مغربی ممالک اور غسل خانے و بیت الخلا کی دلچسپ و عجیب عادات

غسل خانہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Getty
Image caption 'مجھے یہ سب سمجھ نہیں آتا کہ آپ لوگ دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک ہو لیکن جب بات پیچھے کی آتی ہے تو آپ بہت پیچھے ہو'

مصری کامیڈین باسم محمد یوسف نے رواں برس جون میں برطانیہ میں اپنی پہلی پرفارمنس کے دوران کہا کہ 'ایک عرب کے طور پر جب ہم سفر کا سامان باندھتے ہیں تو اپنے پاسپورٹ، نقد رقم اور دستی بائیڈٹ یاطہارت کی چوکی کا سب سے زیادہ خیال رکھتے ہیں۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے طہارت کے لیے دستی نلکا، جسے شتف یا 'بم گن' کہتے ہیں، لہرایا۔

انھوں نے کہا 'مجھے یہ سب سمجھ نہیں آتا کہ آپ لوگ دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک ہیں لیکن جب بات پیچھے کی آتی ہے تو آپ بہت پیچھے ہیں۔‘

بہت سے لوگ یوسف کی بات سے متفق ہوں گے۔ بہت سے مغربی ممالک میں بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد طہارت کی بجائے ٹشو سے صفائی کا رواج دنیا کے لیے حیرت کا سبب ہے۔ کاغذ کے مقابلے میں پانی زیادہ اچھی طرح صاف کرتا ہے اور اس سے گھن بھی نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیے

ٹوائلٹ میں اپنی ’پوزیشن‘ کا خیال رکھیں

ٹوائلٹ نہ بنانے پر خاتون کو طلاق کی اجازت

رفع حاجت کے خلاف 'ہلہ بول، لنگی کھول' مہم

ذرا سوچیے کہ آپ اپنی جلد پر لگے چاکلیٹ پڈنگ کو صرف ٹشو پیپر سے صاف کرنے کی کوشش کریں تو کیا نتیجہ نکلے گا۔

اس کے علاوہ ٹوائلٹ میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپر قدیم یونان میں مستعمل مٹی کے ڈھیلے یا نوآبادیاتی امریکہ میں مستعمل مکئی کے ڈنٹھل سے سخت نہیں ہوتے لیکن ہم سب اس بات سے اتفاق کریں گے کہ انتہائی نرمی سے صاف کرنے والی کسی بھی چیز سے زیادہ نرم پانی ہوتا ہے۔

زیادہ تر ممالک کے افراد اپنے ٹوائلٹ کے دورے کا اختتام پانی سے کرتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا صرف غیر مغربی ممالک میں ہی نہیں ہوتا۔

دراصل اس آبدست کی چوکی کو 'بائیڈٹ' کا نام فرانسیسیوں نے دیا تھی۔ ہرچند کہ اس کے آثار فرانس سے ختم ہوتے جا رہے ہیں لیکن اٹلی، ارجنٹائن اور کئی دوسرے مقامات پر یہ عام ہے۔ جبکہ یوسف کا محبوب آبدست کا آلہ 'بم گن' فِن لینڈ میں پایا جاتا ہے۔

اس کے باوجود برطانیہ اور امریکہ سمیت زیادہ تر مغربی لوگ ٹوائلٹ میں ٹشو پیپرز پر بھروسہ کرتے ہیں۔

فن تعمیر کی تاریخ داں باربرا پینر نے اپنی کتاب 'باتھ روم' میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ دنیا کے باقی تمام ممالک کے مقابلے میں یہ دونوں ملک جدید باتھ روم کلچر کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔

درحقیقت اینگلو امریکن باتھ روم کا رجحان اس قدر وسیع ہو گیا ہے کہ سنہ 1920 کی دہائی میں اسے ’سینیٹری سامراج' سے تعبیر کیا گیا۔

اس کے باوجود یہ رجحان پوری دنیا میں گھر نہیں کر سکا۔ مثال کے طور پر مسلم اکثریتی ممالک میں پانی کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں صفائی کے لیے پانی کی اہمیت ہے (ترکی میں مذہبی امور کے ڈائریکٹوریٹ نے سنہ 2015 میں یہ فتویٰ دیا کہ مسلمان پانی کی عدم موجودگی میں پاک کرنے کے لیے ٹوائلٹ پیپر استعمال کر سکتے ہیں)۔

دوسری جانب جاپان کا مشہور جدید چھوٹا ٹوائلٹ ہے جو کہ تکنیکی ہنر مندی کے نمونے کے ساتھ اعضا کے استعمال کو معیوب سمجھنے کا حل بھی فراہم کرتا ہے۔ اس میں گیلا کرنے اور سکھانے دونوں کے طریقے موجود ہوتے ہیں۔

ایک اور شخص ہیں جو پانی اور کاغذ کے مباحثے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ ذل عثمان ہیں جو آسٹریلیا کی حکومت میں ایک پروجیکٹ آفیسر ہیں۔ انھوں نے ٹوائلٹ کی سہولیات کے حوالے سے تہذیبی اور تاریخی رویوں پر تحقیق کر رکھی ہے۔

عثمان کی تحقیق میں یہ بات سامنے آ‏‏‏ئی ہے کہ آسٹریلیا کے بعض مسلمانوں نے مغربی طرز کے باتھ روم کو اپنا لیا ہے۔ وہ ٹوائلٹ پیپر کے استعمال کے بعد ایک مگ پانی سے یا پھر ٹوائلٹ میں لگے شاور والے نلکے سے خود کو دھو لیتے ہیں۔

یہی حال بہت سے غیر اسلامی پس منظر سے آنے والوں کا بھی ہے۔ انڈیا کے شہر ممبئی کے علاقے نوی سے تعلق رکھنے والی آستھا گارگ گذشتہ دو برس سے سان فرانسسکو میں کام کر رہی ہیں۔ انھیں لوٹے کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑی اور بالآخر انھیں ایک ہندوستانی کی دکان کا رخ کرنا پڑا۔

ٹوائلٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Alamy/Getty
Image caption ذرا سوچیے کہ آپ اپنی جلد پر لگے چاکلیٹ پڈنگ کو صرف ٹشو پیپر سے صاف کرنے کی کوشش کریں تو کیا نتیجہ نکلے گا

ان کا کہنا ہے کہ ’بعض ہندوستانی ٹوائلٹ پیپر کو اپنا لیتے ہیں لیکن ہم جیسے بہت سے لوگ جہاں تک ممکن ہے پانی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ امریکہ میں جب بھی ہم کسی ہندوستانی دوست کے گھر جاتے ہیں تو انھیں ہم اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنے ٹوائلٹ کے ساتھ پلاسٹک کی کوئی بوتل یا مگ رکھیں۔‘

عثمان نے مغرب کے لوگوں میں کسی نہ کسی صورت کاغذ کے استعمال کی ضد کا مشاہدہ کیا ہے۔ برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں ان کے ایک ہم جماعت کا جب ٹوائلٹ پیپر ختم ہو گیا تو اس نے خود کو صاف کرنے کے لیے 20 پاؤنڈ کے نوٹ کا استعمال کر لیا۔

دریں اثنا پوڈکاسٹر اور میٹل گٹارسٹ قیصر کوؤ کے اہل خانہ بھی امریکیوں کے رنگ میں رنگ گئے۔ تین سال قبل وہ بیجنگ سے امریکہ منتقل ہوئے جہاں بہت سے نئے چینیوں کی طرح انھوں نے بعض چینی عادات کو برقرار رکھا جبکہ بعض امریکی عادات کو بھی اپنا لیا۔

کوؤ کو اس بات پر صدمہ ہوا کہ ان کے بچے امریکی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کس قدر ٹوائلٹ پیپر کا استعمال کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ امریکہ ٹوائلٹ پیپر کے استعمال میں سب سے آگے ہے۔

گارگ کے لیے بھی ٹوائلٹ پیپر حیران کن ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'یہ واضح نہیں کہ ان کاغذوں کو استعمال کے بعد ٹوائلٹ کے بول میں پھینکنا ہے یا نہیں‘۔ مالی اور ماحولیاتی قیمت کے علاوہ 'یہ ٹوائلٹ کا راستہ بند کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر چار میں سے ایک ٹوائلٹ میں پلمبنگ کا مسئلہ ضرور رہتا ہے۔‘

چین میں جہاں کاغذ کی ایجاد ہوئی تھی وہاں بھی ٹوائلٹ پیپر کا استعمال عام ہے لیکن امریکی مینوفیکچررز اور مشتہرین نے 20 ویں صدی میں جارحانہ انداز میں ٹوائلٹ پیپر اور وہ بھی خاص قسم کے ٹوائلٹ پیپر کے استعمال کی پیروی کی۔

مثال کے طور پر برطانیہ کے لوگ سنہ 1970 کی دہائی میں بھی عام طور پر سخت کاغذ کا استعمال کر رہے تھے کیونکہ وہ امریکہ سے آنے والے نرم ملائم کاغذوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔

کوؤ کی فیملی اب زیادہ کاغذ کا استعمال نہیں کرتی اور فلش کی جانے والی بھیگی صافیوں کا استعمال کرتی ہے۔ یعنی یہ امریکیوں کا دوسرے ممالک کے لوگوں کے متعلق ایک قسم کا اعتراف ہے جہاں وہ صدیوں سے یہ جانتے آئے ہیں کہ بھیگی ہوئی چیزیں زیادہ اچھی صفائی کرتی ہیں۔

ٹوائلٹ پیپر تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Alamy
Image caption کوؤ کو اس بات پر صدمہ ہوا کہ ان کے بچے امریکی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کس قدر ٹوائلٹ پیپر کا استعمال کرتے ہیں

سیٹ پر بیٹھیں یا اکڑوں بیٹھیں؟

کوؤ کی فیملی نے سیٹ پر بیٹھنے یا اکڑوں بیٹھنے کے معاملے میں بھی سمجھوتہ کر لیا ہے۔ دونوں قسم کے ٹوائلٹ ہان سلطنت (206 قبل مسیح سے 220 بعد مسیح) میں مستعمل تھے لیکن چین کے مختلف علاقوں میں الگ الگ طریقے رائج تھے۔ تاہم ملک بھر کے ٹوائلٹ میں اکڑوں بیٹھنے کا رواج عام ہے۔

آج بھی ایک اندازے کے مطابق دو تہائی لوگ اکڑوں بیٹھتے ہیں۔ لیکن بہت سے مغربی لوگ اس بات پر بضد ہیں کہ ان کا انداز زیادہ منطقی اور زیادہ آرامدہ ہے۔

اس بات پر بھی غور کریں کہ زیادہ تر برطانوی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ٹوائلٹ کی سیٹ سے جسم کے حصے کو مس نہ ہونے دینے کے لیے جھک کر بیٹھتی ہیں یا پھر معلق ہو کر۔ اکڑوں بیٹھنے والے ٹوائلٹ میں خود کو سطح سے مس نہیں ہوتے ہیں۔

تشریح اعضا کی رو سے بھی اکڑوں بیٹھ کر پاخانہ کرنا بہتر ہے کیونکہ ایسا زاویہ بنتا ہے جس سے فضلے کے اخراج میں آسانی ہوتی ہے۔ اس میں معدے کی حرکت تیز ہوتی ہے اور اس میں کم زور پڑتا ہے۔

عام طور پر اکڑوں بیٹھنے کے فوائد کو نہیں گنا جاتا ہے۔ یہ طاقت اور لچیلے پن کا عمل ہے جس میں بوڑھے چینی گورے نوجوانوں کو شرمسار کر دیتے ہیں۔

امریکیوں نے ٹوئلٹ کے لمبے وقت کو ایک قسم کے فرصت کے وقت میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایسی کتابوں کے بڑے بازار ہیں جو کہ ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر پڑھنے کی ہیں۔ ان میں معلومات عامہ کی چیز، مختصر کہانیاں اور لطیفے شامل ہیں۔

یہ بھی چیز کوؤ کو عجیب لگتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'تمام چینی والدین اپنے بچوں کو ٹوائلٹ سیٹ پر پڑھنے سے منع کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اس سے بواسیر ہو جائے گا۔'

دونوں قسم کے پاخانے تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Alamy/Getty
Image caption آج چہرے کے لیے مخصوص قسم کے صابن اور جسم کے لیے مختلف قسم کے صابن کا رواج ایسے صابن کے مقابلے میں عام ہے جو کہ نہانے اور دھونے سب کے لیے استعمال ہوں

کوؤ کی فیملی نے اپنے چینی امریکی گھر کے لیے درمیانہ حل نکال لیا ہے۔ وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ 'ہم نے اپنے ٹوائلٹ کے سامنے ایک چھوٹا سا پائدان رکھ لیا ہے تا کہ آپ اپنا پاؤں اس پر رکھ لیں اور یوں اکڑوں بیٹھنے کی پوزیشن بن جائے۔

میرے خیال سے میری اہلیہ انتہائی عقل مند ہیں جنھوں نے یہ طریقہ نکالا ہے۔ 'بہت سی کمپنیوں نے اس طرح کے سمجھوتے کو پیسے کمانے کے لیے اپنا لیا ہے اور اکڑوں قسم کے پائدان مغربی بازار کے لیے تیار کر لیے ہیں۔ گارگ کے پاس بھی ایک ہے۔

ایک دوسرے سمجھوتے نے لوگوں کو مزید آپشنز فراہم کر دی ہیں۔ بعض ممالک میں دونوں قسم کی سہولیات دستیاب ہیں۔ جیسا کہ عثمان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک ملائیشیا میں 'وہ عام طور پر شاپنگ یا ریٹیل حصے میں ایک کے مقابلے میں تین کے تناسب میں اکڑوں بیٹھنے والے ٹوائلٹ رکھتے ہیں۔

ان کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آسٹریلیا کے مسلمانوں کو اکڑوں سیٹ والے ٹوائلٹ کی طرف جانے میں قباحت نہیں ہے لیکن وہ ٹوائلٹ پیپر پر پانی کو ترجیح دیتے ہیں۔

عجیب غسل

ثقافتی طور پر غسل کے بھی مختلف طریقے ہیں۔ لنکا شائر یونیورسٹی میں ماہر سماجیات الیزبتھ شوو نے پانی اور توانائی کے استعمال کی عادات پر تحقیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'مغربی معاشرے میں صبح غسل کرنے یا روزانہ غسل کرنے کی عادت ہے اور یہ عجیب ہے۔'

اس کی ایک وجہ جنگ عظیم دوئم کے بعد عالمی سطح پر اشتہار کی دنیا میں آنے والی تیزی ہے جس میں زمبابوے میں لائف بوائے صابن اور امریکہ میں آئیوری صابن کے اشتہار بھی شامل ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ کی صابن بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے اشتہاروں کی بھرمار کی وجہ سے ریڈیو اور ٹی وی پر ’سوپ اوپرا‘ کا رواج عام ہو گیا۔

آج چہرے کے لیے مخصوص قسم کے صابن اور جسم کے لیے مختلف قسم کے صابن کا رواج ایسے صابن کے مقابلے میں عام ہے جو کہ نہانے اور دھونے سب کے لیے استعمال ہوں۔

یہ نیا رجحان ہے جو کہ بہت حد تک مارکٹنگ کا مرہون منت ہے۔ بار بار غسل کی یہ مصنوعی ضرورت غسل کے نئے رجحان سے منسلک ہے۔

ٹوائلٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لیکن برطانیہ میں ماضی کی دہائیوں کی طرح آج بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر میں پانی کی فراہمی ناقابل یقین ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے بار بار غسل کرنا ممکن بھی نہیں ہے

مغرب میں روزانہ غسل کا رواج نسبتاً نیا ہے لیکن یہ اب تقریباً ہر جگہ پھیلا ہوا اور عام ہے۔ شوو کہتے ہیں کہ صرف دو نسل پہلے برطانیہ میں ہفتے میں ایک دن غسل کرنا معیاری ہوا کرتا تھا۔

لیکن برطانیہ میں ماضی کی دہائیوں کی طرح آج بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر میں پانی کی فراہمی ناقابل یقین ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے بار بار غسل کرنا ممکن بھی نہیں ہے۔

لیکن صرف پانی کی فراہمی ہی اس کو متاثر نہیں کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر ملاوی کے لیلانگوے کے کم آمدن والے حصوں میں بھی بار بار غسل کرنا عام بات ہے۔ وہاں کے رہائشی پانی کی کمی کے باوجود دن میں دو تین بار ایک ایک بالٹی پانی سے غسل کرتے ہیں۔

گھانا، کولمبیا، فلپائن اور آسٹریلیا کے بہت سے لوگ بھی دن میں کئی بار غسل کرتے ہیں۔ اس میں ہر بار بالوں کا دھونا شامل نہیں ہو سکتا ہے۔ جہاں پاؤں کا دھونا اہمیت کا حامل ہے وہاں بار بار پاؤں دھونے کا رواج ہے۔

بار بار بالٹی سے نہانے میں ایک بار زیادہ پریشر والے شاور کے مقابلے میں در حقیقت کم پانی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن بار بار غسل کی عادت جزوی طور پر صرف گرم علاقوں سے منسلک ہے تاہم بعض برازیلی شہری جاڑوں میں بھی کئی بار غسل کرتے ہیں۔

آج صبح سویرے معمول کا غسل اس خیال کا اظہار ہے کہ آپ اپنے دن بھر کو کس طرح ترتیب دیتے ہیں جو کہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترتیب کا متقاضی ہے (آج کے مغربی لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کام کے اوقات کم ہونے کے باوجود پہلے کے مقابلے میں ان کے پاس وقت کی کمی ہے کیونکہ ان کے اوقات بٹے ہوئے ہیں)۔

غسل کے پس پشت یہ احساس بھی کار فرما ہے کہ آپ خود کو دوسروں کے سامنے کس طرح پیش کریں، صرف یہ نہیں کہ دن بھر کا میل کچیل صاف کریں۔

یہ اس بات کا بھی مظہر کہ آپ کس طرح کا کام کرتے ہیں۔ مغرب کے لوگ ہاتھوں سے یا زرعی کام بہت کم تعداد میں کرتے ہیں جس میں انھیں گندگی کو دھونے کی ضرورت محسوس ہو۔

غسل خانہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Alamy/Getty
Image caption بعض لوگ صبح صبح پانی سے چستی پیدا ہونے کی قسم کھاتے ہیں لیکن شام کے غسل سے (جیسا کہ جاپان میں عام ہے) آپ کے پٹھوں کو آرام حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے

احساسات سے قطع نظر کیا روزانہ صبح یا شام کو غسل کرنا زیادہ صحت مند یا مدد گار ہے؟

ہمیشہ نہیں۔ بار بار گرم پانی سے غسل کرنے سے آپ کی جلد اور بال خشک ہو جاتے ہیں (اس کے سبب خواتین اپنے بال ہفتے میں صرف ایک یا دو بار دھوتی ہیں)۔ صبح یا شام کے غسل کے فوائد کے بارے میں بھی ملے جلے شواہد سامنے آئے ہیں۔

بعض لوگ صبح صبح پانی سے چستی پیدا ہونے کی قسم کھاتے ہیں لیکن شام کے غسل سے (جیسا کہ جاپان میں عام ہے) آپ کے پٹھوں کو آرام حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایک ہی ملک میں ٹوائلٹ کے استعمال کے حوالے سے مختلف طریقے رائج ہیں اور صفائی کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تمام چیزیں کسی جگہ مستقل نہیں ہیں اور ان میں ثقافت اور ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے لحاظ سے تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

مستقبل میں شاید مغرب کے لوگ ماحول کے بچاؤ کی علامت کے طور پر یہ اعلان کریں کہ وہ اب ہفتے میں صرف ایک بار شاور لیں گے یا پھر اپنے شاور کی جگہ بالٹی اور مگ سے غسل کرنا شروع کر دیں اور بعض دوسرے ممالک کے لوگوں کی دیکھا دیکھی اپنے ٹوائلٹ کے ساتھ پانی کے نلکے بھی لگا لیں کہ اس میں کتنی سہولت ہے۔

باتھ روم کی عادات بظاہر کامن سینس کا معاملہ ہے لیکن یہ بہت حد تک سماجی تربیت کا بھی نتیجہ ہے۔ بہر حال ہر ایک کو یہ بتانا ہوگا کہ سوانا، بیت الخلا اور شاور کا استعمال کیسے کریں ویسے ہی جیسے والدین بچوں کو بیت الخلا استعمال کرنے کا طریقہ سکھاتے ہیں۔

۔

اسی بارے میں