عجیب و غریب پھل جس نے پہلے وسطی یورپ کو اپنے سحر میں جکڑا اور پھر غائب ہو گیا

  • زاریہ گورویٹ
  • بی بی سی فیوچر
پھل

،تصویر کا ذریعہ@Alamy

سنہ 2011 میں ماہرینِ آثار قدیمہ نے کھدائی کے دوران ایک رومن بیت الخلا میں ایک غیر معمولی چیز دیکھی۔

ماہرین کی ٹیم اس وقت ایک قدیم گاؤں تاسگیٹم (موجودہ شینز، سوئٹرزلینڈ) میں کھدائی کر رہے تھے۔ اس علاقے پر ایک سیلٹک بادشاہ کی حکومت تھی جنھیں یہ زمین سلطنتِ روم کے جولیئس سیزر نے دی تھی۔

یہ گاؤں دریائے رائن کے کنارے بنایا گیا تھا۔ اس وقت یہ ایک اہم تجارتی گزرگاہ تھی اور تب سے اب تک اس کی باقیات پانی کے اندر ہی تھیں۔

جو پھل بہت صدیوں پہلے گل سڑ چکا ہوتا اب یہاں سے حیرت انگیز طور پر محفوظ حالت میں ملا جو نم ماحول میں آکسیجن کی کمی کے باعث محفوظ رہا۔ یہیں پر آلو بخارے، آڑو، چیری اور اخروٹ جیسے پھلوں کی باقیات میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو 19 حیران کُن طور پر بڑے بیج بھی ملے۔

اگرچہ یہ بیج وہاں 2000 سال سے دبے ہوئے تھے لیکن وہ اتنے تازہ لگتے تھے جیسے کل ہی ملے ہوں۔ البتہ یہ بیج جس پھل کے ہیں وہ اس حد تک گمنام ہے کہ نباتاتی ماہرین کو بھی ابہام میں ڈال سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس پھل کو آج جس نام سے جانا جاتا ہے اسے میڈلر کہتے ہیں لیکن 900 سال تک اسے ’اوپن آرس‘ (کھلی مقعد) کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ اس کی ساخت تھی۔ فرانس میں اس کے مختلف نام تھے جن کے معنی گدھے، بندر یا کتے کی مقعد کے تھے۔

اور اس کے باوجود یورپ کے وسطی دور میں یہ پھل بہت پسند کیا جاتا تھا۔

میڈلر کا سب سے پہلا ذکر ساتویں صدی قبل مسیح میں یونانی شاعری میں ملتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بالآخر یہ پھل رومیوں کے ہاتھ میں آیا جو اسے جنوبی فرانس اور برطانیہ میں لے کر آئے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سنہ 800 عیسوی میں شارلیمین نے اسے ان پودوں کی فہرست میں شامل کیا جن کی بادشاہ کے متعدد باغات میں موجودگی لازمی تھی۔

تقریباً 200 سال بعد انگلش مصنف ایلفرک آف آئنشیم نے اس پھل کی بے ہودہ عرفیت عوام میں عام کی۔

پھر وہاں سے اس پھل کی شہرت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ قرونِ وسطیٰ کی خانقاہوں اور شاہی باغیچوں کے ساتھ ساتھ گاؤں کی سبزہ گاہوں کا بھی اہم جُزو بن گیا۔

چاؤسر کی کینٹربری ٹیلز، شیکسپیئر کی رومیو اینڈ جولیٹ اور دو مرتبہ بادشاہ بیگم رہنے والی این آف بریٹنی کی بک آف آورز میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے جو قرونِ وسطیٰ کے دور کا ایک مشہور تصویری مذہبی مسودہ تھا۔

ہینری ہشتم نے ہیمپٹن کورٹ میں میڈلر کا پودا لگوایا ہوا تھا اور انھوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو بھی بڑی تعداد میں اسے بطور تحفہ دیا تھا۔

یہ پھل سترہویں صدی تک اپنے عروج پر تھا اور انگلینڈ بھر میں اسے ایسے ہی اگایا جاتا تھا جس طرح عام سیب، ناشپاتی، شہتوت اور کھٹے زرد رنگ کی نرم ناشپاتی کی طرح کے پھل اگائے جاتے تھے۔ اس عروج کے بعد یہ تیزی سے زوال کی جانب گیا۔

20ویں صدی کے اوائل تک بھی لوگ اس پھل کو جانتے تھے لیکن پھر 1950 کی دہائی کے بعد یہ اچانک عوامی منظرنامے سے بالکل ہی ہٹ گیا۔

یہ پھل جو کسی زمانے میں گھر گھر عام تھا اور جسے ایک رومی تبصرہ نگار نے ’تقریباً ایک جنون‘ قرار دیا تھا، اب ماضی کی ایک رومانوی یاد کے طور پر رہ گیا ہے اور اب صرف کسی باغ کے کنارے اور میوزیم اور محلوں میں دکھائی دیتا ہے۔

غائب ہونے کے چند دہائیوں کے بعد ہی یہ بہت سے پھل فروشوں کے لیے ایک پراسرار پھل بن چکا تھا۔ سنہ 1989 میں ایک امریکی محقق نے لکھا کہ ممکنہ طور پر سو میں سے ایک ماہر نباتات نے بھی شاید میڈلر کو نہیں دیکھا ہو گا۔ آج یہ ایک بھی برطانوی سپر مارکیٹ میں نہیں بکتا۔

اور وہ عوامی مقامات جہاں اب بھی پودے ہیں، وہاں یہ اکثر گمنام ہی رہتے ہیں اور انھیں سڑنے کے لیے زمین پر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

اس عجیب و غریب پھل میں آخر ایسا کیا تھا جس نے قرونِ وسطیٰ کے یورپ کو جکڑ لیا تھا اور پھر یہ غائب کیوں ہو گیا؟

اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں معلوم کہ میڈلر کی ابتدا کہاں سے ہوئی لیکن کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ مغربی ایشیا میں اسے بحیرہ گیلان (کیسپیئن سمندر) کے قریب تقریباً 3000 سال قبل اگایا گیا تھا جہاں آج بھی اس کی بہت سی اقسام موجود ہیں۔

’میڈلر‘ اور ’اوپن آرس‘ کے الفاظ پھل اور جھاڑی جیسے درخت دونوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس درخت کا حیاتیاتی نام میسپیلس جرمینیکا ہے اور یہ گلابوں، جنگلی سیبوں اور ناشپاتی سے ملتا جلتا ہے۔

بنیاد میں ٹیڑھی میڑھی شاخوں کے اوپر گول چھتری نما سائے اور لمبے لمبے پتوں کی وجہ سے یہ نہ صرف اپنے پھل کی وجہ سے بلکہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔

ہر موسمِ بہار میں یہ ستارے کی شکل جیسے پھولوں سے بھر جاتا ہے او وہ وقفے وقفے سے اتنی بار کھلتے ہیں کہ ان پر پینٹ کیا جا سکتا ہے اور خزاں تک اس کا درخت سبز، بھورے اور سرخ رنگوں سے بھر جاتا ہے۔

یہ پھل دو وجوہات کی بنا پر غیر معمولی ہے۔ پہلی وجہ: یہ دسمبر میں پک کر تیار ہوتا ہے چنانچہ قرونِ وسطیٰ کی سردیوں میں شکر کے یہ نایاب ذرائع میں سے تھا۔

دوسری وجہ: یہ صرف اس وقت کھانے کے قابل ہوتا ہے جب یہ خراب ہو جائے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

جب انھیں پہلی بار توڑا جاتا ہے تو میڈلر سبزی مائل بھورے ہوتے ہیں اور یہ ٹیڑھے میڑھے پیاز جیسے لگتے ہیں۔ اگر اسی وقت انھیں کھا لیا جائے تو آپ اس سے انتہائی بیمار ہو سکتے ہیں۔ 18 ویں صدی کے ایک ڈاکٹر اور ماہر نباتات نے بتایا کہ میڈلر سے ڈائریا ہوجاتا ہے۔

لیکن اگر اپ انھیں کچھ ہفتوں تک کسی ڈبے میں رکھ دیں تو پھر یہ گہرے رنگ کے ہو جاتے ہیں اور ان کی سختی نرمی میں بدل جاتی ہے اور یہ بیک کیے ہوئے سیب جیسے ہو جاتے ہیں۔

اس پھل میں ہونے والے کیمیائی عوامل واضح نہیں لیکن سادہ الفاظ میں کہیں تو اینزائمز پھلوں کے پیچیدہ کاربوہاییڈریٹس کو توڑ کر سادہ شکر مثلاً فرکٹوز اور گلوکوز میں تبدیل کر دیتے ہیں جس سے اس میں میلک ایسڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو سیبوں اور دیگر پھلوں سمیت اس پھل کے بھی کھٹے ذائقے کی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی وہ تیز مالیکیولز جو کم عمر ریڈ وائن کی ترشی کی وجہ بنتے ہیں اور اینٹی آکسیڈینٹس مثلاً ایسکاربک ایسڈ (وٹامن سی) ختم ہو جاتے ہیں۔

اس عمل کو بلیٹنگ کہتے ہیں اور یہ لفظ ایک ایسے ماہرِ نباتات نے ایجاد کیا جنھوں نے یہ نوٹ کیا کہ 1839 تک اس کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا۔

اس عمل کے نتیجے میں بہت ہی شیریں پھل بنتا ہے جس کا ذائقہ کچھ پیچیدہ ہوتا ہے جیسے پکی ہوئی کھجوریں لیموں کے ساتھ کھائیں جائیں اور گودا کچھ دانے دار سا ہو۔

جین سٹیورڈ نے برطانیہ کے نورفوک آرچرڈ میں سنہ 2015 میں 120 میڈلر کے پودے لگائے جو ممکنہ طور پر برطانیہ میں اس پودے کی سب سے بڑی کلیکشن ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب یہ مکمل طور پر پک جاتا ہے تو انتہائی مزیدار پھل بنتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy

پر اگر آپ کو سڑا ہوا پھل سننے میں کوئی بہت اچھا نہ لگے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب یہ پھل اپنی مقبولیت کی انتہا پر تھا، تب بھی اس کے بارے میں رائے منقسم تھی۔

سنہ 1989 میں ایک طنزیہ تحقیقی مقالے میں اس کے بارے میں کی گئی مشہور برائیاں اکٹھی کیں۔ انیسویں صدی کی ایک باغبانی کی کتاب میں لکھا گیا کہ ’زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سڑے ہوئے سیب سے فقط ایک درجہ بہتر ہے۔‘

ایک نامعلوم مصنف نے اس کے بارے میں کہا کہ ’میڈلر کا کوئی فائدہ نہیں جب تک یہ پک نہ جائے اور جب یہ پک جاتا ہے تو اس کا ذائقہ فضلے جیسا ہوجاتا ہے۔‘

پھر سوال یہ بھی ہے کہ میڈلکر کو کھایا کیسے جائے۔ عام طور پر لوگ اسے منھ کے پاس لے جا کر اس کا گودا براہ راست چوس لیتے ہیں۔

لیکن امیر حلقوں میں اسے کھانے کی میز پر پنیر کے ساتھ رکھا جاتا تھا۔ یہ اس وقت بھی لکڑی کے اُس چورے سے بھرا ہوتا جس میں اس کی بلیٹنگ ہوئی ہوتی اور پھر اسے چمچ کی مدد سے نکالا جاتا۔ اسے بیک کیا جا سکتا، روسٹ بھی کیا جا سکتا، جیلی بھی بنائی جا سکتی اور ٹارٹس میں بھی ڈالا جا سکتا۔ یہاں تک کہ اس سے برانڈی یا سرکہ بھی بنایا جا سکتا۔

اس کے علاوہ میڈلر کو کھانے سے پہلے سڑنے دینے کی ضرورت سے بھی اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے لوگوں کو ایسے پھل کی علامتی اہمیت میں کیوں دلچسپی تھی۔

چاؤسر کی کینٹربری ٹیلز میں وہ اس پھل کے ساتھ ایک موازنہ کرتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ کیسے انسان کمزور اور بوڑھا ہونے سے قبل جھوٹ بولنے، غصہ کرنے، تکبر کرنے اور دوسروں کی چیزیں حاصل کرنے جیسی فطرت پر کمال حاصل نہیں کر سکتا۔

مگر ہو سکتا ہے کہ بلیٹنگ ہی اس پھل کی گمنامی کی وجہ بنی ہو۔ یہ پھل 19ویں اور 20 صدی تک سردیوں کا پھل رہا اور دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی حکومت نے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اسے اگائیں لیکن اس کے بعد جلد ہی یہ دکانوں سے ہمیشہ کے لیے غائب ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

ایک ممکنہ وجہ یہ بھی ہے کہ کیلے اور انناس جیسے پھل سستے ہو گئے اور وہ سارا سال ملتے تھے جبکہ اس درخت سے سال بعد پھل ملتا تھا اس لیے سرد موسم میں اس پھل کی زیادہ ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔

اس پھل کے حوالے سے سٹیورڈ کے تجربات اور یہ حقیقت کہ موسم سرما میں کوئی بھی پھل چننے کے لیے باہر دن نہیں گزارنا چاہتا، اس کے معدوم ہونے کی وجہ ہو سکتے ہیں۔

آج بھی یورپ میں میڈلر کے درخت دکھائی دیتے ہیں کسی باغ کی زیبائش میں یا کسی شہر کے مضافاقی علاقے میں ان کی قطاریں لگی ہوئی ہیں لیکن ان کی کھوج لگانی پڑتی ہے۔

سٹیورڈ کو ذاتی طور پر نورفوک میں لینگلے ایبے میں سنہ 1820 میں لگایا جانے والا پودا پسند ہے جو آج 200 برس بعد بھی پھل دے رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں یہ انتہائی خوبصورت ہے۔

لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔

میڈلر بحرہ گیلان کے قریب اپنے آبائی علاقے میں آج بھی ہمیشہ کی طرح معروف ہے۔ یہ اب بھی ایران، آذربائیجان، کرغیزستان، جارجیا اور ترکی میں بہت زیادہ اگایا جاتا ہے جہاں مارکیٹوں میں اسے بیچا جاتا ہے اور اس کا نام مسمولا ہے۔

سٹیورڈ کا کہنا ہے ایک مرتبہ انھیں انگلینڈ منتقل ہونے والے ایک کرغیز خاندان نے ایک پیغام دیا کہ وہ میڈلرز کی تلاش اور اسے دوبارہ اگانے کے لیے بے چین ہیں جنھیں وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔

اس خطے میں دوائیوں کے حوالے سے بھی اس پودے کی تاریخ طویل ہے۔ ایران کے شمالی صوبے گیلان میں میڈلر کے پتے، چھال، پھل اور لکڑی بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے جیسے اسہال، پیٹ پھولنا اور ماہواری میں بے قاعدگی وغیرہ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے یورپ کے وسطی دور میں بھی اسی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ سترہویں صدی میں ماہر نباتات اور ڈاکٹر نکولس کلپیپر نے لکھا کہ میڈلر خواتین کے لیے حد سے زیادہ ماہواری کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ خشک پھل کو اگر پسی ہوئی لونگ، جائفل، مونگے اور عرق گلاب کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو پیٹ کو آرام ملتا ہے۔

سنہ 2021 میں میڈلر یورپ میں اب اتنا غیر معروف نہیں جتنا یہ پہلے ہوا کرتا تھا۔ لوگوں تک اس کے متعلق معلومات پہنچ رہی ہیں جس کا سہرا سٹیورڈ جیسے پرجوش لوگوں کو جاتا ہے جو جیم اور جِن (شراب کی ایک قسم) سمیت میڈلر کی مختلف پراڈکٹس بھی فروخت کرتے ہیں۔

اگر یہی رجحان جاری رہا تو شاید اس پھل کے ناقابل بیان ناموں کی نئی فہرست سامنے آجائے گی۔