پاکستان سے پیرو تک سیاحت: 10 ویران لیکن خوبصورت سیاحتی مقامات جہاں پہنچنا انتہائی مشکل ہے

کونکورڈیا، پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان سے لے کر پیرو تک سیاحت کے ایسے کئی خوبصورت مقامات ہیں جہاں آپ کو رہنے کے لیے فائیو سٹار ہوٹل تو نہیں ملے گا لیکن یہاں آنے کا تجربہ ہمیشہ یاد رہے گا۔

اگر آپ اپنے روز مرہ کے کام کاج سے پریشان ہیں اور کہیں دور جانا چاہتے ہیں تو ہم ایسے 10 مقامات کی فہرست لائے ہیں جہاں جا کر آپ سکون کی سانس لے سکتے ہیں۔ یہ ایسی جگہیں ہیں جو شاید آپ کے ٹریول ایجنٹ کی ترجیحات میں سے نہ ہوں۔

لیکن یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان مقامات پر جانے کے لیے کچھ مشقت درکار ہو گی۔ اس لیے آپ کو تیار رہنا ہو گا۔ مثال کے طور پر یہاں 300 میٹر کے ریت کے ٹیلوں یا ایک فعال آتش فشاں پر چڑھنے کے بعد آپ کو فائیو سٹار ہوٹل کا آرام دہ بستر نہیں ملے گا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستان سیاحوں کے سیلاب کے لیے تیار ہے؟

انڈیا: کچی آبادی جس نے تاج محل کو مات دے دی

عمرکوٹ: جہاں بہادری اور رومانوی داستان بستی ہے

کونکورڈیا، پاکستان

کونکورڈیا، پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کے بیس کیمپ کونکورڈیا تک پہنچنے کے لیے آپ کو گلگت بلتستان میں 10 دن چلتے ہوئے بالتورو، گڈون آسٹن اور وینیہ نامی گلیشیئرز عبور کرنا ہوں گے۔ پھر آپ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے پہاڑ کے ٹو کے دامن میں پہنچ جائیں گے۔

یہاں پہنچنے کا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے۔ یہ دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں آپ پہاڑوں کے بیچ میں ہی دفن ہو سکتے ہیں۔

گیلن رویل نامی فوٹو گرافر نے اسے ’پہاڑی خداؤں کا تخت‘ کہا ہے۔ کونکورڈیا کی خوبصورتی کا راز اس کا دور دراز ہونا ہے۔ اسے یہ نام یورپی سیاحوں نے دیا جنھیں یہ جگہ یورپ کے پہاڑی سلسلے ایلپ جیسی لگی۔

ربع الخالی (ایپمٹی کوارٹر)، سعودی عرب

ربع الخالی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آپ اسے ربع الخالی کہیں یا ’خاموشی کا گھر‘، زمین پر ریت کا سب سے بڑا رقبہ کچھ خالی خالی محسوس ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے اسے ’ایپمٹی کوارٹر‘ یعنی خالی جگہ بھی کہتے ہیں۔

اگر فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز کو ملایا جائے تو جزیرہ نما عرب کا یہ علاقہ اس سے بھی بڑا ہے۔ یہاں ریت کے ٹیلے ایفل ٹاور سے بھی بلند ہیں جن کی اونچائی 300 میٹر سے زیادہ ہے اور یہ سینکڑوں کلو میٹر تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ایفل ٹاور تو پیرس میں اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا ہے لیکن یہ ریت کے ٹیلے ہر سال 30 میٹر تک تیز ہواؤں کی وجہ سے اپنی جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

کیپ یارک، آسٹریلیا

کیپ یارک، آسٹریلیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آسٹریلیا کو ایسے ملک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں کئی ویران علاقے ہیں۔ یہاں کے شہروں کے لیے بھی کیپ یارک ایک دور دراز اور پہنچ سے باہر علاقہ ہے۔

ملک کے انتہائی شمال میں جانے کے لیے آپ کو فور ویل ڈرائیو والی جیپ میں سفر کرنا ہو گا جس کا سفر شاید آپ کے جبڑے ہلا دے۔

یہ کیپ کیرنز سے تقریباً 1000 کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اس کا مطلب ہے یہاں جانے کے لیے کئی دنوں تک گاڑی میں سفر کرنا ہو گا اور مگرمچھوں سے بھری جھیلیں عبور کرنا ہوں گی۔ آپ کا انعام یہ ہو گا کہ آپ کو ایک پتھریلا ساحلی علاقہ ملے گا۔ اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

اب اگلا کام یہ ہو گا کہ گاڑی کو واپس موڑیں اور گھر جانے کی تیاری پکڑیں۔

نیشنل پارک، کینیڈا

الزمیر جزیرہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کینیڈا کے دوسرے سب سے بڑے نیشنل پارک میں شاید سب سے کم لوگ جاتے ہوں گے۔ 80 ڈگری شمال میں الزمیر جزیرے پر یہ شمالی امریکہ کا انتہائی شمال کا مقام ہے جسے کیپ کولمبیا بھی کہتے ہیں۔

یہاں سردی کی وجہ سے سیاحوں کو اپنے ہاتھ جیبوں میں ڈال کر رکھنا پڑتے ہیں۔ قریب کے ایک گاؤں سے یہاں چارٹر طیارے پر آنے کے لیے آپ کو 32 ہزار کینیڈین ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔ اس پارک میں سڑکوں یا درختوں جیسی کوئی سہولت نہیں۔

لیکن یہاں قطبی ریچھ اور خوبصورت پہاڑ ہیں۔ کینیڈا کا سب سے شمالی گاؤں بھی یہیں پر ہے جس کا نام گرز فیئورڈ ہے۔ آپ وہاں بھی جا سکتے ہیں۔

قطب شمالی

قطب شمالی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دنیا کا انتہائی شمالی مقام قطب شمالی ہے۔ اسے بعض لوگ سینٹا کلاز کا گھر بھی کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کوئی اس داستان کو غلط ثابت کرنے کے لیے اتنی دور کیوں جائے گا۔

جنوبی قطب کے مقابلے قطب شمالی میں کوئی زمین نہیں۔ یہاں آنے والے سیاح پانی پر چلتے ہیں، وہ پانی جو بحرِ اوقیانوس (آرکٹک اوشن) میں برف بنا ہوا ہے۔

گرمیوں میں یہ برف 90 لاکھ سکوئر کلو میٹر رہ جاتی ہے جبکہ موسم سرما میں یہ ایک کروڑ 60 لاکھ سکوئر کلو میٹر ہوتی ہے۔ اس کی گہرائی محض 5 میٹر ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے جب اس کا موازنہ انٹارکٹکا کی تین ہزار میٹر چوڑی برف سے کیا جائے۔

رابنسن کروسو جزیرہ، چلی

رابنسن کروسو جزیرہ، چلی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ادبی تاریخ میں رابنسن کروسو کو سب سے معروف لیکن تنہا کردار کہا جاتا ہے۔ ان کے نام پر بنایا گیا جزیرہ بھی اتنا ہی تنہا اور مشہور ہے۔ یہ جنوبی امریکہ کے ساحل سے 670 کلو میٹر دور ہے۔

اسے سنہ 1704 میں تب دریافت کیا گیا جب الیگزنڈر سلکرک نے اپنے بحری جہاز کے کیپٹن سے لڑائی کے بعد مطالبہ کیا کہ انھیں اس ساحل پر اتارا جائے گا۔

وہ یہاں تنہا چار سال تک رہے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ناول نگار ڈینیل ڈیفو کو رابنسن کروسو نامی کردار لکھنے کے لیے کہا تھا۔

آج بحر الکاہل کے اس جزیرے پر تقریباً 500 لوگ رہتے ہیں اور یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد بھی 100 کے قریب ہوتی ہے۔

نیواڈو مِسمی، پیرو

نیواڈو مسمی، پیرو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایمیزون کو دنیا کا سب سے بڑا دریا کہا جاتا ہے۔ لیکن کچھ سال قبل تک یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اس کا پانی کہاں سے آ رہا ہے۔

سنہ 2001 میں نیشنل جیو گرافک کی ایک سروے ٹیم نے جی پی ایس کی مدد سے اس کا پتا لگایا تھا۔ یہ مقام جنوبی پیرو میں واقع ہے۔ یہ لیما سے 700 کلو میٹر دور جبکہ دریا کے دہانے سے 3000 کلو میٹر دور ہے۔

نیواڈو مسمی میں پہاڑ کی اونچائی 5597 میٹر ہے۔

اوکھن جزیرہ، روس

اوکھن جزیرہ، روس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہاں جانے کے لیے آپ کو ٹرانس سائبیرین ریلوے پر سفر کرنا ہو گا جو بیکل جھیل کے ساتھ چلتی ہے۔ بیکل جھیل دنیا کی سب سے گہری تازہ پانی کی جھیل ہے۔ آپ اس مقام کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔

ماسکو سے ساڑھے تین دن ٹرین پر سفر کرتے ہوئے آپ یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ جبکہ بیجنگ سے اس کا فاصلہ تین دن کا ہے۔

اس میں دنیا کا 20 فیصد تک تازہ پانی ہے۔ اسی کے قریب اوکھن جزیرہ موجود ہے جو 72 کلو میٹر لمبا ہے۔ یہ بیکل کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔

اس کے ماحول کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں بحیرہ اسود کے ساحل کے مقابلے زیادہ دھوپ پڑتی ہے۔ تاہم جھیل کا اکثر حصہ اور یہ جزیرہ بادلوں تلے ڈھکے رہتے ہیں۔

جزیرہ نما علاقہ کاماچٹکا، روس

جزیرہ نما علاقہ کاماچٹکا، روس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگر آپ اس چیز کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں کہ روس کتنا بڑا ہے تو جزیرہ نما علاقے کاماچٹکا کو تصور کریں جس کی مشرقی ساحلی پٹی ماسکو سے زیادہ لاس اینجلس کے قریب ہے۔

یہاں اردگرد لاوے سے بھرے میدان ہیں۔ اس جگہ کو روس چاند پر جانے کے تجربات کے لیے استعمال کرتا تھا۔ کچھ عرصہ قبل تک یہاں جانے کے لیے چھ مہینے لگتے تھے لیکن آج آپ ماسکو سے 11 گھنٹے کی پرواز کے ذریعے یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ یہ شاید زمین کی سب سے لمبی مقامی پرواز ہے۔

سکاٹی کیسل (قلعہ)، امریکہ

سکاٹی کیسل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنہ 1920 کی دہائی میں شکاگو کے ارب پتی ایلبرٹ جانسن کو کہا گیا کہ کیلیفورنیا کی ڈیتھ ویلی (یعنی موت کی وادی) میں سونا ہے۔ جانسن کو ان خشک حالات میں اور تو کچھ نہ ملی لیکن ان کی صحت بہتر ہو گئی۔

اسی خوشی میں انھوں نے اس سحرا میں ایک قلعہ تعمیر کروایا۔ یہاں کا درجہ حرارت دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہسپانوی انداز کا یہ قلعہ ڈیتھ ویلی میں موجود 70 کلو میٹر دور بستیوں کے مقابلے ایک حماقت لگتا ہے۔

یہاں دلچسپ بات بھیڑ کی کھال سے بنے پردے اور ایک بڑا تھیٹر آرگن ہے۔

۔

اسی بارے میں