’باہمی محبت پروان چڑھانے والا بوسنیا کا پکوان‘

بوسنیا تصویر کے کاپی رائٹ HARIS CALKIC

53 سالہ عزمینہ احمد بیگووچ کو موسم سرما بہت عزیز ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ برف یا سرد موسم کی وہ بہت شوقین ہیں لیکن اس لیے کہ جب وہ بوسنیا کے شہر ویسوکو میں پروان چڑھ رہی تھیں تو اس موسم میں اہم سماجی تقاریب منعقد ہوتی تھیں۔

انھی اہم سماجی مواقع پر دوست احباب اور رشتہ دار یکجا ہوتے، اور پھر شکر، آٹے اور لیموں سے روایتی بوسنیائی پکوان سیتینیجا بنائے جاتے تھے۔

ستینیجا بوسنیا کا روایتی شیریں پکوان ہے۔ اس کے اجزا اگرچہ کم ہیں لیکن اس کا بنانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔

اسے تیار کرنے میں کئی لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کئی ہاتھ مل کر شکر آمیز آٹے کو گوندھتے اور گردش دیتے ہیں تاکہ ان کا اون جیسا گولا بن جائے۔

یعنی ستینیجا بوسنیا کا ایسا میٹھا ہے جو بہتر ٹیم ورک سے بنایا جاتا ہے اور ایک بھی غلط قدم اس ڈش کو بگاڑ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HARIS CALKIC

سیجیلو

ستینیجا کو عام طور پر کسی تقریب کے موقعے پر کسی محفل یا بیٹھک کے دوران بنایا جاتا ہے۔ بوسنیا میں اس قسم کی محفل کو 'سیجیلو' کہتے ہیں۔ اس میں دوست احباب، خاندان کے رشتہ دار مل بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں، گاتے بجاتے ہیں اور ستینیجا بھی تیار کرتے ہیں۔

سیجیلو بوسنیا کے روایتی معاشرے کا لازمی حصہ ہے۔ اس دوران لوگ لوک گیت گاتے اور رقص کے ذریعے ستینیجا بنانے والے افراد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ کئی بار ان کی توجہ کو بھٹکانے کے لیے بھی انھیں تنگ کیا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ میٹھی ڈش تیار کرنے کا کام بڑی سماجی تقریب کا حصہ ہے۔

عزمینہ کے یہاں بھی یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ ان کے والدین سیجیلو میں دوست احباب اور رشتہ داروں کو بلایا کرتے تھے۔ بچپن کی انھی حسین یادوں کی وجہ سے انھیں موسم سرما بہت پسند ہے۔

عزمینہ کا ستینیجا بنانے کا فیصلہ؟

اب عزمینہ گریکینیکا نام کے شہر میں رہتی ہیں۔ یہ بوسنیا کے شمال مشرقی علاقے کا ایک شہر ہے۔

نئے دور کے ساتھ بچپن کی وہ محفلیں کہیں گم ہو گئی ہیں۔ اگر چہ اب بھی بہت سے لوگ سیجیلو کا اہتمام کرتے ہیں لیکن آپسی ربط اور گفتگو کی محفلوں کی جگہ اب ٹی وی، موبائل اور انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔

عزمینہ کی بہن ویسوکو میں اپنی بہن کے گھر سے دور رہتی ہیں اور نئے شہر گریکینیکا میں عزمینہ کے جو دوست بنے ہیں انھیں ستینیجا کے بارے میں علم نہیں ہے کیونکہ بوسنیا کے اس علاقے میں نہ سیجیلو کی اور نہ ہی ستینیجا کی روایت رہی ہے۔

اس لیے اب عزمینہ نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ وہ اپنے نئے دوستوں کو ستینیجا بنانا سکھائيں گی۔

ستینیجا کیسے بناتے ہیں؟

عزمینہ بتاتی ہیں کہ پہلے آٹے کو گندمی رنگ حاصل کرنے تک بھونا جاتا ہے، پھر شکر اور لیموں کا رس گرم کر کے قوام بنایا جاتا ہے۔ جب شکر بھوری ہونے لگتی ہے تو اسے بھنے ہوئے آٹے میں ڈالا جاتا ہے۔

پھر اس آٹے کو گوندھا جاتا ہے اور اسے گول گول گھمایا جاتا ہے جس سے وہ آٹا رسی کی طرح ہو جاتا ہے اور اس میں دھاریاں پڑنے لگتی ہیں۔

اسے بنانے والے سیتینیجا بنانے سے قبل اپنے ہاتھوں میں تیل لگاتے ہیں تاکہ آٹا ہاتھوں میں نہ چپکے۔ شکر اور لیموں کے قوام میں گندھے اس آٹے کو اس قدر بل دیا جاتا ہے کہ اس میں بل نظر آنے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

عید اور مسلم دنیا کے پکوان

خوش نما دسترخوان اور خوش رنگ پکوان

مرہٹہ حکمرانوں کے شاہی کھانے

عام طور پر تین سے چھ افراد اس کو گھومانے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ عام طور پر خواتین ایک نیچی میز کے گرد بیٹھ کر یہ کام کرتی ہیں۔

جہاں سیتینیجا بنایا جاتا ہے اس کمرے کا ٹھنڈا ہونا ضروری ہے ورنہ اس کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

سیتینیجا میں کئی گھنٹوں تک کام ہوتا ہے۔ جب ایک ٹولی تھک جاتی ہے تو دوسرے اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ اس دوران وہاں موجود دوسرے لوگ بوسنیا کی کافی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور لوک گیت گاتے ہیں۔

جب سیتینیجا کا وہ بل دیا ہوا گولہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو اسے کاٹ کر لوگوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HARIS CALKIC

روایت زندہ رکھنے کی خوشی

عزمینہ نے جب سے یہ محفلیں منعقد کرنی شروع کی ہیں تب سے وہاں سیتینیجا بہت مقبول ہوا ہے۔ وہ اب عوامی تقاریب میں سیتینیجا بنانا سکھانے لگی ہیں۔

عزمینہ کہتی ہیں کہ وہ سیتینیجا کو گھروں سے نکال کر سڑکوں پر لے آئی ہیں۔ انھیں اس روایت کو زندہ رکھنے کی بہت خوشی ہے۔

عزمینہ اب کئی خواتین کی مدد سے اس کی تشہیر میں لگی ہوئی ہیں اور کئی دوسری تنظیمیں بھی ان کے کام میں شامل ہو گئی ہیں تاکہ بوسنیا کے اس پکوان کو دنیا بھر میں متعارف کرائيں۔

اب اس کے لیے بوسنیا کے لوک فنکار روایتی لباس میں رقص کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کا دل بھی بہلتا رہے۔

بوسنیا کی ثقافتی تنظیم 4ٹی بھی سیتینیجا اور سیجیلو کی روایت میں نئی جان پھونکنے میں منہمک ہے۔ اس کے صدر مصطفی مستاج بیگووک نے خود بھی سیتینیجا بنانا سیکھا ہے۔

انھوں نے اپنے بچپن میں سیتینیجا کی محفلوں میں شرکت کر رکھی تھی۔ اب وہ نئی نسل کو یہ ہنر منتقل کرنے میں لگے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے کئی مقابلے بھی منعقد کرائے۔

اب تک تنظیم نے اس طرح کے 15 مقابلوں کا انعقاد کیا ہے۔ ان میں سے تین مقابلے بوسنیا کے دارالحکومت سراجیوو میں منعقد کیے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ سیتینیجا کے مقابلے میں وہی جیتا ہے جس کا قوام سب سے پتلا ہوتا ہے۔ بہر حال یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے میل جول سے کیا جانے والا کام ہے۔

مصطفی بتاتے ہیں کہ ان کے مقابلوں میں ایک حصہ دس بارہ لوگوں کی ٹیم کے ہاتھوں سیتینیجا بنانے کا بھی ہوتا ہے۔

مصطفی کا کہنا ہے کہ اگر چہ شکر کا قوام تنہا بھی بنایا جا سکتا ہے لیکن انسان کیا دنیا میں تنہا رہنے کے لیے آیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ NurPhoto/Getty Images

سماجی رابطے کی مثال

بوسنیا کے روایتی خور دو نوش پر الیزہ لکسک نے ایک کتاب تحریر کی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں سیتینیجا کو سماجی تقاریب میں تیار کیے جانے والے پکوان کے طور پر بیان کیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ 'سیتینیجا بنیادی طور پر ایک تار کی طرح ہے جو لوگوں کے درمیان رشتہ قائم کرتا ہے۔'

بوسنیا کے صحافی پاولے پاولووك نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ سیتینیجا در اصل سوشل نیٹ ورکنگ کی پہلی مثال ہے جو فیس بک سے کافی پہلے لوگوں کو ملانے کا کام کرتا تھا۔

بوسنیا کی ثقافتی تنظیم کی صدر آمنہ سوفیق کہتی ہیں سیتینیجا لوگوں کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔

ان کی تنظیم بھی بوسنیا کے مختلف شہروں میں لوگوں کو سیتینیجا بنانا سکھاتی ہے جس میں بہت سی نئي دوستیاں ہوتی ہیں۔ نئے رشتے بنتے ہیں لوگوں میں محبت ہو جاتی ہے۔

ابتدائی دور میں نوجوان لڑکے لڑکیاں سیتینیجا بنانے کے دوران ایک دوسرے کو چھیڑا کرتے تھے۔ مرد کئی بار شکر کے برتن میں نمک ڈال دیتے تھے تاکہ اپنی پسند کی لڑکی کی توجہ حاصل کر سکیں۔

جن جوڑوں میں محبت ہوتی تھی وہ مل کر شکر کے قوام کی رکھوالی کرتے تھے تاکہ تنہائی میں مل کر باتیں کرنے کا موقع میسر ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بوسنیا اپنے ثقافتی ورثے کی تشہیر نہیں کرتا

سیتینیجا کے متعلق بوسنیا کے ایک روایتی لوک گیت کا مطلب کچھ اس طرح ہے: 'تمہیں خوبصورت لڑکیوں نے بنایا ہے، تاکہ وہ لڑکوں کو لبھا سکیں۔ اور موے لڑکوں نے تو شکر میں نمک ڈال دیا ہے۔'

سیتینیجا بوسنیا میں بہت پسند کیا جاتا ہے لیکن باقی دنیا نے اس کا نام تک نہیں سنا ہے۔ اس وجہ سے یہ ہے کہ بوسنیا کی حکومت اپنے روایتی دسترخوان کی تشہیر کرنے میں ناکام رہی ہے۔

بوسنیا کی حکومت اپنے ثقافتی ورثہ کی تشہیر نہیں کرتا شاید اسی لیے اسے یونیسکو کی جانب سے عالمی وراثت کا حصہ نہیں بنایا گيا۔ اس کے متعلق سنہ 2018 میں ایک رپورٹ الجزیرہ چینل پر بھی پیش کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Haris Calkic

اب کئی ثقافتی تنظیمیں بوسنیا کی حکومت سے درخواست کر رہی ہیں کہ وہ سیتینیجا کی تشہیر کر کے اسے عالمی ورثے کا حصہ بنوائے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے لیے سیتینیجا کے متعلق بیداری پیدا کرنی ہوگی اور بہت ساری معلومات فراہم کرنی ہوگی، اس کے بعد ہی کہیں اسے عالمی ورثے میں شامل کیا جا سکے گا۔

بوسنیا کے پروفیسر انيس کجندیک کہتے ہیں کہ 'لائبریریوں، میوزیموں اور دوسرے ثقافتی اداروں کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ افسوس کا مقام ہے کہ بوسنیا میں ایسی تنظیمیں نہیں ہیں۔'

اس کے علاوہ حکومت کو بھی اپنی اس روایت کی تشہیر میں دلچسپی لینی ہوگی۔ اچھی بات یہ ہے کہ بوسنیا میں عزمینہ جیسے لوگ ہی اپنے بچپن کی یادوں کو اس طرح سجا رہے ہیں۔

یہ لوگ بوسنیا کی مخصوص روایت اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے میں مصروف ہیں اور سیتینیجا لوگوں کے درمیان ربط باہمی پیدا کرنے کا کام بخوبی کر رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں