہ وہ گاہک ہیں جو دیہی آئس لینڈ کی کمپنیوں کو چلائیں گے۔ اور یہ مقامی لوگوں کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہ بہت کم تعداد میں ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

باتمیز رہیں

حد سے زیادہ سیاحت صرف یہی نہیں کہ کسی جگہ اتنے سیاح پہنچ جائيں جو ہینڈل نہ کیے جا سکیں بلکہ کسی جگہ ایسے لوگوں کی بھیڑ کا پہنچ جانا ہے جو وہاں کے طور طریقوں اور مقامی تہذیب و ثقافت سے نابلد ہوں۔

گومند سدوتر کا کہنا ہے کہ 'لوگ واقعتاً درست چیزیں کرنا چاہتے ہیں لیکن انھیں یہ جاننا پڑے گا کہ کسی جگہ کی درست چیزیں کیا ہیں۔'

اسی لیے آئس لینڈ اور جاپان سمیت کئی سیاحتی مقامات پر آنے والے سیاحوں کو بتایا جاتا ہے کہ انھیں کس طرح کا برتاؤ کرنا ہے۔

آئس لینڈ کے معاملے میں بتایا جاتا ہے کہ سڑک کے باہر ڈرائیو کرنے، خطرناک سیلفی لینے یا نرم رو نم گیاہ پر چلنے سے بچیں۔

جبکہ جاپان کے شہر کیوٹو میں سیاحوں کو مختلف زبانوں میں شائع پرچوں سے بتایا جاتا ہے کہ وہاں مناسب اطوار کیا ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سیر و سیاحت آپ کی جان بچا سکتی ہے

جےپور کے ’ہاتھی گاؤں‘ کے ویران ہونے کا خطرہ

انڈیا: انڈمان کے آخری قبائل پر سیاحوں کی نظریں

جاپان نیشنل ٹوریزم آرگنائزیشن میں عالمی حکمت عملی کے ایگزیکٹو تداشی کانیکو کہتے ہیں کہ سیاحوں کو یہ ذہن نشین ہونا چاہیے کہ وہ 'مقامی لوگوں سے وہ جگہ ادھار لے رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیلیفورنیا کے سین فرانسسکو مین مقامی کرایہ داروں نے مظاہرہ کیا کہ انھیں سیاحوں کے لیے ہٹایا جا رہا ہے

جہاں آپ ٹھہرنے والے ہیں اس کے بارے میں تحقیق کر لیں

اس کے بعد ذمہ دار اور قابل اعتماد رہائش کا انتخاب آتا ہے۔ حالانکہ امریکی مہمان نوازی کی خدمات فراہم کرنے والی امریکی کمپنی ایئربی این بی آپ سے وعدہ کرتی ہے کہ 'مقامی کی طرح رہیں' لیکن ان کے بعض صارفین کا تجربہ یہ رہا ہے کہ انھیں چابیاں ایک لاک باکس سے ملیں ہیں اور کسی مقامی سے دوستی کی بات تو دور ان سے کبھی ان کی ملاقات بھی نہیں ہوئی ہے۔

اگرچہ آپ کچھ پیسے بچا لیں گے لیکن آپ اس بات کو تقویت پہنچا رہے ہوں گے جس سے مقامی لوگوں کو ان کی رہائش سے نکالا جائے یا اس سے بھی بدتر چیزیں ہوں۔

ریسپانسیبل ٹریول کی ہنی کا کہنا ہے سیاح اس بات کی دو بار جانچ کر لیں کہ جہاں وہ ٹھہرنے والے ہیں وہ قانونی ہے بھی یا نہیں کیونکہ بعض اوقات وہ قانونی نہیں ہوتی ہیں۔

ہنی کہتی ہیں کہ 'گوگل پر سرچ کریں کہ کہیں اس کے ساتھ کوئی مسئلہ تو نہیں۔ اگر آپ بارسلونا یا ساؤتھ کیرولینا کے چارلسٹن جا رہے ہیں یا پھر جارجیا کے سوانا جا رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ ان شہروں میں اس کے اثرات نظر آ رہے ہیں اور کم مدتی کرایوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مکانوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر آپ پتھروں کے چاہنے والے ہیں تو سٹون ہیج دیکھنے کے لیے موسم گرما درست وقت نہیں

بہتر منصوبہ بنائیں اور بہتر بنیں

تیزی سے ترقی پزیر ممالک میں عالمی سطح پر متوسط طبقے میں اتنی زیادہ آبادی کے آنے والوں کے لیے کیا یہ نکات درست ہیں؟

اگر آپ کے پاس پیسے ہوں اور اپنے ملک واپس آ سکتے ہوں تو ایسے مقامات کی سیر کریں جہاں کم لوگ جاتے ہوں۔

لیکن اگر یہ آپ کا بیرون ملک کا پہلا دورہ ہے اور آپ بہت زیادہ پرجوش ہیں اور آپ کو پتہ نہیں کہ پھر وہاں کب جانا ہو تو پھر آپ بڑے سیاحتی مقام کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہیں تو پھر آپ پر کون الزام دھرے؟

بیکر کہتی ہیں کہ اگر آپ کو اپنے بجٹ کا خیال ہے یا آپ سفر کو نادر موقع خیال کرتے ہیں تو یہ نا صرف آپ کو ہوشیار سیاح بناتا ہے بلکہ یہ آپ کے خرچ کو بھی کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'اگر آپ کے پاس بہت زیادہ پیسے نہیں تو پھر آپ کو اپنے سفر کی بہتر ڈھنگ سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔'

'آپ ایفل ٹاور دیکھنے کے لیے وقت طے کریں گے نا کہ وہاں پہنچ کر قطار لگائیں، آپ ٹھہرنے کے لیے انٹرنیٹ پر سستی قیمت کی بہتر رہائش تلاش کریں گے، آپ اپنی منزل کے بارے میں پڑھیں گے، آپ کم قیمت والی براہ راست پرواز چاہیں گے اور ان سب کو کرنے میں آپ کے پیسے نہیں لگتے۔'

وہ کہتی ہیں کہ بہت سے پیکج ٹور میں 'سب چیزوں' کو شامل کیا جاتا ہے اور یہ اس صنعت کو جارحانہ انداز میں بڑھانے کی کوشش ہے لیکن اس میں نا صرف چھپے ہوئے اخراجات ہوتے ہیں بلکہ سیاحت کی افراتفری میں آپ کچھ یاد بھی نہیں رکھ پاتے ہیں۔

اس لیے خواہ آپ پہلی بار سفر پر نکلنے والے ہوں یا پھر ہر چھٹی میں نکلنے والے ماہر سیاح ہوں آپ بہتر سیاح بن سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے شہر جے پور میں ہولی سے لطف اندوز ہوتے افراد

اس سب کے علاوہ حد سے زیادہ سیاحت سے نہ صرف مقامی ثقافت کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ سفر کرنے والوں کے اپنے تجربے کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔

ریسپانسیبل ٹریول کی سامنتھا برے کہتی ہیں: 'ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ میرا کسی مقبول مقام کو نہ دیکھنا نئے لوگوں کے لیے جنھیں کم سیاحت کا موقع ملتا ہے ان کے لیے واقعی کوئی قربانی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہم لوگ حد سے زیادہ سیاحت کے ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں پہلی بار کسی نئے ملک میں چھٹی گزارنے والے کی چھٹیاں برباد ہو سکتی ہیں۔'

'اور آپ کے پاس فرانس کی کہیں بس یہ یاد نا رہ جائے کہ کس طرح لوگ مونا لیزا کی تصویر لینے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھے آ رہے تھے؟ اور آپ ساحل سمندر پر سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں میں دبے چلے جا رہے تھے؟'

آپ خواہ کہیں کا سفر کر رہے ہوں سب سے بڑی بات جو ذہن نشین رکھنی ہے وہ یہ ہے کہ آپ اچھی طرح سے تحقیق کر لیں، اس جگہ کی قدر کریں اور اپنی منزل کے بارے میں متجسس ہوں۔

اور آپ ہنی کے مطابق 'سیلفی کلچر' یا 'بکٹ لسٹ کلچر' کے شکار نا ہوں۔

جہاں آپ جا رہے ہیں اس جگہ کو اپنے گھر کی طرح سمجھیں نہ کہ کسی 'پوشیدہ جواہرات' کی طرح جسے آپ اپنے مخصوص تجربے کے لیے پیسے پھینکتے جائيں۔

بیکر کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ جہاں چاہیں انھیں جانے کا حق ہے۔ لیکن یہ خوش قسمتی ہے کیونکہ سفر کرنے کے حق کا وجود نہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں