لاک ڈاؤن سے شہد کی مکھیوں کو کیسے فائدہ ہو رہا ہے؟

  • ایزابل گریٹسن
  • بی بی سی فیوچر
شہد کی مکھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس برس موسم بہار میں جہاں انسان کورونا کی وبا کے باعث اپنے گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے تھے، وہی جنگلی حیات کو بھی اس دوران کم انسانی مداخلت، آلودگی پیدا کرنے والے ذرات اور ٹریفک کا سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیل کے شہر حائفہ میں پہلے سے زیادہ جنگلی خنزیر چلتے پھرتے دکھائے دیے تو دوسری جانب آبنائے باسفورس میں بھی ڈولفن کی تعداد زیادہ نظر آئی، اس کی ایک اہم وجہ ترکی سے اس مصروف بحری راستہ پر بحری جہازوں کی آمدو رفت کا کم ہونا تھا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس لاک ڈاؤن کے دوران جس جانور کی حیات نو کو واضح طور پر دیکھا گیا ہے وہ ہے شہد کی مکھی۔ دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ اس کی وجہ کیڑے مار ادویات کا استعمال، آلودگی اور درختوں اور پودوں کی کمی ہے

شہد کی مکھیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے کے سربراہ گل پرکنز کا کہا ہے کہ 'یہ مخلوق جو ہم کھاتے ہیں اور جس طرح ہمارے دیہات دکھتے ہیں اس کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ ہمیں ایک مکمل ماحولیاتی نظام مہیا کرتیں ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

شہد کی مکھیوں کے بنا نہ صرف دنیا بہت مخلتف ہوتی بلکہ ہماری زندگیاں بھی یکسر مختلف ہوتیں۔شہد کی مکھیاں مختلف پودوں اور پھولوں سے زرگل منتقل کرنے والی دنیا کی سب سے اہم مخلوق ہے اور جو خوراک ہم کھاتے کا اس کا ایک تہائی اور تقریباً 80 فیصد پھولوں کو یہ کھاد ڈالتی ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈینگز کے مطابق شہد کی مکھیوں اور دیگر زرگل منتقل کرنے والے حشرات کی عالمی معیشت میں تقریباً 150 ارب ڈالرز کا حصہ ڈالتے ہیں اور برطانوی معیشت میں ہر برس یہ حصہ 850 ملین ڈالرز تک کا ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ کے ایک مطالعے کے مطابق شہد کی مکھیوں اور دیگر آلودگی پھیلنے والے کیڑوں کی عالمی معاشی قیمت پر تقریباً 120 بلین ڈالر ہے اور یہ ہر سال برطانیہ کی معیشت میں تقریباً 850 ملین ڈالر کا حصہ ڈالتی ہے۔

عالمی سطح پر کورونا کے باعث لگائے گئے لاک ڈاون کا ماحولیات پر سب سے بڑا اثر کم فضائی آلودگی کی صورت میں پڑا ہے۔

سنہ 2016 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق کاروں سے نکلنے والے آلودہ زرات کی کمی شہد کی مکھیوں کو اپنی خوراک تلاش کرنے میں آسانی اور مدد دیتی ہیں کیونکہ جب فضائی آلودگی بڑھ جاتی ہے تو ان کی دور سے پھولوں کی خوشبو سنونگھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

آلودہ ذرات پھولوں سے نکلنے والی خوشبو کی مالیکیولیز کو توڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے شہد کی مکھیوں کو اپنی خوراک تلاش کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انھیں اکثر اپنی خوراک کی تلاش اور واپس اپنے گھونسلوں میں لانے کے لیے طویل مسافت طے کرنا پڑتی ہے۔

یونیورسٹی آف لندن کی رائل ہولووے شعبہ ارتقائی ماحولیات کے پروفیسر مارک براؤن کا کہنا ہے کہ 'کم آلودہ ماحول میں شہد کی مکھیاں کم مسافت سے زیادہ خوراک اکھٹا کرنے میں کامیاب رہتی ہیں جو انھیں زیادہ عرصہ تک جوان رہنے میں مدد دیتا ہے۔'

سڑکوں پر کم کاروں کا مطلب شہد کی مکھیوں کا فائدہ ہے۔ مارک براؤن کہتے ہے کہ عالمی سطح پر لاک ڈاؤن کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی کم تعداد کی وجہ سے شہد کی مکھیوں کی کم ہلاکتوں کا امکان ہے۔

سنہ 2015 میں کینیڈین محققین کے ایک اندازے کے مطابق شمالی امریکہ میں ہر سال تقریباً 24 ارب مکھیاں اور بھڑیں سڑکوں پر کاروں کے باعث ہلاک ہو جاتی ہیں۔

اور جیسا کہ کورونا وائرس کے باعث برطانیہ کی کونسلوں نے اخراجات میں کمی کی ہے اور لہذا وہ سڑکوں کے کنارے بنی گرین بیلٹس کی دیکھ بھال نہیں کر پا رہے تو یہ شہد کی مکھیوں کے لیے سرسبز مسکن بن چکی ہے۔

پروفیسر براؤن کا کہنا ہے کہ 'ان گرین بیلٹس میں غیر متوقع طور پر پھولوں کی افزائش کا ایک فائدہ شہد کی مکھیوں کو بھی ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ انھیں غیر متوقع طور پر خوراک میسر آئے گی جو مکھیوں کی آبادی کو بڑھاوا دے گی۔'

ماحولیات کے ماہرین برطانیہ میں مقامی کونسلوں سے 'مت کاٹو، بلکہ انھیں بڑھنے دو' جیسے نعروں کے ذریعے یہ کہہ رہے ہیں کہ لوگ سڑک کنارے ان گرین بیلٹس کو چند برسوں کے لیے بڑھنے دیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

براؤن کے خیال میں شاید کونسلز کو لاک ڈاؤن کے دوران ان گرین بیلٹس کو نہ کاٹنے کے معاشی اور ماحولیاتی فوائد کا اندازہ اب ہوا ہے اور وہ اس کو پابندیاں ختم ہونے کے بعد بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔

تاہم جنگلی مکھیوں کی زیادتی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ شہد کی کشید کے لیے اچھا وقت ہے، کمرشل سطح پر شہد کی مکھیاں پالنے والے اور کسان جو اپنی فصلوں کی زرگل منتقلی کا انحصار ان مکھیوں ہر کرتے ہیں سفری پابندیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔

مکھیوں کی افزائش کی عالمی فیڈریشن اپیمونڈیا کی صدر جیف پیٹس کے مطابق کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک میں کمرشل بنیادوں پر شہد کی مکھیوں کی افزائش کرنے والوں کا زیادہ تر انحصار موسمی مزدورں اور دنیا بھر سے شہد کی مکھیوں کی رانی کی درآمد پر ہوتا ہے تاکہ ان کی آبادی میں اضافہ کیا جا سکے۔

پیٹس کہتے ہیں کہ جیسا کے برطانیہ میں بہت سی شہد کی مکھیوں کی رانی اٹلی سے درآمد کی جاتی ہیں۔ عمومی طور پر ان کی درآمد بذریعہ ہوائی جہاز ہوتی ہے لیکن کیونکہ کہ کورونا کے باعث تمام پروازیں بند ہیں تو انھیں براعظم بھر سے بذریعہ سڑک لایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر شہد کی مکھیاں پالنے والوں کو شہد تیار کرنے کے لیے مزدور نہ ملے تو پھر ان مکھیوں کی بہت بھیڑ بڑھ جائے گی۔'

یعنی شہد کی مکھیاں وقت سے پہلے ہی تقسیم ہو کر نئے گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گی اور یہ شہد کی مکھیوں کی افزائش کرنے والوں کی لیے ایک نئی مشکل پیدا کر دے گا۔

اس کے کسانوں پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ کمرشل بنیادوں پر شہد تیار کرنے والے مکھی کے چھتوں پر اکثر فصلوں کی پولینیشن یعنی زرگل منتقلی کے لیے انحصار کیا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ زراعت کے مطابق امریکا میں شہد کی مکھیاں تقریباً 15 ارب ڈالرز کی فصلوں کی زرگل منتقلی کا عمل کرتیں ہیں۔ ان فصلوں میں بادام، ترکاری اور خربوزوں کی فصل شامل ہیں۔

کیلیفورنیا کی بادام کی فصل کو ہی لے لیں، اس فصل کی پیداوار کے لیے تقریباً 20 لاکھ شہد کی مکھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ بادام کے درختوں پر فروری اور مارچ میں پھول اگتے ہیں اور اپریل تک ان پھولوں کا رس چوسنے کے لیے آنے والے کمرشل بنیادوں پر افزائش کیے جانے والے شہد کی مکھیوں کے چھتوں کو ملک سے دوسرے علاقوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ وہاں مختلف فصلوں کی زرگل منتقلی کر سکیں۔

اس برس ان کی منتقلی میں زیادہ وقت لگا ہے کیونکہ بہت سے ڈرائیورز کو ریاستی سرحد عبور کرتے وقت کورونا کی وبا کے پیش نظر کہا گیا کہ وہ 14 روز کے قرنطینہ میں رہیں۔

پیٹس کہتے ہیں کہ ’یہ تھوڑا پریشان کن ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگرچہ شہد کی مکھیوں کے لیے عارضی طور پر اقدامات تلاش کیے جا سکتے ہیں، لیکن سفری پابندیوں نے ماحولیات کا تحفظ کرنے والوں کے مکھیوں کے حالات کے متعلق اعداد و شمار اکٹھا کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔

عمومی طور پر سائنسدانوں کی جانب سے بڑے حشرات کے متعلق سروے پر موسم بہار میں کیا جاتا ہے۔ تاہم اس برس برطانیہ کی ببمبل بی کنزرویشن ٹرسٹ نے مکھیوں کی گنتی اور تلاش کی واک اور ملک بھر میں رضاکاروں کی جانب سے شہد کی مکھیوں کی گنتی کے سروے کو معطل کر دیا تھا۔

پرکنز کا کہنا ہے ’یہ کوئی ضروری سفر نہیں تھی لہذا ہم نے لوگوں سے کہا کہ آپ اس برس یہ مت کریں تاہم اس برس ہم ملک میں شہد کی مکھیوں کے اعدادو شمار اکٹھا نہیں کر سکے ہیں۔‘

اس کی بجائے اس برس ماہرین ماحولیات اور تحفظ گروپوں نے وسیع پیمانے پر عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس دوران سائنسی اعداد و شمار جمع کرنے میں ان کی مدد کریں۔

برطانیہ کے زرگل منتقلی مانیٹرنگ پروگرام کی روح رواں اور ماہر ماحولیات کلائئر کارول کے مطابق ایسے میں جب آپ کی سرکاری جائزہ معطل کیے جا چکے ہوں 'شہریوں کی سائنس' کے ذریعہ اعداد شمار جمع کرنا اہم ہیں۔

اس سائسنی جائزے کے طریقہ کار میں کوئی بھی شمولیت اختیار کر سکتا ہے، بس اس کو پھول اور کیڑے کے درمیان وقت کی گنتی کی سمجھ ہوں جسے فلاور انسکیٹ ٹائمڈ کاؤنٹ کہا جاتا ہے۔

اس طریقہ کار میں آپ نے اپنے باغیچے میں پھولوں کے ایک چھوٹے گچھے کی دس منٹ تک نگرانی کرنی ہے اور دیکھنا ہے کہ اس عرصے کے دوران آپ نے ان پھولوں پر کتنی مکھیوں کو آنے جاتے دیکھا ہے اور ان کی تعداد کو ایک آن لائن فارم پر لکھ کر جمع کر دینا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کارول کا کہنا تھا کہ 'یہ سروے کوئی بھی وہ شخص کر سکتا ہے جس کے باغیچے میں چند پھول دار پودے ہیں اور اس کے پاس کچھ وقت ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اس برس یہ شہری سائنس کی مہم واقعی کافی مقبول ہو رہی ہے۔'

اپریل میں 250 سروے آن لائن جمع کروائے گئے جو کہ گذشتہ برس کے انھی دنوں کے مقابلے میں دگنے تھے۔

کارول کا کہنا ہے کہ' لاک ڈاؤن میں بیزار آئے افراد کو وقت گزاری کے لیے کچھ تعمیری کام مل گیا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کو ملک بھر سے ڈیٹا موصول ہوا ہے جو کہ اس سے بہت وسیع ہے جہاں تک اس سے قبل سائنسدانوں کی عمومی رسائی تھی۔

لہذا جہاں شہد کی مکھیوں کو آلودگی کم ہونے کی وجہ سے جہاں کچھ سکھ کا سانس آیا ہے وہی شہد کی مکھیوں کے ماہرین امید کرتے ہیں کہ شہد کی مکھیوں کے متعلق زیادہ آگاہی اور ان کے ساتھ عام افراد کا تعلق ان کے تحفظ کو بڑھاوا دے گا۔

تاہم دیگر ماحولیاتی تبدیلیوں کی طرح جو ہم دیکھ رہے ہیں شہد کی مکھیوں کو ملنے والے فوائد کا انحصار بھی اس چیز پر ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بھی یہ تبدیلیاں کتنی دیر تک قائم رہتی ہیں۔ جیسا کہ سڑکوں کے کنارے گرین بیلٹس کو اگنے دیا جائے، ٹریفک کا شور اور ٹریفک کو سڑکوں پر کم رکھا جائے اور ان کو برقرار رکھنا مشکل نہیں ہے۔

پرکنز کے نزدیک ایک تبدیلی جو لاک ڈاؤن کے بعد بھی قائم رہے گی وہ یہ ہے کہ لوگوں کا قدرت سے تعلق جڑ گیا ہے۔

'انھیں یہ احساس ہوا ہے کہ قدرت کے ساتھ کیسے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت منسلک ہے۔ خصوصاً شہد کی مکھیوں کے ساتھ جو خوبصورت اور بھنبناتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میں امید کرتی ہوں کہ یہ تعلق لاک ڈاؤن کے بعد بھی قائم رہے گا۔'