وہ مچھلی جو امریکہ اور کینیڈا میں تنازع کی وجہ بنی

کینیڈا تصویر کے کاپی رائٹ David McNew
Image caption ویسے تو امریکہ اور کینیڈا کی دنیا میں سب سے طویل بے سپاہی سرحد موجود ہے، مگر ڈکسن اینٹرنس ان دوستانہ ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری چار سرحدی تنازعات میں سے ایک ہے۔

کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے شمالی ساحل پر ہائیدا گوائی جزیروں، اور جنوب مشرقی الاسکا کے جنوبی کنارے کے درمیان واقع آبنائے ڈِکسن اینٹرنس کے معدنیات سے بھرپور پانی کِلر وہیل مچھلیوں، سالمن مچھلیوں کی پانچ انواع اور البیٹروس پرندوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے پرنس آف ویلز جزیرے کے ہرے بھرے جنگلات اور پتھریلے ساحلوں سے ٹکراتے ہیں۔

ایک موقعے پر جب ہم لہروں کے درمیان کشتی میں تیرتے ہوئے جا رہے تھے تو ہم نے کینیڈین پانیوں کو پیچھے چھوڑا اور امریکہ میں داخل ہوگئے۔

مگر ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا ہمیں صرف تب اندازہ ہوا جب ہمارے برقی آلات کینیڈین فشریز کی ایک کشتی کو پار کرتے ہی واپس الاسکا کے معیاری وقت پر آگئے۔

یہ بھی پڑھیے

یہاں سورج اب اگلے سال ہی نکلے گا!

الاسکا میں سونامی کا خطرہ ٹل گیا

قطبِ شمالی میں زندگی کی جھلکیاں

درحقیقت جس لکیر کو پار کر کے ہم ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخل ہوئے، وہ ایک طویل عرصے سے متنازع ہے۔

یہاں کے قریبی علاقوں میں رہنے والے مقامی افراد سے یورپی لوگوں کا سامنا ہونے سے پہلے بھی یہاں کے مقامی قبائل اس وسیع و عریض علاقے میں کبھی کبھار ایک دوسرے سے زمینی اور سرحدی حدود پر لڑا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1903 میں ایک بینلاقوامی ٹرائبیونل تشکیل دیا گیا۔ اس کا کام الاسکا کے سرحدی تنازعے کو حل کرنا تھا۔ اس میں امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے چھ غیر جانبدار جج قانون دان شامل تھے

ان دنوں یہ سرحدی تنازعہ نئے دشمنوں کے درمیان جاری ہے اور اس تنازعے کی بنیاد جس خزانے پر ہے، وہ جانوروں کے بالوں اور سونے کے بجائے سالمن مچھلیوں پر ہے۔

ویسے تو امریکہ اور کینیڈا کے درمیان دنیا کی سب سے طویل ایسی سرحد موجود ہے جہاں کوئی سپاہی نہیں، مگر ڈکسن اینٹرنس ان دوستانہ ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری چار سرحدی تنازعات میں سے ایک ہے۔ یہ جھگڑا 18 ویں صدی سے جاری ہے۔

یہ وہ وقت تھا جب تنگ پہاڑی سلسلے، پہاڑوں کو کاٹ کر زمین تک آتے سمندری حصے (فیؤرڈز)، اور جدید برٹش کولمبیا کے سرحدی جزیروں پر مشتمل الاسکن پین ہینڈل خطے کو نو آبادی بنانے والی قوتیں انگلینڈ اور روس تھیں جبکہ امریکہ کا نمبر بعد میں تھا۔

جب 1732 میں روسی بحری بیڑہ الاسکا آیا تو انھوں نے پایا کہ اس علاقے میں اود بلاؤ بڑی تعداد میں موجود تھے اور یوں انھوں نے مقامی افراد کے ساتھ فر یعنی پوستینوں کا کاروبار شروع کیا۔ سنہ 1760 تک کیپٹن جیمز کُک یہاں آ چکے تھے اور انھوں نے انگریزوں کے لیے شمالی بحرالکاہل کی نقشہ نگاری اور سروے کرنا شروع کر دیا تھا۔

پھر 1800 کے اوائل میں امریکی مہم جو میری ویدر لوئس اور ولیم کلارک نے بحرالکاہل کے شمال مغرب تک راستہ تلاش کر لیا۔

اب علاقوں پر تنازعہ شروع ہونے کے لیے میدان تیار تھا۔ مقامی آبادیاں جلد ہی بیماریوں اور جنگوں کی زد میں آ گئیں اور روسی کالونائزیشن کے پورے دور میں الاسکن پین ہینڈل خطے کی جنوبی اور مشرقی سرحدوں کا کبھی بھی ٹھوس انداز میں تعین نہیں کیا گیا۔

سنہ 1825 میں انگلینڈ اور روس کے درمیان معاہدہ سینٹ پیٹرزبرگ کے نتیجے میں آج کے دور میں برٹش کولمبیا کے علاقے پرنس روپرٹ کے قریب پین ہینڈل کی جنوبی ساحلی سرحد بنائی گئی مگر یہ علاقہ اس قدر پہاڑی تھا کہ اس میں سے زیادہ تر حصے کا سروے نہ کیا جا سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Joe Raedle
Image caption اس متنازعہ سرحد پر سے آج بھی 15 لاکھ سے زائد لوگ سفر کرتے ہیں۔

سنہ 1867 میں امریکہ نے روس سے الاسکا کو خرید لیا اور چند سال بعد برٹش کولمبیا نے کینیڈا میں شمولیت اختیار کر لی۔ کینیڈا نے امریکہ کو تجویز دی کہ اب پین ہینڈل خطے کا سرکاری سطح پر سروے کیا جائے تاکہ دونوں ممالک سرحد پر اتفاق کر سکیں۔

مگر امریکہ کا خیال تھا کہ اس قدر دور دراز علاقے کے لیے یہ ایک نہایت مہنگا کام ہے۔

مگر پھر سونا دریافت ہوا۔ اس کی دریافت سب سے پہلے برٹش کولمبیا میں ہوئی اور پھر 1897 میں کینیڈا کے شمال مغربی خطے یوکون کے علاقے کلونڈائک میں۔

سونے کی تلاش میں تقریباً ایک لاکھ لوگ اس علاقے کی جانب ہجرت کر گئے۔ یہاں موجود سونے کی کانوں تک پہنچنے کا آسان ترین راستہ سمندر میں ڈکسن اینٹرینس کے ذریعے چٹانی کھاڑیوں تک آنا اور یہاں سے پین ہینڈل کی زمین پر قدم رکھنا تھا۔

کینیڈا چاہتا تھا کہ لوگ بلا روک ٹوک اس کی زمین تک سفر کر سکیں مگر امریکہ اس زمین سے بالکل بھی دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا جسے اس نے حال میں سروے کے لیے غیر اہم تصور کیا تھا۔

دونوں ممالک نے معاملے کے حل کی کوشش کی مگر 1899 میں یہ معاملہ ڈیڈ لاک کا شکار ہوگیا۔

1903 میں ایک بینلاقوامی ٹرائبیونل تشکیل دیا گیا۔ اس کا کام الاسکا کے سرحدی تنازعے کو حل کرنا تھا۔ اس میں امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے چھ غیر جانبدار جج قانون دان شامل تھے۔ اس گروہ نے الاسکا کی مشرقی سرحد کا تعین کیا، جو کہ ساحل سے 56 کلومیٹر دور تھی۔

جکہ شمالی سرحد کا تعاین، جسے اے بی لائن' کہا جاتا ہے کیپ مازون سے لر کے الاسکا کے دل جزیرے تک کیا گیا۔

کینیڈا کمیٹی کے اس فیصلے پر بہت برہم ہوا اور جلد ہی ایک اور مسئلہ کھڑآ ہوگیا۔ کینیڈا کا موقف تھا کہ اے بی لائن زمین اور سمندری حدود کا تعین کرتی ہے، تاہم امریکی موقف یہ تھا کہ یہ سرحدی حدود صرف زمینی علاقے کا تعین کرتی ہے اور سمندری قوانین کے مطابق بحری سرحد 20 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ یہ اختلاف آج بھی قائم ہے۔

اس متنازعہ سرحد پر سے آج بھی 15 لاکھ سے زائد لوگ سفر کرتے ہیں۔

یہ لوگ آس پاس کے خوبصورت منظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جن میں پہاڑ، خوبصورت جزیرے، چھوٹی کشتیاں اور بحری جہاز شامل ہیں۔ لیکن یہاں سے گزرنے والے بہت کم لوگ اس سرحدی تنازعے کے بارے میں جانتے ہیں۔

یہ بات سننے میں شاید عجیب لگے کہ یہ دو ملک جو کہ بہت ہی قریبی اتحادی ہیں اس 80 کلومیٹر چوڑے اور 50 کلومیٹر لمبے سمندری علاقے کی سرید پر اختلاف رکھتے ہیں۔ لیکن اس کے پیچھے اصل وجہ سامن مچھلی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1990 میں کینیڈا اور الاسکا کے مچپیروں کے درمیان تنازعہ ہوا۔ جسے 'سامن وار' یعنی کے 'سامن جنگ' کا نام دیا گیا۔

اس علاقے میں سامن مچھلی کثیر تعداد میں پائی جاتی ہے۔ 1880 سے لے کر 1950 تک یہاں 100 سے زیادہ مچھیروں نے پڑاؤ ڈالا اور بستیاں بنائیں۔ جبکہ حالیہ عرصے میں برٹش کولمبیا نامی اس صوبے سے دنیا کے 53 ملکوں میں مچھلیاں برآمد کی جاتی ہیں۔

ڈکسن اینٹرنس کا درجہ اس ساری تجارت میں سونے کا کان کا ہے۔ کیونکہ یہاں سامن کی پانچ مختلف قسمیں پائی جاتی ہیں۔ چینوک، چم، پنک اور ساک آئی سامن کا یہاں سے گزر ہوتا ہے۔ یہ مچھلیاں بدلتے موسم کے ساتھ ہی اپنے اپنے سمندری گھروں کا رخ کرتی ہیں لیکن راستے میں یہ مچھیروں کا شکار بن جاتی ہیں۔

دونوں ملکوں کے مچھیروں کی کشتیاں اس متنازعہ علاقے میں اپنے اپنے حصے کی سامن پکڑنے میں مصروف ہوتی ہیں۔مچھیروں کی دونوں پارٹیوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے لیکن اس میں آہستہ آہستہ کشیدگی بڑھتی ہے۔

1990 میں کینیڈا اور الاسکا کے مچپیروں کے درمیان تنازعہ ہوا۔ جسے 'سامن وار' یعنی کے 'سامن جنگ' کا نام دیا گیا۔

1930 کے بعد سے امریکہ اور کینیڈا میں یہ تنازعہ چل رہا ہے کہ کون سا ملک کون سی سامن کا مالک ہے۔ یہ تنازعہ ایک طرف تو تو مکمل طور پر کھرا ہے لیکن ساتھ ہی یہ غیر شفاف بھی ہے۔

بے ضابطہ طور پر مچھلی پکڑنے کے طریقے کار کی وجہ سے سامن کی کچھ قسمیں ناپید ہوگئی ہیں۔ اس سے ماہی گیری کی مقامی صنعتوں کو بھی نقصان ہوا ہے۔

1985 میں سامن مچھلی کے حوالے سے ایک معاہدہ پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کا نام ہے 'پسیفک سامن ٹریٹی'۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دونوں ملکوں کے ماہی گیروں کو سامن پکڑنے کا یکساں موقع ملے۔ لیکن جب 1992 میں یہ معاہدہ ختم ہوا تو چھ سال طویل ایک اور تنازعہ شروع ہوگیا جس میں امریکہ اور کینیڈا نے ایک دوسرے کی کشتیوں کو ضبط کرنا شروع کردیا۔

1997 میں حالات اس وقت مزید کشیدہ ہوگئے جب کینیڈا کے سینکڑوں ماہی گیروں نے الاسکا کی ایک سرکاری کشتی کا راستہ روک کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔

اس کے بعد 1999 میں ایک نیا معاہدہ طے پایا لیکن اس معاہدے میں سرحدوں کے تعین کے مسئلے کو شامل نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 9 میں ایک نیا معاہدہ طے پایا لیکن اس معاہدے میں سرحدوں کے تعین کے مسئلے کو شامل نہیں کیا گیا۔

عام طور پر امریکہ اور کینیڈا کی پولیس، متنازعہ سمندری حدود میں اپنے ماہی گیروں پر خود نظر رکھتی ہے۔ لیکن کبھی کبھار چوٹی موٹی الاسکا اور کینیڈا کے ماہی گیروں کی آپس میں جھڑپیں بھی ہوتی ہیں اور اس کے لیے کینیڈا نے ایک ہیلپ لائن تشکیل دی گئی ہے جو کہ چوبیس گھنٹے تک چل رہی ہوتی ہے۔

یہ ہیلپ لائن خاص سامن کے مسائل اور معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والےماہی گیروں سے نمٹنے کے لیے مختص کی گئی ہے۔

اس طرح کے واقعات میں اکثریت امریکی ماہی گیروں کی ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس طرح کی ہیلپ لائن تشکیل نہیں دی۔

ان سارے حالات و واقعات سے قطع نظر، پانیوں کی گھرائیوں میں سامن مچھلی اپنی دھن میں مگن تیر رہی ہے۔ نہ اسے سیاسی مسائل کا علم ہے اور نا ہی سرحدی تنازعوں کا۔

اور پانی کے اوپر چلتی ہوئی مسافروں کی کشتیوں اور سیاحوں کو بھی اس بارے میں علم نہیں۔ وہ یہاں کی خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔

اس علاقے کی برفانی چوٹیاں، لہلہاتے حسین پہاڑ، بہتے ہوئے آبشار، سمندری جانور، پرندے اور آزاد گھومتے ریچھ۔ سب اس بات سے لاعلم کے ان سارے حسین مناظر کو آپس میں جوڑنے والی سامن، پانی کی گھرائیوں میں تیر رہی ہے۔

اسی بارے میں