تھری ڈی خوراک: چکن ڈرم سٹکس جو گوبھی سے بھی بن سکتی ہیں

کھانا

،تصویر کا ذریعہSingapore Food Innovation and Resource Centre

،تصویر کا کیپشن

جرمنی، سنگاپور اور سویڈن میں پراجیکٹس کے متعلق جوش و خروش کے باوجود تھری ڈی پرنٹنگ ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے اور قابلِ اعتماد کمرشل پراڈکٹ بننے سے کچھ دور ہے

دیکھنے میں یہ چیز روسٹ کی ہوئی سنہری چکن ڈرم سٹک لگتی تھی۔ ایک درجن عمر رسیدہ افراد کے سامنے رکھی ہوئی پلیٹ سے خوشبو بھی چکن کی ہی آ رہی تھی اور جب انھوں نے اپنے کانٹوں اور چھریوں سے اسے کھانا شروع کیا تو اس کا ذائقہ بھی کافی حد تک چکن جیسا ہی تھا۔

فرق بس یہ تھا کہ یہ چکن نہیں تھا۔ جرمنی کے اس نرسنگ ہوم کے باسی جو کھا رہے تھے وہ ایک پُری تھی، جسے ڈرم سٹک کی شکل میں پرنٹ کیا گیا تھا۔ ہر ’چکن لیگ‘ کو سبزیوں کی پیسٹ سے تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے شکل دی گئی تھی اور عام پُری سے زیادہ خوش ذائقہ بنایا گیا تھا۔

اس میں ایسی تبدیلی بھی لائی گئی تھی کہ انفرادی طور پر وہاں موجود ہر عمر رسیدہ شخص کی غذائی ضروریات بھی پوری کرے۔

جس گروہ نے پانچ سال قبل سب سے پہلے یہ کھانا جو کہ ’چکن نہیں تھا‘ کھایا تھا، وہ یورپ میں ایک جدید خوراک کے پراجیکٹ کا حصہ تھے جسے ’پرفارمنس‘ کہا گیا تھا۔

اس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ کیا تھری ڈی پرنٹڈ خوراک ان عمر رسیدہ افراد کو دی جا سکتی ہے جن کو خوراک نگلنے میں دشواری ہوتی ہے، اس حالت کو ڈسفیجیا بھی کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ان لوگوں کے لیے جن کو چبانے یا نگلنے کے مسائل ہیں، چکن ڈرم سٹک کھانا عموماً ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ تاہم آج کل عمر رسیدہ افراد کے لیے بنائے جانے والے کھانے اکثر بے ذائقہ اور بورنگ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر ان کو اتنی غذائیت نہیں ملتی جتنی ان کو ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن کئی ریسرچ ٹیمیں اس کا حل نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ عمر رسیدہ افراد کا کھانا غذائیت سے بھرپور بھی ہو، مختلف بھی ہو اور دلچسپ بھی اور یہ ایسی شکل میں ہو کہ آسانی سے کھایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہSingapore Food Innovation and Resource Centre

،تصویر کا کیپشن

کئی ریسرچ ٹیمیں اس کا حل نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ عمر رسیدہ افراد کا کھانا غذائیت سے بھرپور بھی ہو، مختلف بھی ہو اور ایسی شکل میں ہو کہ آسانی سے کھایا جا سکے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

تھری ڈی پرنٹنگ پراجیکٹ کی سربراہی کرنے والی بائیوزون نامی ایک کمپنی نے اپنی ’چکن‘ ڈش بنانے کے لیے پہلے تازہ بروکلی، گوبھی اور آلوؤں کی پُری بنائی اور پھر ہر کھانے والے کی ضرورت کے مطابق اس میں وٹامنز کی قسمیں، کیلشیئم، کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین ملائی۔

اس کے بعد اس مرکب کو تھری ڈی فوڈ پرنٹر میں ڈالا گیا جہاں اس میں ایک جیلنگ ایجنٹ ملایا گیا تاکہ اس مرکب کو جب کسی شکل میں ڈھالا جائے تو وہ سخت ہو جائے۔ اس کے بعد اس پرنٹڈ فوڈ کو فریز کر دیا گیا تاکہ بعد میں کھانا پیش کرنے کے لیے اسے دوبارہ گرم کیا جا سکے۔

بائیوزون کے چیف ایگزیکیٹو میتھیاس کک کہتے ہیں کہ یہ پراجیکٹ اس حوالے سے بہت کامیاب ثابت ہوا کہ اس خوراک کو کھانے والوں کی بھوک یا کھانا کھانے کی رغبت بہتر ہو گئی۔ اس تجربے کے دوران اس میں شرکت کرنے والوں کا اوسط وزن ایک اعشاریہ سات کلو گرام بڑھ گیا اور آدھے سے زیادہ شرکت کرنے والوں نے تھری ڈی فوڈ کی ساخت کو سراہا بھی۔

یہ کوششیں شاید اس سے بہت زیادہ ہیں جتنا آپ سوچ رہے ہیں۔ ہم میں سے اکثر اب امید کر سکتے ہیں کہ ہم کافی بڑی عمر تک جیئیں گے۔

اقوامِ متحدہ کے سنہ 2019 میں جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2050 تک ہر چھ میں سے ایک شخص 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہو گا جبکہ یورپ اور شمالی امریکہ میں ہر چار میں سے ایک شخص 65 برس یا اس سے زیادہ کا ہو گا۔

سنہ 2050 میں 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد کے تین گنا بڑھنے کی توقع ہے یعنی جو تعداد سنہ 2019 میں 143 ملین تھی وہ 2050 میں بڑھ کر 426 ملین ہو جائے گی اور سنہ 2050 میں 100 سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد تین اعشاریہ سات ملین تک ہو سکتی ہے۔

کیونکہ یہ ’سلور سونامی‘ ہر ملک کو متاثر کر سکتی ہے اس لیے خوراک میں تخلیقی عمل لانے کی ضرورت ہے تاکہ ان افراد کو صحت مندانہ خوارک ملے جن کی انھیں ضرورت ہے۔

عمر رسیدہ افراد کو ان مسائل کا زیادہ سامنا رہتا ہے جو انھیں مناسب خوراک کھانے سے روکتے ہیں۔

سنہ 2018 میں ہانگ کانگ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دانتوں اور نگلنے کے مسائل کی وجہ سے کھانا کھانا مشکل ہو سکتا ہے جبکہ جن افراد کو نیورو ڈیجینیریٹو مرض یا وہ مرض جس میں متاثرہ شخص کی صحت بتدریج خراب ہوتی رہتی ہے، ہو تو وہ بھی خوراک کا مناسب توازن قائم رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق 60 سال کی عمر یا اس سے زیادہ کے ہر تین میں سے ایک چینی شخص کو کھانا چبانے میں مشکل ہوتی ہے۔ بیلجیئم میں سنہ 2009 میں ہونے والی ایک تحقیق میں پتہ چلا کہ 75 اور 85 برس کی عمر کے 70 فیصد افراد کو کھانا نگلنے میں مشکل رہتی ہے۔ ناک میں سونگھنے کے ریسیپٹرز عمر کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جاتے ہیں جس کی وجہ سے چکھنے اور سونگھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

یورپ میں عمر رسیدہ افراد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق 64 یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں ہر پانچ میں سے ایک میں وٹامن ڈی، فولک ایسڈ، کیلشیئم، سیلینیئم اور آئیوڈین کی کمی ہوتی ہے

ان مسائل کی وجہ سے غذائی حیثیت پر کافی اثر پڑتا ہے۔ جب انھیں ورزش میں کمی اور دوائیوں کے اثرات کے ساتھ ملایا جائے تو بہت زیادہ عمر رسیدہ افراد غذائیت میں کمی اور موٹاپے جیسے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جب لوگ 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کو پہنچتے ہیں تو ان میں کھانا کھانے کی صلاحیت یا خواہش میں 25 فیصد تک کمی آ جاتی ہے جبکہ نرسنگ ہومز میں کم خوراکی کے شکار افراد کی تعداد 60 فیصد تک ہے۔

چلی کی یونیورسٹی آف والپریزو کی انسانی غذا کی پروفیسر ماریان لتز کہتی ہیں ’جو عمر رسیدہ افراد باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں ان میں کم خوراکی ، افسردگی اور خراب صحت کے مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔‘

عمر رسیدہ افراد میں موٹاپا زیادہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سنہ 2015 میں یورپ میں 50 سال سے زیادہ عمر کے تقریباً 20 فیصد افراد موٹاپے کا شکار تھے جبکہ امریکہ میں 60 سے اوپر تقریباً 60 فیصد افراد کو موٹے افراد کی صف میں رکھا گیا تھا۔

مسئلے کا ایک بڑا حصہ یہ ہے کہ ہماری عمر جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے ہم اپنی غذا بدلتے رہتے ہیں، یہ اپنی مرضی سے بھی ہوتا ہے اور ہمیں اس کے لیے مجبور بھی کیا جاتا ہے۔

لیکن عالمی ادار صحت کے مطابق اگرچہ غذا میں تبدیلی سے لوگوں کی زندگی میں بیماری کا خطرہ ذرا کم ہو جاتا ہے، اس کا اثر عمر رسیدہ افراد میں زیادہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سیچوریٹڈ فیٹ اور کم نمک کھانے سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول لیول میں کمی ہوتی ہے اور دل کی بیماری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

لتز کے مطابق بزرگ افراد کے لیے آئیڈل خوراک میں زیادہ پروٹین، وٹامنز، خصوصاً بی کمپلیکس اور ڈی چاہیے، جو ہڈیوں اور پٹھوں کی قوت میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ معدنیات، لانگ چین اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور فائبر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

حال ہی میں لتز نے ایک تحقیق کی جس کے مطابق کیلشیئم کی مناسب سپلائی سے بھی ہڈیاں مضبوط ہو سکتی ہیں اور پٹھوں کا ماس یا حجم بڑھ سکتا ہے جبکہ انھیں خوراک میں پروٹین سے بھی کافی حد تک توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBiozoon

لتز کہتی ہیں ’وہ خوراک جس میں پودوں سے لیا گیا کھانا شامل ہو جیسا کہ سبزیاں، دالیں، سیریئل، خشک میوہ جات، بیج اور پھل وغیرہ، فائیٹوکیمکلز حاصل کرنے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ یہ فائیٹوکیمکلز وہ مرکب ہے جو پودے کے دفاعی نظام میں شامل ہوتا ہے۔ اس طرح کی خوراک کے بہت سے فائدے ہوتے ہیں جس کے بعد کمرشل سپلیمنٹس کی ضرورت نہیں رہتی۔‘

لتز کہتی ہیں کہ مچھلی اور شیل فش کی مصنوعات اچھی پروٹین کے لیے بہت مفید ہیں۔

لیکن یورپ میں عمر رسیدہ افراد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق 64 یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں ہر پانچ میں سے ایک میں وٹامن ڈی، فولک ایسڈ، کیلشیئم، سیلینیئم اور آئیوڈین کی کمی ہوتی ہے۔

سو آپ کس طرح بزرگ افراد کو زیادہ غذائیت والی خوراک کھلائیں گے جو ان کے لیے مناسب بھی ہو؟

یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کی فوڈ سائنسدان تانجا سوبکو کہتی ہیں کہ انھیں(بزرگ افراد) وہی خوراک دینا جو بالغ نوجوانوں کو دیتے ہیں، ٹھیک حکمتِ عملی نہیں۔

’بزرگ بڑا آہستہ اور بہت کم کھانا کھاتے ہیں، سو کھانے کی غذائی قدر اس سے کافی زیادہ ہونی چاہیے۔‘

’پوریڈ فوڈ‘ ایک متفقہ حل ہے لیکن اس کی ساخت اور حلیہ اکثر مزہ خراب کر دیتا ہے۔ اکثر ماہرین کہتے کہ یہ بھی اہم ہے کہ کھانا کس طرح پیش کیا جائے۔ جو کھانا زیادہ چپچپا اور لیس دار ہوتا ہے اسے کھانے کے لیے بزرگ افراد کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

بائیوزون کے کک اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پسی ہوئی خوراک دیکھنے میں اچھی نہیں لگتی اور ہو سکتا ہے کہ اس کا کردار اکثر بزرگ افراد کی خوراک میں کم دلچسپی میں بھی ہو۔ جرمنی کے نرسنگ ہوم کے پراجیکٹ میں ان کی ٹیم نے لال رنگ استعمال کیا تاکہ تھری ڈی پرنٹڈ فوڈ زیادہ ترغیب دینے والا لگے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ماہرین کہتے کہ یہ بھی اہم ہے کہ کھانا کس طرح پیش کیا جائے۔ جو کھانا زیادہ لیس دار ہوتا ہے اسے کھانے کے لیے بزرگ افراد کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے

لتز کہتی ہیں کہ کھانے کا رنگ اس کی طرف رغبت بڑھا سکتا ہے اور گرماہٹ والے رنگ اچھا اثر ڈالتے ہیں۔

ان کے مطابق ’کھانوں کی شبییہ دل موہ لینے والی ہونی چاہیے اور رنگوں کا اچھا امتزاج اس میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔‘

بائیزون واحد کمپنی نہیں ہے جس نے عمر رسیدہ افراد کے لیے تھری ڈی پرنٹڈ فوڈ کے تصور پر کام کیا ہو۔ سویڈن کے شہر گوتھنبرگ میں قائم ریسرچ انسٹیٹیوٹ ’رائز‘ نے بھی کیئر ہومز میں تھری ڈی پرنٹڈ فوڈ پر تجربات کیے ہیں۔

مزید پڑھیے

اس کی پراجیکٹ مینیجر ویولینا ہوگلنڈ کہتی ہیں ’سویڈن میں پُری کو ہم ایسی شکل میں بنا رہے ہیں جس کو کاٹا جا سکے، ہاتھ سے اٹھایا جا سکے، جو ملائم ہو اور جسے آسانی سے نگلا جا سکے۔۔۔ اس کا مقصد کھانے کو زیادہ پرکشش بنانا ہے اور جسے آپ چھری اور کانٹے کے ساتھ کھا سکیں۔‘

ٹیم نے براکلی، چکن اور بریڈ کی فوڈ پُریز کو استعمال کیا تاکہ بزرگ کھانے والوں کو پروٹین کی زیادہ مقدار ملے اور اس کے بعد کھانے کو اوون میں بیک کیا گیا۔

ہوگلنڈ کہتی ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ ڈسفیجیا کے لیے بھی کھانا عام کھانے جیسا ہی لگے تاکہ انھیں پتا ہو کہ وہ کیا کھا رہے ہیں۔ کمرشل کچن میں ہاتھ کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنے میں بہت وقت لگتا ہے، اس لیے ہم نے اسے تھری ڈی پرنٹ کیا۔‘

ایشیا میں سنگاپور کی ایک یونیورسٹی نے بھی ملک کی مشہور ڈشوں کو بزرگوں کے لیے اس طرح بنانے کی کوشش کی ہے۔ سنگاپور پولی ٹیکنیک کے فوڈ انوویشن اینڈ ریسورس سینٹر اور ایس آئی ٹی میسے یونیورسٹی کے اشتراک سے بنائے گئے اس پراجیکٹ میں تھری ڈی پرنٹ کے ذریعے بزرگ افراد کے لیے چکن چاول کا ایک ورژن بنایا گیا جس میں کیلشیئم، چکن اور براکلی پُری شامل کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

تحقیق کے مطابق 60 سال کی عمر یا اس سے زیادہ کے ہر تین میں سے ایک چینی شخص کو کھانا چبانے میں مشکل ہوتی ہے

اس کا نتیجہ ایک ادرک کی شکل کی پیلے رنگ کی ڈرم سٹک کی شکل میں نکلا، جس کے گرد سفید اور سبز پُری رکھی گئی جو کہ چاول اور بروکلی جیسی لگتی تھی۔ ٹیم نے ایشیا میں مشہور پھل ڈوریان بھی تھری ڈی پرنٹ کے ذریعے بنایا جس میں کم چینی ڈالی گئی۔ اس کے علاوہ ایک چلی کریب ڈش بھی بنائی گئی جو کہ ذائقے اور ساخت میں بالکل اصلی لگتی تھی۔

سنگاپور پولی ٹیکنیک کے فوڈ انوویشن اینڈ ریسورس سینٹر کی پراڈکشن انوویشن مینیجر ایویلن اونگ کہتی ہیں ’ہم نے اپنی تحقیق کے ابتدائی مرحلے میں ’سلور ایجرز‘ کی ضروریات کا پتہ لگانے کے لیے صارفین کے متعلق معلومات اکٹھی کیں، خصوصاً وہ خوراک جو انھیں پسند ہے لیکن صحت کے مسائل کی وجہ سے وہ انھیں نہیں مل پاتی۔‘

لیکن جرمنی، سنگاپور اور سویڈن میں پراجیکٹس کے متعلق جوش و خروش کے باوجود تھری ڈی پرنٹنگ ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے اور قابلِ اعتماد کمرشل پراڈکٹ بننے سے کچھ دور ہے۔

بائیوزون کے کک کہتے ہیں کہ انھیں گوبھی کی پُری استعمال کرتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پرنٹرز کمرے کے بدلتے ہوئے درجہ حرارت میں مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے کھانے کی کوالٹی میں فرق آ سکتا ہے۔ اس لیے انھیں کھانا تیار کرنے میں کافی زیادہ وقت لگا۔ اگر آپ کسی بڑے نرسنگ ہوم میں رہائشیوں کو کھانا کھلا رہے ہوں تو مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

اس لیے اس پراجیکٹ کی سربراہی ایک اور کمپنی نے کی جو چاکلیٹ کی تھری ڈی پرنٹنگ پر کام کرتی ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کے مکینیکل انجینیئر جیفری لپٹن کہتے ہیں ’یہ قریب قریب وہ واحد جگہ ہے جس میں تھری ڈی پرنٹنگ کو کامیابی مل رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو جس سب سے بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے وہ بڑے پیمانے اور تیز رفتاری سے کھانا پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کون سا کھانے والا مادہ پرنٹ ہو سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ٹین کا ڈبہ اوپنر کی مدد سے کھولنے یا جار کے ڈھکن کو گھومانے میں مشکلات کی وجہ سے ہی کئی معمر افراد کھانے کی مختلف قسمیں نہیں کھا پاتے

وہ کہتے ہیں ’ہر کھانا تھری ڈی فیبریکشن کے عمل سے نہیں گزارنا چاہیے اور نہ گزر سکتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں بڑے پیمانے پر روبوٹوک ککنگ ٹیکنالوجی سے انٹرفیس کی ضرورت ہے۔‘

خوش قسمتی سے عمر رسیدہ افراد کے لیے خوراک بہتر کرنے کے اور طریقے بھی ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ایسا عمر رسیدہ افراد کے کھانوں میں مونوسوڈیئم گلوٹامیٹ ڈال کے کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا جزو ہے جو ڈبے اور پراسیسڈ فوڈ میں ذائقہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے ان کے لعاب دہن کا بہاؤ اور بھوک بڑھ جاتی ہے۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کھانے کی ساخت کو بہتر بنانے سے بھی ان معمر افراد کو مدد ملتی ہے جن کو کھانے میں دشواری ہوتی ہے۔ کھانے کو نرم، نمی والا اور چھوٹے حصوں میں بنانا بھی اس سلسلے میں مدد کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آئرش ایگریکلچر ڈویلیپمنٹ ایجنسی چاول کی پروٹین اور دالوں کے آٹے کو بیف پیٹیز میں شامل کر کے اس کی ساخت بہتر بنانے کا تجربہ کر رہی ہے۔

لیکن کبھی کبھار تو خوراک تک پہنچنا ہی معمر افراد کی لیے ایک چیلنج ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آرتھرائٹس (جوڑوں کے درد) کے مریض کے لیے ٹین کا ڈبہ اوپنر کی مدد سے کھولنے یا جار کے ڈھکن کو گھومانے میں مشکلات کی وجہ سے ہی کئی معمر افراد کھانے کی مختلف قسمیں نہیں کھا پاتے۔ اگرچہ ایسی کوششیں بھی دیکھی گئی ہیں جہاں فوڈ پیکیجنگ معمر افراد کی سہولت کے مطابق بنائی جا رہی ہے۔

ان میں کاغذ کی پیکنگ شامل ہے جو آسانی سے پھاڑی تو جا سکتی ہیں لیکن کھانا تازہ ہی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ مرتبانوں پر آسانی سے گھومنے والا ڈھکن لگا ہوتا ہے، جسے روایتی ڈھکن کی نسبت آسانی سے کھولا جا سکتا ہے۔’ویکیوم سکن پیکیجنگ‘ بھی ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو پیکنگ میں کھانے کو پکانے، ٹرانسپورٹ کرنے، دوبارہ گرم کرنے اور پیش کرنے کی سہولت دیتی ہے۔

دوسرے طریقے بھی کام کر سکتے ہیں۔ سویڈن میں کئی نرسنگ ہومز کھانے سے پہلے سینامن بن بیک کرتے ہیں جس کی خوشبو بزرگ افراد میں کھانے سے پہلے ہی کھانے کے متعلق مثبت احساس پیدا کر دیتی ہے۔

سوبکو کہتی ہیں ’سویڈن کے گھروں میں سینامن رولز بنانا ایک پرانی روایت ہے۔ ہم ایسا اپنے بچوں کے لیے اور جب ہم اپنے گھر بیچتے ہیں ضرور کرتے ہیں۔ یہ بزرگوں میں پرانی یادیں لاتا ہے۔ ان کے لیے بھوک محسوس کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن اچھی خوشبو ان میں یہ احساس لا سکتی ہے۔ اور انھیں دودھ کے ساتھ کھانا ان کی بچپن کی یادوں میں شامل ہے۔‘