قدیم روم میں بسایا گیا سینکڑوں برس قدیم عیاشی کا اڈہ سمندر بُرد

بائیا، رومی سلطنت کا لاس ویگس تصویر کے کاپی رائٹ Maxime Bermond/Getty Images
Image caption دو ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے بائیا رومی سلطنت کا لاس ویگس ہوا کرتا تھا

روم کے امیر لوگ ہفتے کے اختتام پر عیش و عشرت کرنے یہاں آیا کرتے تھے۔ کئی لوگوں نے اس قصبے کے ساحل پر پرتعّیش بنگلے بنا رکھے تھے جن میں موزائک لگے گرم پانی کے حوض ہوتے تھے۔

ان محل نما گھروں کے مکین یہاں اپنی نفسانی خواہشوں کو تصور کی آخری حد تک پورا کرتے تھے۔ ایک رئیس نے تو ایک ایسا راحت کدہ بنوایا تھا جس میں جنسی لذتوں کا اظہار کرتے سنگ مرمر کے مجسمے نصب تھے۔

یہ ہے دو ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم ’بائیا‘ کا قصبہ جو رومی سلطنت کے لیے اس وقت کا لاس ویگس تھا۔+

یہ اٹلی میں نیپلس سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ساحلی قصبہ تھا جہاں شعرا اپنے تخیل اور فوجی جرنیل اور اُمرا اپنی خواہشات کو حقیقت کا روپ دیتے تھے۔ رومی فلسفی، خطیب، قانون دان اور مدبر سیسرو نے اپنی تقاریر یہیں لکھیں، جبکہ شاعر وِرجِل اور فطرت پرست پلینی یہاں کے جوانی بخش حماموں سے کچھ ہی فاصلے پر رہتے تھے۔

یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں مالدار اور طاقتور اپنے ناجائز کام سرانجام دیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

انسان نے کہاں کہاں اپنے نقوش نہیں چھوڑے؟

پومپے کے کھنڈرات سے ’قیمتی خزانہ‘ برآمد

قدیم مصریوں کی ختنے میں دلچسپی

قدیم بائیا مصور کے مو قلم سے تصویر کے کاپی رائٹ De Agostini Picture Library/Getty Images
Image caption رومی اشرافیہ کو بائیا کا خوشگوار موسم اور معدنیات سے بھرے میٹھے پانی کے چشمے بہت بھائے

ایک محقق جان سماؤٹ کے بقول ’سازشوں کی کئی داستانیں بائیا سے وابستہ ہیں۔‘ قیاس ہے کہ 44 قبل از مسیح میں روم کے بادشاہ جولیس سیزر کے قتل کے بعد کلوپیٹرا ایک کشتی میں یہیں سے فرار ہوئی تھیں، جبکہ جولیا ایگریپنا نے اپنے شوہر کلاڈیئس کے قتل کا منصوبہ بھی بائیا میں بنایا تھا تاکہ ان کا بیٹا نیرو روم کا بادشاہ بن سکے۔

جان سماؤٹ کہتے ہیں کہ ’اس نے کلاڈیئس کو زہریلی کھمبی کھلائی۔ مگر وہ کسی طرح بچ گیا۔ اسی رات ایگریپنا نے اپنے معالج سے مل کر اپنے شوہر کو جنگلی کدو کا زہر بھرا اینیما لگوایا، جو کام کر گیا۔‘

تقریباً ڈیڑھ سو برس قبل مسیح میں بائیا کے خوشگوار موسم اور معدنیات سے بھرپور پانی نے روم کے دولتمند لوگوں کو اپنی طرف کھینچا۔ اس وقت یہ جگہ فلگریئن فیلڈز یعنی شعلہ زار کہلاتی تھی کیونکہ اس کے اطراف آتش فشاں سے بنی چٹانیں ہوا کرتی تھیں۔

سماؤٹ کہتے ہیں کہ ایک بار وہ بچپن میں یہاں آئے تھے اور جب گائیڈ نے اپنی چھتری کی نوک بھاپ اگلتی زمین میں گاڑھی تو وہاں سے لاوا بہہ نکلا۔

بحیرۂ ٹرینیئن کے نیچے زیرِ زمین رومی شہر کی باقیات تصویر کے کاپی رائٹ Photononstop/Alamy
Image caption بحیرۂ ٹرینیئن کی موجیں خاموش ہوں تو اس زیرِ زمین رومی شہر کی باقیات نظر آنے لگتی ہیں

قدیم یونانی اور رومی ان چٹانوں کو زیرِ زمین دنیا میں داخلے کا راستہ سمجھ کر ان سے عقیدت رکھتے تھے۔ انھیں چٹانوں کو چونے میں ملا کر انھوں نے ایک طرح کا سیمنٹ بھی تیار کر لیا تھا جس پر پانی اثر نہیں کرتا تھا اور جس کی مدد سے انھوں نے ہوا دار گنبد، گھروں کی دیدہ زیب پیشانیاں، مچھلیوں کے لیے تالاب اور فرحت انگیز حمام بنائے۔

عیاشی کے ایک اڈے کے طور پر بائیا کی شہرت اپنی جگہ، مگر شاید یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس قصبے کے زوال کا سبب علاقے میں آتش فشاں تھے جن کی وجہ سے یہ سطح زمین پر ابھرتا اور دھنستا رہا اور رفتہ رفتہ پانی میں ڈوب گیا، جہاں اس کی باقیات اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

بائیا تصویر کے کاپی رائٹ De Agostini/G.Carfagna/Getty Images
Image caption زیرِ زمین دباؤ کی وجہ سے بائیا کے اردگرد زمین سطح آب کے مقابلے میں مسلسل ابھرتی اور دھنسی رہی ہے

سیاحوں کو اس مقام سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ مگر جب سنہ 1940 میں ایک پائلٹ نے زیرِ سمندر موجود ایک کھنڈر کی فضا سے لی گئی تصویر شائع کی تو لوگوں میں اس جگہ کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس کے 20 سال بعد اطالوی حکام نے زیرِ آب اس شہر کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہاں کا سروے کروایا۔

اور یوں بائیا کی باقیات سامنے آئیں۔ تاہم پانی کے نیچے اس شہر کو سنہ 2002 تک زیرِ سمندر محفوظ آثارِ قدیمہ کا درجہ نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ شہر کی تہذیب اور تاریخ پر مزید تحقیق کے لیے جدید آلات اور طریقے استعمال میں لائے گئے۔ شہر کے خدوخال واضح ہوئے اور قدیم رومیوں کی عیاشی کے سامان اور طریقوں پر نئی روشنی ڈالی گئی۔

یہ باقیات سطح سمندر سے زیادہ نیچے نہیں، بلکہ بعض مقامات پر تو چھ میٹر کی گہرائی پر ہیں۔ اور سیاح شیشے کے پیندے والی کشتی میں سوار ہو کر انھیں دیکھ سکتے ہیں۔ غوطہ خوری کے انتظامات بھی ہیں، شرط یہ ہے کہ آپ ڈبکی لگا سکیں اور سمندر پرسکون ہو۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں