ممبئی کے ڈبے والے جو 125 برس سے شہر کو کھانا کھلا رہے ہیں

  • ایڈ جینٹ
  • بی بی سی فیوچر کے لیے
،تصویر کا کیپشن

یہ ڈبے والے زیادہ تر اپنے صارفین کے گھروں میں پکنے والے کھانے کو لنچ کے وقت ان کے دفتر تک پہنچاتے ہیں

کرن گوانڈے روزانہ صبح سائیکل پر ممبئی کے ایک محلے کا چکر لگاتے ہیں تاکہ اپنے گاہکوں سے لنچ باکس جمع کر سکیں۔ یہ لنچ باکس ڈبے کہلاتے ہیں اور انھیں جمع کر کے لوگوں تک پہنچانے والوں کو 'ڈبے والے' کہا جاتا ہے۔

اگلے چند گھنٹوں میں گوانڈے اور ان کے ساتھی ممبئی کی مصروف سڑکوں پر ایک جگہ سے دوسری جگہ آتے جاتے دکھائی دیں گے اور دفتروں میں کام کرنے والے لاکھوں لوگوں کو ان ڈبوں میں گھر کا بنا ہوا کھانا پہنچائیں گے۔

گذشتہ چند برسوں سے ڈلیورو اور اوبر ایٹس جیسی کمپنیاں بہت مشہور ہوئی ہیں جو اپنے صارفین سے آن لائن آرڈر لے کر کھانا گھروں تک پہنچاتی ہیں۔ ان کمپنیوں نے موبائل ایپس سے حاصل ہونے والی سہولیات کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

ایسی کمپنیاں اب انڈیا میں بھی مقبول ہو رہی ہیں۔ لیکن ڈبے والے یہ کام گذشتہ 125 سال سے کر رہے ہیں اور اس کاروبار میں نئے آنے والوں کو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔

کھانے کے ڈبے پہنچانے والوں کا یہ نظام پانچ ہزار کارکنوں پر مشتمل ہے۔ اس نظام میں مینیجمنٹ کی دو سطح ہیں اور اسے دنیا کا نقل و رسد کا موثر ترین نظام مانا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ورجن ایٹلانٹک ائیر لائن کے مالک سر رچرڈ برینسن نے بھی اِس نظام کے راز سمجھنے کے لیے وہاں ایک دن گزارا۔

ڈیلیورو اور اوبر ایٹس یا ان جیسی انڈیا کی مقامی کمپنیوں کی طرح یہ ڈبے والے ریستورانوں یا ہوٹلوں کا کھانا نہیں پہنچاتے بلکہ یہ گھر کا پکا ہوا کھانا پہنچاتے ہیں۔ یہ ڈبے والے زیادہ تر اپنے صارفین کے گھروں میں پکنے والے کھانے کو لنچ کے وقت ان کے دفتر تک پہنچاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا کیپشن

کھانے کے ڈبے پہنچانے والوں کا یہ نظام پانچ ہزار کارکنوں پر مشتمل ہے۔ اس نظام میں مینیجمنٹ کی دو سطح ہیں اور اسے دنیا کا نقل و رسد کا موثر ترین نظام مانا جاتا ہے

ممبئی سٹاک ایکسچینج میں کام کرنے والے ایک شخص کی اہلیہ نے اپنے شوہر کے دفتر تک گھر کا پکا ہوا کھانا پہنچانے کے لیے ایسے ہی ایک ڈبے والے شیوجی ساونت کی خدمات حاصل کی ہیں۔

’ہمیں موبائل ایپ پسند نہیں ہیں۔ ہم اِس شخص کو بہت عرصے سے جانتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ یہ صحیح کام کرے گا۔'

یہ سروس نہ صرف قابلِ اعتماد ہے بلکہ سستی بھی ہے۔ پورے مہینے کھانے کے ڈبے پہنچانے کے صرف 800 روپے یعنی تقریباً 10 پاؤنڈ۔ ممبئی کے ڈبے والوں کے ایک کوآرڈینیٹر سوبودھ سینگل کا کہنا ہے کہ لوگوں کی نظر میں دفتر میں بیٹھے بیٹھے گھر کا کھانا مل جانا ایک بڑی سہولت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری یہ سروس ایک سکیورٹی گارڈ سے لے کر اعلیٰ ترین افسر تک سب کے لیے ہے۔‘

زیادہ تر ڈبے والے اپنے ڈیجیٹل حریفوں کو فوراً ہی رد کر دیتے ہیں۔ گوانڈے کہتے ہیں کہ ممبئی میں ڈبے والے صرف ایک ہیں۔ ’ہمارا اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ وہ اس طرح کی سروس نہیں چلا سکیں گے جیسی ہم مہیا کرتے ہیں۔‘

ڈبے والوں کی سروس بہت سستی اور کارکردگی بہت اچھی ہے۔ امریکہ کے ہارورڈ بزنس سکول کی سنہ 2010 کی تحقیق میں اِسے 'سکس سگما' کا گریڈ دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ ڈبے والے دس لاکھ میں سے صرف تین عشاریہ چار غلطیاں کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ روزانہ تقریباً دو لاکھ صارفین کو کھانے کے ڈبے پہنچاتے ہوئے ان سے ایک سال میں 400 کے قریب غلطیاں ہوتی ہیں یعنی ڈبا کھو جاتا ہے یا پہنچانے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

امریکہ کے ہارورڈ بزنس سکول کی سنہ 2010 کی تحقیق میں اِسے 'سکس سگما' کا گریڈ دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ ڈبے والے دس لاکھ میں سے صرف تین عشاریہ چار غلطیاں کرتے ہیں

اِس کام میں وقت کی پابندی انتہائی اہم ہے۔ لنچ باکس کو صارف تک روزانہ دوپہر ایک بجے تک پہچنا لازمی ہے۔ کھانا پہنچانے میں تین گھنٹے تک کا وقت لگتا ہے۔ سوبودھ سینگل کہتے ہیں کہ ڈلیوری میں تاخیر سے پورا شہر متاثر ہوتا ہے۔ ان ڈبے والوں کو شہریوں اور پولیس والوں کا تعاون بھی حاصل ہوتا ہے۔

’اگر آپ سڑک پر کسی ڈبے والے کو آتا دیکھتے ہیں تو آپ فوراً اسے راستہ دیں گے۔‘

سینگل نے بتایا کہ اس نظام میں تاخیر سے بچنے کے طریقے بھی وضع کیے گئے ہیں۔ اگر ڈلیوری کا وقت ایک بجے ہے تو ڈبے والے کا ہدف بارہ بجے ہو گا چاہے اس کی منزل صرف 15 منٹ کے فاصلے پر ہی کیوں نہ ہو۔ ’اس طرح غلطی کی صورت میں اسے ٹھیک کرنے کا وقت بھی مل جاتا ہے۔‘

ہر 15 سے 20 ڈبے والوں کے لیے ایک متبادل ڈبے والا بھی موجود ہوتا ہے تا کہ اگر ان میں سے کسی کو دیر ہو جائے تو دوسرا ڈبے والا یہ ذمہ داری پوری کر سکے۔ اس کام میں وقت کی سخت پابندی کے باوجود زیادہ تر ڈبے والے حیران کن طور پر پُرسکون نظر آتے ہیں، وہ آپس میں ہنسی مذاق اور بات چیت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پونے ایک بجے ایک ڈبے والا اپنی سائیکل پر تیزی سے اور شور مچاتے ہوئے آفس میں داخل ہوا۔ سینگل نے کہا کہ اگر آپ پریشانی کے شکار کسی ڈبے والے کو دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ دیکھیے۔ 'یہ ڈبے والا اپنے لحاظ سے دیر سے پہنچا ہے لیکن گاہک کو شاید اس بارے میں کبھی کچھ معلوم ہی نہیں ہو گا۔‘

'ان لوگوں کا پیچھا کرنا ایک محنت طلب کام ہے۔ کبھی کبھی میرا دھیان بٹ جاتا ہے اور میں پلٹ کر اس گروپ کو دیکھتا ہوں جس کی میں نگرانی کر رہا ہوں تو وہ غائب ہو چکا ہوتا ہے۔‘

ہر ڈبے والے کا اپنا ایک علاقہ ہوتا ہے جہاں سے اسے ڈبے لینے اور پہنچانے ہوتے ہیں۔ صبح وہ پیدل یا سائیکل پر اپنے علاقے کا دورہ کرتے ہیں اور اوسطاً 30 ڈبے جمع کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان ڈبوں کو مقامی آفس یا ریلوے سٹیشن پر الگ الگ کیا جاتا ہے اور ہر ڈبے والا ٹرین پر سوار ہو جاتا ہے تاکہ اپنے اس علاقے تک پہنچ سکے جہاں اسے یہ ڈبے پہنچانے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

ہر 15 سے 20 ڈبے والوں کے لیے ایک متبادل ڈبے والا بھی موجود ہوتا ہے تاکہ اگر ان میں سے کسی کو دیر ہو جائے تو دوسرا ڈبے والا یہ ذمہ داری پوری کر سکے

ٹرین کے سفر کے اختتام پر شہر بھر سے آنے والے ڈبوں کی ایک مرتبہ پھر جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور انھیں اپنی منزلوں کے حساب سے الگ الگ کر کے سائیکلوں پر لاد دیا جاتا ہے۔

اس سارے نظام کا انحصار حرفی ہندسوں والے خفیہ کوڈز پر ہوتا ہے جو ہر لنچ باکس پر کنندہ ہوتے ہیں۔ ان کوڈز کو دوسرے لوگ نہیں سمجھ سکتے لیکن تمام ڈبے والے انھیں با آسانی سمجھتے ہیں۔

ڈبے والوں کے اپنے اس کام کے ساتھ لگاؤ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں معاوضہ اچھا ملتا ہے۔ تقریباً 12 ہزار روپے ماہانہ انڈیا میں کسی غیر تربیت یافتہ مزدور کے لیے ایک اچھی رقم ہے۔ اس کام کی شہرت کی وجہ سے ڈبے والے ایک طرح کا فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔

اِس کے علاوہ ڈبے والوں کو موبائل فون کے رعایتی پیکچ بھی مل جاتے ہیں جبکہ کچھ تنظیمیں جو اس کام کے ساتھ اپنا نام جوڑنا چاہتی ہیں وہ ڈبے والوں کے بچوں کی سکالرشپ کا بھی انتظام کرتی ہیں۔ ڈبے والے ایک کوآپریٹیو کمپنی کے طور پر کام کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ تمام ارکان برابر کے حصے دار ہیں۔

ڈبے والوں کے اپنے کام کے ساتھ لگن کی دوسری وجوہات بھی ہیں۔ ان ڈبے والوں کا تعلق واکاری برادری سے ہے جو ہندوؤں کے ایک بھگوان ویتھالہ کی پوجا کرتے ہیں۔ ویتھالہ کی تعلیمات کے مطابق کھانا دینا بہترین کاموں میں سے ایک ہے۔

سینگل نے بتایا کہ 'ڈبے والے کہتے ہیں کہ ہمیں روحانیت کے راستے پر چلنے کا سنہری موقع مل رہا ہے جبکہ ساتھ ہی ہم اپنی روزی روٹی بھی کما رہے ہیں۔'

دوسری جانب موبائل ایپس کے ذریعے کھانے آرڈر کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، تو کیا ڈبے والے اس کا مقابلہ کر پائیں گے۔

ایک امریکی کمپنی کے انڈیا میں پارٹنر پنکج جین کہتے ہیں کہ کھانا پہنچانے کا کام انڈیا میں کاروبار کرنے والوں کی ایسی نئی نسل کی نظر میں ہے جو ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں۔ لیکن ان کے خیال میں ان لوگوں کو ابھی بہت کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

پنکج جین کا کہنا ہے کہ ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ کپمنیاں سمجھتی ہیں کہ سلیکون ویلی سے بزنس ماڈل کو لا کر انڈیا میں بالکل ویسے ہی قابلِ عمل بنایا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

پنکج جین کا کہنا ہے کہ کھانے سے متعلق یہ جدید کمپنیاں ڈبے والوں کے بنیادی طریقۂ کار سے سیکھ سکتی ہیں

'اکثر کپمنیاں ترسیل کا قابلِ بھروسہ نیٹ ورک بنانے اور ایک مؤثر کاروباری منصوبہ بنانے کے بجائے مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کے لیے نئی نئی موبائل ایپس سامنے لا رہی ہیں اور رعایتی داموں کی پیشکش کر رہی ہیں۔'

پنکج جین کا کہنا ہے کہ کھانے سے متعلق یہ جدید کمپنیاں ڈبے والوں کے بنیادی طریقۂ کار سے سیکھ سکتی ہیں۔ ’میرے خیال میں انڈیا میں اب فوڈ ڈیلیوری کے کاروبار کا اگلا مرحلہ یہ ہے کہ ڈبے والے ماڈل میں ٹیکنالوجی شامل ہو جائے۔‘

فوڈ ڈیلیوری کا کاروبار کرنے والی دوسری مقامی کمپنیاں بھی ڈبے والوں کے طریقۂ کار سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مثلاً رنر نامی کمپنی دفاتر اور گھروں تک کھانے پہنچانے کے لیے اسی ماڈل پر ٹیکسی سروس اوبر کے ذریعے عمل کر رہی ہیں۔ کمپنی نے 200 کے قریب ڈبے والوں کی جز وقتی خدمات حاصل کی ہیں کہ وہ لنچ میں ڈبے پہنچانے کے کام سے فارغ ہونے کے بعد کمپنی کے لیے کام کریں۔

رنر نے ڈبے والوں سے ایک سبق یہ بھی سیکھا ہے کہ ممبئی میں کن راستوں پر چلنا ہے۔ شہر کے بارے میں ڈبے والوں کا علم گوگل میپس سے اس لحاظ سے بہتر ہے کہ ان لوگوں کو ٹریفک کے بہاؤ کے بارے میں معلوم ہے یعنی کس وقت کہاں پر ٹریفک پھنسا ہوا ہوتا ہے تو کون سے متبادل راستے اختیار کیے جائیں۔

جبکہ گوگل میپس نے شہر کو محلوں کے حساب سے تقسیم کیا ہوا تو ہے لیکن وہ ٹریفک کو مدِ نظر نہیں رکھتا۔

رنر کمپنی کے شریک بانی اور سی ای او موہت کمار کہتے ہیں کہ کسی دوسرے نظام میں شہر کے بارے میں ایسے اعداد و شمار میسر نہیں ہیں۔ 'اس کی وجہ سے ہمیں صارفین تک کم وقت میں کھانا پہنچانے میں بہت مد ملی ہے۔'

اس کے علاوہ رنر نے بنگلور شہر میں بڑے بڑے دفاتر میں لنچ کے وقت کھانا پہنچانے کا کام تجرباتی بنیادوں پر شروع کیا ہے جس کی وجہ سے یہ کمپنی ڈبے والوں کے ساتھ براہ راست مقابلے پر آ سکتی ہے۔

موہت کمار سمجھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی سے ڈبے والوں کو کافی مدد مل سکتی ہے۔ ان کے خیال میں مقامی معلومات اور نقشوں کی ٹیکنالوجی کا ملاپ کھانا پہنچانے کے نظام کو زیادہ مؤثر اور متحرک بنا سکتا ہے۔

ڈبے والے بھی نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ وہ انڈیا میں ای کامرس کی بڑی کمپنی فلپ کارٹ سے آخری وقت میں آنے والے آرڈر کو مکمل کرنے سے متعلق بات کر رہے ہیں۔ جبکہ ان کا ایک گروپ 'را پریسری' نامی کمپنی سے مذاکرات کر رہا ہے۔

ڈبے والوں کے کوآرڈینیٹر سوبودھ سینگل کہتے ہیں کہ نئی صورتحال کی وجہ سے ڈبے والوں کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مزید کمپنیاں بھی اپنے کھانے پینے کی چیزیں صارفین تک پہنچانے کے لیے ڈبے والوں کی خدمات حاصل کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ڈبے والوں کی اوسط آمدنی 12 ہزار سے 20 ہزار تک پہنچ رہی ہیں۔

تاہم سینگل سمجھتے ہیں کہ ڈبے والوں کے کام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ان کا خیال ہے کہ اس کام کے ساتھ ڈبے والوں کے روحانی رشتے کی وجہ سے انھیں ہمیشہ دوسروں پر فوقیت رہے گی۔

'نئی کمپنیاں اپنے صارفین کو اچھی پیشکشیں کرتی ہیں لیکن ان کی دلچسپی صرف مارکیٹ پر قبضہ کرنے میں ہے۔ جبکہ ڈبے والوں کے پاس یہ کام کرنے کی دوسری وجوہات بھی ہیں۔ ان کے لیے اپنے صارفین کی خدمت کرنے کا مطلب خدا کی خدمت کرنا ہے۔'