زی لینڈیا: وہ لاپتہ براعظم جس کو تلاش کرنے میں 375 سال لگ گئے

زی لینڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سائنسدانوں کو دنیا کا آٹھواں براعظم دریافت کرنے میں 375 سال لگے، جو سب کی نظروں کے سامنے ہونے کے باوجود بھی نظروں سے اوجھل رہا۔ یہ ایک ایسا معمہ ہے جس کا جواب مشکل ہے۔

یہ بات سنہ 1642 کی ہے جب ایبل تسمن ایک مشن پر تھے۔ وہ ایک تجربہ کار ڈچ ملاح تھے جن کی بڑی بڑی مونچھیں اور ٹھوڑی کے گرد بڑی سی داڑھی تھی۔ شراب کے نشے میں دھت ایک دن انھوں نے اپنے عملے میں سے کچھ کو پھانسی دینے کی کوشش کی۔ اُنھیں یقین تھا کہ جنوبی نصف کرہ میں ایک وسیع براعظم موجود ہے اور انھوں نے اسے ڈھونڈنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب دنیا کا وہ حصہ یورپی لوگوں کے لیے بڑی حد تک پراسرار تھا لیکن اُن کا غیرمتزلزل ایمان تھا کہ وہاں زمین کا ایک بڑا ٹکڑا ہونا چاہیے جس کو اُنھوں نے پہلے ہی سے ٹیرا آسٹرالس کا نام دے رکھا تھا جو شمال میں ان کے اپنے براعظم کو متوازن رکھنے کے لیے ضروری تھا۔ یہ خیال قدیم رومن زمانے سے قائم تھا لیکن اس خیال کو اب پہلی بار پرکھا جا رہا تھا۔

اور یوں 14 اگست کو تسمن انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں اپنی کمپنی کے اڈے سے روانہ ہوئے اور دو چھوٹے جہازوں کے ساتھ مغرب کی طرف رخ کیا، پھر جنوب اور پھر مشرق کی طرف اور بالآخر نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے پر اُن کا سفر اختتام پذیر ہوا۔

مقامی ماؤری لوگوں کے ساتھ اُن کا پہلا رابطہ زیادہ اچھا نہیں رہا۔ وہاں پہنچنے کے دوسرے ہی روز کئی مقامی افراد ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہوئے اور ایک دوسری کشتی کو ٹکر ماری جو ڈچ بحری جہازوں کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ اس واقعے میں چار یورپی افراد کی موت ہوئی۔

بعد ازاں یوروپی افراد نے 11 چھوٹی کشتیوں پر توپ کے گولے برسائے۔ یہ معلوم نہیں کہ جن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا وہ بچیں یا غرق ہو گئیں۔ 

یہ بھی پڑھیے

اور یوں اس مشن کا اختتام ہوا۔۔۔ تسمن نے اس بدقسمت مقام کا نام  ’مرڈرز بے‘ یعنی خلیجِ قاتل رکھا۔ وہ کئی ہفتوں کے بعد اس نئی سرزمین پر قدم رکھے بغیر واپس گھر لوٹ گئے حالانکہ اُن کو یقین تھا کہ انھوں نے واقعی عظیم جنوبی براعظم دریافت کر لیا ہے۔

(اس وقت تک، لوگوں کو آسٹریلیا کے بارے میں پہلے ہی علم ہو چکا تھا لیکن یورپی باشندوں کا خیال تھا کہ یہ وہ افسانوی براعظم نہیں جس کی وہ  تلاش کر رہے تھے۔ بعد میں جب انھوں نے اپنا خیال بدل لیا تو اس کا نام  ٹیرا آسٹرالس رکھا۔‘

لیکن تسمن بالکل ٹھیک سوچ رکھتے تھے۔ ایک لاپتہ براعظم واقعی ایک حقیقت تھی۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشن

ایبل تسمن نے ممکنہ طور پر عظیم جنوبی براعظم کو دریافت کیا لیکن اُن کے علم میں یہ بات نہیں تھی کہ اس کا 94 فیصد حصہ زیر آب ہے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سنہ 2017 میں ماہرین ارضیات کا ایک گروپ اُس وقت شہ سرخیوں کی زینت بنا جب انھوں نے زی لینڈیا کی دریافت کا اعلان کیا۔ 1.89 ملین مربع میل (4.9 ملین مربع کلومیٹر) کا ایک وسیع براعظم جو مڈغاسکر سے چھ گنا بڑا ہے۔

اگرچہ دنیا کے انسائیکلوپیڈیا، نقشوں اور سرچ انجن کچھ وقت کے لیے اس بات پر قائل تھے کہ دنیا میں صرف سات براعظم ہیں مگر اس ٹیم نے پورے اعتماد کے ساتھ دنیا کو آگاہ کیا کہ یہ غلط ہے۔ اُن کے مطابق دنیا میں آٹھ براعظم ہیں اور اس تازہ ترین اضافے نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں کیونکہ یہ دنیا کا سب سے کم عمر، پتلا اور سب سے چھوٹا براعظم ہے۔ مشکل بس یہ ہے کہ اس کا 94 فیصدحصہ زیرِ آب ہے اور صرف چند ایک جزائر ہیں جن میں نیوزی لینڈ بھی شامل ہے جو سمندر کی گہرائیوں سے اُبھر کر سطح سمندر سے اوپر ہیں۔ یہ سب نظروں سے چھپے ہوئے نہیں تھے مگر اس طرف دھیان نہیں گیا۔

نیوزی لینڈ کے کراؤن ریسرچ انسٹیٹیوٹ جی این ایس سائنس کے ماہر ارضیات اینڈی ٹولوخ کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ایسی مثال ہے جس میں ایک بہت ہی واضح بات کو منظر عام پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔‘

اینڈی ٹولوخ اُس ٹیم کا حصہ تھے جنھوں نے سری لنکا کو دریافت کیا تھا۔

لیکن یہ تو ابھی شروعات ہے۔ چار سال بعد بھی یہ براعظم ہمیشہ کی طرح اب بھی پُراسرار ہے۔ اس کے راز 6560 فٹ (2 کلومیٹر) گھرائی میں پانی تلے محفوظ ہیں۔ یہ کیسے تشکیل پایا؟ اور یہ کتنا عرصہ زیر آب رہا؟

ایک کٹھن دریافت

درحقیقت زی لینڈیا کا مطالعہ کرنا ہمیشہ ہی سے مشکل رہا ہے۔

سنہ 1642 میں تسمن کے نیوزی لینڈ کو دریافت کرنے کے ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے بعد برطانوی نقشہ ساز جیمز کُک کو ایک سائنسی سفر پر جنوبی نصف کرہ روانہ کیا گیا تھا۔ انھیں حکام کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ زمین اور سورج کے درمیان وینس یا زہرہ کے گزرنے کا مشاہدہ کریں تاکہ حساب لگایا جا سکے کہ سورج کتنا دور ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشن

ممکنہ طور پر بدلتی ارضیات کی بدولت عجیب وغریب پرندے کیوی کی نسل مڈعاسکر کے ایک پرندے سے ملتی ہے

لیکن انھیں ایک مہر بند لفافہ بھی دیا گیا تھا، جس کے بارے میں ہدایت تھی کہ پہلا کام مکمل کرنے بعد اس لفافے کو کھولیں۔ اس میں جنوبی براعظم کو تلاش کرنے کا ایک خفیہ مشن دیا گیا تھا اور یہ بات قابل بحث ہے کہ وہ اس پر سے گزر کر نیوزی لینڈ پہنچنے تھے۔

زی لینڈیا کی موجودگی کے بارے میں اولین اشارے سکاٹ لینڈ کے طبیعات اور حیوانیات کے ماہر سر جیمز ہیکٹر نے 1895 میں جمع کیے جب وہ نیوزی لینڈ کے جنوبی ساحل پر واقع جزیروں کا جائزہ لینے کے سفر پر تھے۔ ارضیات کا مطالعہ کرنے کے بعد انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ نیوزی لینڈ ’ایک ایسی پہاڑی سلسلے کی باقیات ہیں جو ایک عظیم براعظم کے علاقے کی چوٹی ہے اور یہ علاقہ دور تک جنوب میں اور مشرق تک پھیلا ہوا ہے اور یہ اِس وقت زیر آب ہے۔‘

اس ابتدائی پیشرفت کے باوجود زی لینڈیا کی ممکنہ موجودگی کا علم مبہم رہا اور 1960 کی دہائی تک اس بارے میں بہت کم کام ہوا۔ جی این ایس سائنس کے ماہر ارضیات نک مورٹیمر کہتے ہیں ’اس میدان میں چیزیں آہستہ آہستہ ہوتی ہیں۔‘

پھر 1960 کی دہائی میں ماہر ارضیات نے آخر کار اس تعریف پر اتفاق کیا کہ براعظم کیا ہوتا ہے۔ وسیع پیمانے پر پھیلا ایک ارضیاتی علاقہ جس میں ایک بلندی والا علاقہ، مختلف قسم کے پتھر اور اس پر پرت یعنی پتھروں کی موٹی تہہ موجود ہو۔ اس کا بڑا ہونا بھی ضروری ہے۔ نک مورٹیمر کہتے ہیں کہ ’یہ صرف ایک چھوٹا سا ٹکڑا نہیں ہو سکتا۔‘

اس سے ماہرین ارضیات کو کچھ اشارے ملے، اگر وہ ثبوت اکٹھا کرسکیں تو وہ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ آٹھواں براعظم ایک حقیقت ہے۔

اس کے باوجود یہ مشن رک گیا۔ ایک براعظم کو دریافت کرنا مشکل اور مہنگا کام ہے اور مورٹیمر نے بتایا کہ اسے ڈھونڈنے کی کوئی جلدی بھی نہیں تھی۔ پھر 1995 میں امریکی جیو فزسسٹ بروس لوئنڈک نے ایک بار پھر اس خطے کو براعظم قرار دیا اور اسے زی لینڈیا کا نام دینے کی تجویز پیش کی۔ اینڈی ٹولوخ کے مطابق یہ وہ موقع تھا جب اسے دریافت کرنے کی کوششوں میں بہت تیزی آئی۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشن

تسمن کے بحری جہاز ماؤری قوم کے ساتھ خونریز تصادم کے بعد واپس لوٹ گئے مگر انھیں یقین تھا کہ انھوں نے افسانوی حیثیت رکھنے والے جنوبی براعظم کو حقیقت میں دریافت کر لیا ہے

اسی اثنا میں ’سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کی کنونشن‘ عمل میں آئی اور آخر کار اس کی وجہ سے ایک سنجیدہ تحریک پیدا ہوئی۔ اس کے مطابق ممالک اپنی قانونی ارضی کو اپنے مخصوص اقتصادی علاقے سے آگے تک پھیلاسکتے ہیں، جو ان کے ساحلوں سے 200 سمندری میل (370 کلومیٹر) آگے تک جاتا ہے، اور یوں اپنے ’براعظم کے پانی میں ڈوبے ہوئے کنارے یا کانٹیننٹل شیلف‘ پر دعویٰ کر سکتے ہیں جس میں تمام معدنیات اور تیل کے ذخائر بھی شامل ہیں۔

اگر نیوزی لینڈ یہ ثابت کرسکتا ہے کہ یہ ایک بڑے براعظم کا حصہ ہے تو وہ اپنے علاقے میں چھ گنا اضافہ کر سکتا ہے۔ اچانک اس علاقے کے جائزہ لینے کے لیے دوروں کے لیے کافی سرمایہ ملنے لگا اور آہستہ آہستہ شواہد جمع ہونے لگے۔  چٹانوں سے اکٹھے کیے گئے ہر نمونے کے ساتھ زی لینڈیا کا کیس مضبوط ہوتا گیا۔

کسی منطقی نتیجے تک پہنچنے میں تیزی سیٹلائٹ سے اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار سے آئی جن سے کرہ ارض کے مختلف حصوں میں سمندر کی گہرائی میں پتھروں کی تہوں یا پرت پر کشش ثقل میں تغیرات کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے زی لینڈیا واضح طور پر غیر ہموار زمین کا ٹکڑا دکھائی دیتا ہے جو تقریباً اتنا ہی بڑا ہے جتنا آسٹریلیا ہے۔ 

،تصویر کا ذریعہGNS Science

،تصویر کا کیپشن

سیٹلائیٹ ڈیٹا کے زریعے زی لینڈیا کے بر اعظم کو دیکھا جا سکتا ہے جو ہلکے نیلے رنگے کے تکون کی صورت میں آسٹریلیا سے مشرق کی طرف دکھائی دیتا ہے

بلآخر جب اس براعظم کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے دنیا کے سب سے بڑے سمندری علاقے کو منظر عام پر لا کھڑا کیا۔ مورٹیمر کے نزدیک یہ بہت ہی زبردست بات ہے۔ اگر آپ اس کے بارے میں سوچیں تو کرہ ارض کے ہر براعظم پر مختلف ممالک موجود ہیں (لیکن) زی لینڈیا پر صرف تین مختلف علاقے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے علاوہ اس براعظم پر نیو کیلی ڈونیا کا جزیرے ہے جو ایک فرانسیسی کالونی ہے اور اپنی زبردست ساحلی جھیل کے لیے مشہور ہے اس کے علاوہ لارڈ ہو آئی لینڈ اور بالز پیرامڈ کے چھوٹے چھوٹے علاقے ہیں۔

ایک پراسرار علاقہ

زی لینڈیا اصل میں گونڈوانا کے قدیم عظیم براعظم کا حصہ تھا جو تقریبا 550 ملین سال قبل بنا تھا اور جنوبی نصف کرہ کی تمام اراضی اس میں اکٹھی ہوئی تھی۔ مشرق کی جانب اس نے ایک کونے پر قبضہ کیا ہوا تھا جہاں اس کی سرحدیں متعدد دیگر سے ملحق تھیں بشمول مغربی انٹارکٹیکا کے آدھے حصے اور تمام مشرقی آسٹریلیا کے۔

ٹولوخ کا کہنا ہے کہ بعدازاں تقریبا 105 ملین سال قبل ’ایک ایسے عمل کی وجہ سے جس کو ہم ابھی تک مکمل طور پر نہیں سمجھ سکے ہیں زی لینڈیا علیحدہ ہو کر دور ہوتا چلا گیا۔‘

کانٹینینٹل کرسٹ یا براعظمی پرت عام طور پر 40 کلومیٹر گہری ہوتی ہے۔ سمندری پرت سے قدرے گہری جو 10 کلو میٹر کے قریب ہوتی ہے۔ جیسے جیسے تناؤ بڑھا زی لینڈیا اتنا زیادہ کھنچتا چلا گیا کہ اس کی پرت یعنی پتھروں کی موٹی تہہ صرف 20 کلومیٹر (12.4 میل) گہرائی تک رہ گئی۔ بلآخر یہ کم گہرائی والا براعظم ڈوب گیا۔ اگرچہ عام سمندری پرت کی سطح تک تو نہیں مگر یہ سمندر کے نیچے غائب ہو گیا۔

پرت کی گم گہرائی اور زیر آب ہونے کے باوجود، ماہرین ارضیات جانتے ہیں کہ یہ ایک براعظم ہے اور اس کی وجہ اس پر پائے جانے والے پتھر ہیں۔ براعظمی پرت آتشیں چٹان، میٹامورفک اور سیڈیمینٹری راک یعنی رسوبی چٹانوں سے بنی ہوتی ہے۔ جیسے گرینائٹ، سکسٹ اور لائیم سٹون یعنی چونا پتھر جب کہ سمندری فرش عام طور پر صرف باسالٹ یا سنگ سیاہ جیسی آتشیں چٹان کا ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جب گونڈوانا کا عظیم براعظم ٹوٹا تو اس کے ٹکڑے دنیا بھر میں پھیل گئے اور اس کے بہت سے قدیم پودے اب بھی آسٹریلیا کے ڈوریگو جنگل میں اُگتے ہیں

لیکن ابھی بھی بہت سی چیزوں کا علم نہیں۔ آٹھویں براعظم کی غیر معمولی ابتدا اس کو خاص طور پر ماہرین ارضیات کے لیے دلچسپ بناتی ہے بلکہ اُنھیں بہت حیرت زدہ کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ ابھی تک واضح نہیں کہ یہ اب تک ٹوٹ کر چھوٹے چھوٹے براعظموں میں کیوں نہیں بٹا حالانکہ اس کی تہہ اتنی پتلی ہے۔ اور وہ کیا وجہ ہے جو اس ارض زمین کو اکٹھا رکھنے کا انتظام کرتی ہے۔

ایک اور معمہ یہ ہے کہ زی لینڈیا زیر آب کب آیا اور یہ کہ آیا کبھی یہ سطح سمندر سے بلند خشک زمین میں شامل رہا تھا۔ وہ حصے جو اس وقت سطح سمندر سے بلندی پر ہیں وہ ایسے پہاڑی علاقوں پر مبنی ہیں جو بحر الکاہل اور آسٹریلیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے ٹکرانے سے بنے ہیں۔ ٹولوخ کا کہنا ہے کہ اس بارے میں رائے مختلف ہے کہ آیا یہاں ہمیشہ سے چھوٹے جزیرے تھے یا ایک وقت ایسا بھی تھا جب یہاں مکمل طور پر خشک زمین تھی۔

اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ وہاں کیسی حیات بستی تھی۔

اس کی معتدل آب و ہوا اور 39 ملین مربع میل (101 ملین مربع کلومیٹر) کی اراضی کے ساتھ، گونڈوانا پر پودوں اور حیوانات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جس میں زمین پر چلنے والے پہلے چوپائیوں کی اقسام اور بعد میں سب سے بڑے ڈائنوسار ایک بڑی تعداد میں موجود تھے۔ تو کیا زی لینڈیا کی چٹانوں میں ان کی محفوظ شدہ باقیات ہوسکتی ہیں؟

ڈائنوسار کے بارے میں ایک بحث

کرہ ارض کے پرت میں دبے ہوئے زمانہ قدیم کے جانوروں کے اجسام یا فوسلز جنوبی نصف کرہ میں بہت کم ہوتے ہیں لیکن سنہ 1990 کی دہائی میں نیوزی لینڈ میں متعدد کی باقیات ملیں جن میں ایک دیوقامت، لمبی دم اور لمبی گردن والے ڈائنو سار (سوروپوڈ) کی پسلی کی ہڈی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایک چونچ دار سبزہ خور ڈائنو سار (ہپسیلوفوڈونٹ) اور سخت خول رکھنے والا ڈائنو سار (اینکائلوسور) کی باقیات بھی دریافت کی گئیں۔ پھر سنہ 2006 میں چیٹم آئی لینڈ سے جو ساؤتھ آئی لینڈ سے تقریباً 500 میل (800 کلومیٹر) دور مشرق میں ایک بڑے گوشت خور ڈائنو سار کی پاؤں کی ہڈی دریافت کی گئی جو ممکنہ طور پر ایلوسور کی ایک قسم ہو سکتی ہے۔  

اہم بات یہ ہے کہ اِن فوسلز کی عمر کا اندازہ لگانے سے پتہ چلا کہ یہ زی لینڈیا کے براعظم گونڈوانا سے الگ ہونے کے بعد کا وقت بنتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشن

الیفینٹ برڈ کی اونچائی تین میٹر تھی اور اس کے انڈوں کے چھلکے آج بھی ساحل سمندر پر ملتے ہیں

تاہم اس کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ زی لینڈیا کے زیادہ تر حصوں پر ڈائنو سار گھومتے پھرتے تھے۔ یہ جزیرے شاید اُن کی پناہ گاہیں رہی ہوں جبکہ باقی سب حصے ڈوب گئے ہوں جیسا کہ اب ہے۔ سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ ’اس بارے میں ایک لمبی بحث چلی آر ہی ہے کہ آیا زمین کے بڑے تسلسل کے بغیر زمینی جانوروں کا ہونا ممکن ہے اور کیا اس کے بغیر وہ مارے جاتے۔

نیوزی لینڈ کی سب سے عجیب و غریب مخلوق معاملات کو اور بھی گھمبیر بنا دیتی ہے اور وہ ہے یہاں کا انتہائی پیارا باشندہ کیوی۔ یہ ایک موٹا سا بالوں اور پنکھوں والا پرندہ ہے جو اڑ نہیں سکتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس کا قریب ترین رشتہ دار موا کو نہیں سمجھا جاتا جو ایک ہی گروہ رائٹائٹس کا حصہ ہے اور وہ اسی جزیرے پر 500 سال قبل معدوم ہونے تک رہتا تھا بلکہ اس کی نسل اس سے بھی زیادہ دیوقامت الیفینٹ برڈ سے ملتی ہے جو مڈعاسکر کے جنگلات میں قریباً 800 سال پہلے تک بستی تھی۔

اس دریافت کی وجہ سے سائنسدانوں کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ دونوں پرندوں کا ارتقائی عمل ایک مشترکہ نسل سے ملتا ہے جو گونڈوانا میں رہتے تھے۔ اسے مکمل طور پر ٹوٹنے میں 130 ملین سال لگے لیکن جب یہ ٹوٹا تو اس کے ٹکڑے پوری دنیا میں پھیل گئے جن سے جنوبی امریکہ، افریقہ، مڈغاسکر، انٹارکٹیکا، آسٹریلیا، جزیرہ نما عرب، برصغیر ہند اور زی لینڈیا وجود میں آئے۔

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ زی لینڈیا کا وہ حصہ جو اب جزوی طور پر ڈوبا ہوا ہے اس کا کچھ علاقہ ایک وقت میں سطح سمندر سے اوپر رہا ہو گا۔ سوائے تقریبا 25 ملین سال پہلے جب پورا براعظم یہاں تک کہ ممکنہ طور پر پورا کا پورا نیوزی لینڈ زیر آب رہا ہوگا۔ سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ ’یہ خیال تھا کہ سارے پودے اور جانور اس کے بعد یہاں آباد ہوئے۔ تو آخر ہوا کیا؟‘

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشن

نیوزی لینڈ براعظم زی لینڈیا کا اونچا ترین زمینی حصہ ہے جو ارضیاتی پرت کی حرکت سے اوپر کی طرف ابھر کر سامنے آیا

اگرچہ زی لینڈیا کی سمندرکی تہہ سے براہ راست فوسلز اکٹھا کرنا ممکن نہیں لیکن سائنسدان اس کی گہرائیوں تک ڈرلنگ کر کے پہنچ رہے ہیں۔ سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ ’دراصل سب سے زیادہ مددگار اور مخصوص فوسل وہی ہیں جو سمندر کے بہت کم گہرائی والے حصے میں بنتے ہیں کیونکہ وہ پیچھے اپنا ریکارڈ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہاں لاکھوں کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے فوسلز ہیں جو بہت ہی مخصوص ہیں۔‘

2017 میں ایک ٹیم نے اب تک اس خطے کا ہونے والا سب سے وسیع جائزہ لیا اور چھ مختلف مقامات پر سمندر کی تہہ میں 4101 فٹ (1250میٹر) تک کھدائی کی۔ ان کے جمع کردہ نمونےمیں زمینی پودوں کے پولن اور تولیدی خلیے تھے اور اس کے علاوہ ایسی سمندری حیات کے خول تھے جو گرم پانی والے سمندر کی کم گہرائی والے حصوں میں بستے تھے۔

سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ جانتے ہیں کہ کہیں پانی ہے جو صرف 10 میٹر (33 فٹ) تک گہرا ہے یا اس طرح کی کوئی چیز ہے تو پھر اس بات کا امکان ہے کہ اس کے ارد گرد زمین بھی موجود ہو۔‘

وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ پولین اور تولیدی خلیوں کی موجودگی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ زی لینڈیا ممکنہ طور پر اتنا زیادہ زیر آب نہیں تھا جتنا تصور کیا جاتا ہے۔ 

ایک اور معمہ زی لینڈیا کی ہئیت میں پایا جاتا ہے۔

سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ نیوزی لینڈ کے ارضیاتی نقشے پر نگاہ ڈالیں تو دو چیزیں ایسی ہیں جو واقعی منفرد نظر آتی ہیں: ان میں سے ایک الپائن فالٹ یا الپائن ارضیاتی شگاف ہے یہ پلیٹ یا ارضیاتی پرت کی ایک حد ہے جو ساؤتھ آئی لینڈ کے ساتھ گزرتی ہے اور اتنی نمایاں ہے کہ اسے خلا سے دیکھا جاسکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGNS Science

،تصویر کا کیپشن

لال رنگ میں دکھایا گیا پتھریلا حصہ زی لینڈیا میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک جانا چاہیے لیکن یہ بل کھاتا نظر آتا ہے

دوسری بات یہ ہے کہ نیوزی لینڈ اور اسی طرح وسیع براعظم کی ارضیات عجیب طرح مڑی ہوئی ہے۔ دونوں ایک افقی لکیر سے دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، اُسی جگہ پر جہاں بحر الکاہل اور آسٹریلیائی ٹیکٹونک پلیٹس یا ارضیاتی پرت ملتی ہیں۔ اس عین موڑ پر ایسا لگتا ہے کہ کسی نے نیچے کا آدھا حصہ لے کر اسے مروڑ کر دوسرے رخ کر دیا ہے۔

اس کی ایک آسان وضاحت یہ ہے کہ ٹیکٹونک پلیٹیں حرکت میں آئیں اور کسی طرح ان کی ہئیت کوخراب کر دیا لیکن یہ کب اور کیسے ہوا، یہ ابھی بھی حل طلب ہے۔

ٹولوخ کا کہنا ہے کہ ’یہاں مختلف تشریحات پیش کی جا رہی ہیں لیکن دراصل یہ بہت اہم بات ہے جس سے ہم لاعلم ہیں۔‘

سدرلینڈ نے واضح کیا کہ اس کا امکان نہیں نظر آتا کہ براعظم عنقریب اپنے تمام راز عیاں کر دے۔ انھوں نے کہا کوئی بھی چیز ’دریافت کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے جب ہر چیز پانی میں 2 کلومیٹر (1.2 میل) کی گہرائی میں ہو اور جن نمونوں کی آپ کو ضرورت ہو وہ سمندر کی تہہ سے بھی نیچے 500 میٹر (1640 فٹ) کی گہرائی میں ہوں۔‘

’اس طرح کے براعظم پر تحقیق کرنا واقعی ایک بڑا چیلنج ہے۔ لہذا ایسے سفر کے لیے بہت زیادہ وقت، رقم، محنت، بحری جہاز اور ایسے علاقوں کی ضرورت ہوتی ہے، جن کے جائزے لیے جائیں۔‘

اگر اور کچھ نہیں تو دنیا کا آٹھواں براعظم یقینی طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ تسمن کی دریافت کی جستجو کے تقریباً 400 سال بعد بھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔