ہانگ کانگ: ’میں تمام خداؤں کا رکھوالا ہوں، یہ سب میرے لیے برابر ہیں‘

بت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہانگ کانگ کے جزیرے کے جنوب مغربی ساحل پر ’واٹر فال بے پارک‘ ایک پُرسکون نخلستان ہے جہاں سڑکوں پر گاڑیوں کا شور شرابہ ہے اور نہ ہی شیشے اور سٹیل سے بنی فلک بوس عمارتیں۔

اس علاقے کی خوبصورت آبشاروں نے اٹھارویں صدی میں برطانوی تاجروں کی کشتیوں اور بحری قزاقوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ روایت کے مطابق مقامی لوگوں نے انھیں پانی کی جھیلوں اور آبشاروں سے آنے والی آواز پر اسے ’ہوینگ گونگ‘ کا نام دیا تھا۔

آج اس پارک کے جنگلات اور ساحلی نظارے کئی مقامی افراد اور سیاحوں کو اپنے طرف کھینچ لاتے ہیں۔ یہاں آنے والے لوگ تازہ ہوا میں سانس لے پاتے ہیں، پانی میں تیرتے ہیں اور ساحل پر غروب آفتاب کے نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اس شہر کے ایک کنارے پر پہاڑ ہیں اور دوسرے پر جنوبی بحیرۂ چین۔ یہاں چٹانوں کے نظارے سحر میں مبتلا کر دینے والے ہیں۔

لیکن اس علاقے کی اصل وجہ شہرت یہاں آنے والے کئی سیاحوں کو حیران کر دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سڑک کنارے چلتے ایک راستے پر کئی سیڑھیاں ہیں اور یہ آپ کو ایک ایسی جگہ پر لے جاتی ہیں جہاں برگد کے گھنے درختوں کا سایہ ہے۔

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بدھا سمیت مختلف مذاہب کے رنگ برنگے بُت ہزاروں کی تعداد میں ایک پہاڑ کے دامن میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ نظارہ یقیناً دلفریب ہے۔

،تصویر کا ذریعہMatthew Keegan

یہاں سے گزرنے والے اکثر لوگ ادھر کھڑے ہو کر تصاویر لیتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے اپنے طریقوں سے عبادات کرتے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اتنے سارے بت ایک ساتھ یہاں کیسے اور کیوں لائے گئے؟

ایک حالیہ دورے پر میں نے وہاں ایک عمر رسیدہ شخص کو دیکھا جو ان بتوں پر سے پتے ہٹا رہا تھا اور انھیں ایک کپڑے سے صاف کر رہا تھا۔

88 سالہ وونگ ونگ پونگ نے خود کو یہاں تعینات کر رکھا ہے۔ وہ اس جگہ کے واحد محافظ ہیں جسے مقامی طور پر ’خداؤں اور بدھا سے بھرا آسمان‘ کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتے ہیں کہ ’میں گذشتہ 30 برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے ان خداؤں کی دیکھ بھال کر رہا ہوں۔‘

وونگ پارک کے بالائی حصے پر ایک چٹان کے کنارے اپنے فلیٹ میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تین دہائیاں قبل یہاں صرف چند بت تھے۔ وقت گزرتا رہا اور اس پہاڑ کے کنارے ہزاروں بُت اکٹھے ہوتے چلے گئے۔

وونگ کو خود بھی معلوم نہیں ہے کہ یہاں کل کتنے خداؤں کے بُت موجود ہیں۔ لیکن ان کا اندازہ ہے کہ ان کی تعداد کم از کم دو ہزار سے تین ہزار ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بات علاقے میں مشہور ہو گئی کہ شہر میں ایک جگہ ہے جہاں آپ بے گھر بتوں کو لے جا کر رکھ سکتے ہیں۔‘

’یہ جگہ اب ان بتوں کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد کا گھر بن گیا ہے۔ جب لوگوں کے پاس اپنے بتوں کے لیے گھر میں جگہ ختم ہو جاتی ہے تو وہ انھیں یہاں لے آتے ہیں۔‘

ہانگ کانگ میں یہ بات عام ہے کہ تاؤ مت، بدھ مت اور کانفیوشزم جیسے مقامی مذاہب کے پیروکار اپنے خداؤں کو چھوٹے بُت گھروں میں رکھتے ہیں۔ ان میں رحم (گوائن)، جنگ (گوائندی) اور سمندر (تن ہاؤ) کے خداؤں کے بُت شامل ہیں۔

گھروں میں ان بُتوں کے لیے چھوٹی عبادت گاہیں بنائی جاتی ہیں۔ یہاں ان کی عبادت ہوتی ہے، انھیں معطر کیا جاتا ہے، اور حفاظت، صحت اور خوش قسمتی کے لیے ان کے سامنے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

ہانگ کانگ مختصر رہائش گاہوں اور آسمان کو چھوتے کرایوں کی وجہ سے کافی بدنام ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہاں رہنے والوں کے پاس بعض اوقات اپنے بتوں کے لیے بھی جگہ کم پڑ جاتی ہے۔ مگر بت کے پرانے ہونے یا کسی اور وجہ سے اسے نقصان پہنچنے پر ان کے مالک انھیں باہر نہیں پھینکتے کیونکہ ایسا کرنا بدشگونی اور بُری قسمت کو دعوت دینے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

باہر پھینکنے کے بجائے ہانگ کانگ کے رہائشی ایسے بتوں کو اپنی گلیوں کے نکڑ پر رکھ آتے ہیں۔

گلیوں کے کناروں پر پڑے یہ بت بعض اوقات مذہبی افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں جو ایسے بتوں کے لیے چھوٹے چھوٹے معبد بنا دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہانگ کانگ میں آپ کو بتوں کے گھر جا بجا نظر آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

گذشتہ دہائیوں کے دوران وونگ کا پہاڑی پر موجود بتوں کا ’یتیم خانہ‘ ایسے ہی چھوڑے گئے بتوں کا سب کا بڑا مسکن بن کر سامنے آیا ہے۔

وونگ نے بتایا کہ ’دیوتا کا مجسمہ خریدنے کا مقصد اپنے اور اپنے کنبے کے لیے خوش قسمتی، خوشحالی اور اچھی صحت کا طلب گار ہونا ہے۔ اگر آپ ان کو لاواث چھوڑ دیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو مزید برکات حاصل نہیں ہوں گی۔ انھیں باہر پھینک دینا آپ کی قسمت کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔‘

متبادل یہ ہے کہ بے گھر بتوں کو یہاں لایا جائے۔ اس کا مطلب ہے اب ان خداؤں کے بت وونگ کی نگرانی میں آ جائیں گے۔ اپنے جوانی کے دنوں سے وونگ بدھ مت کے پیروکار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی مقدس عہد کی وجہ سے وہ یہاں کے نگران بن گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میری قسمت میں ان (بتوں) کی حفاظت کرنا لکھا تھا۔ اگر میں ان کی دیکھ بھال نہیں کروں گا تو اور کوئی نہیں کرے گا۔ میں یہ سب مروت کی وجہ سے کرتا ہوں۔ مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ ان بتوں کو اکیلا چھوڑ دیا جائے۔‘

وہ پہلے ایک قصائی تھے اور انھوں نے اپنی زیادہ تر زندگی گوشت کے حصے کرنے میں گزاری ہے لیکن اس کے بجائے اب وہ جسموں کو واپس ملا رہے ہیں۔

وونگ یہاں روز دو مرتبہ آتے ہیں۔ عام طور پر صبح آٹھ بجے اور پھر دوپہر کو۔ اس دوران وہ درختوں سے گِرنے والے پتے ہٹاتے ہیں، بتوں کو صاف کرتے ہیں اور ٹوٹے ہوئے بتوں کی مرمت کرتے ہیں۔ وہ اپنی جیب میں گوند لے کر پھرتے ہیں تاکہ بتوں کو واپس جوڑ سکیں۔

وونگ سمجھتے ہیں کہ بتوں کی دیکھ بھال کرنے سے وہ ان سے نیکیاں حاصل کرتے رہیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں تمام خداؤں کا رکھوالا ہوں۔ یہ سب میرے لیے برابر ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہMatthew Keegan

ان میں زیادہ تر بدھ مت اور تاؤ مت کے بت ہیں لیکن یہاں تمام مذاہت کے بت پائے جا سکتے ہیں۔ یہاں سڑک کنارے عیسائیت کے پیروکاروں کے لیے مقدس مجسمے بھی رکھے گئے ہیں۔

درحقیقت یہ مقام مشرق اور مغرب دونوں ثقافتوں سے متاثر ہے اور ان خداؤں کے بت دیکھ کر یہاں کی کثیر الثقافتی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

وونگ کہتے ہیں کہ ’ہم صرف بدھ مت کے بت ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب کے مجسمے رکھتے ہیں۔ میں ان سب کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ ہانگ کانگ میں یہ واحد جگہ ہے جہاں تمام مجسمے ایک ساتھ رکھے جاتے ہیں اور مذہب کی پرواہ نہیں کی جاتی۔‘

اپنے قد کاٹھ کے باوجود ہانگ کانگ کے کئی شہری بے گھر خداؤں کے اس مقام اور یہاں کے نگراں کے بارے میں لاعلم ہیں۔ جب میں نے مقامی حکومت سے گزارش کی جو اس پارک کی دیکھ بھال کرتی ہے کہ میرا رابطہ وونگ سے کرا دیں تو انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ان کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا اور نہ ہی یہ مندر دیکھا ہے۔ شاید اس مقام کا پراسرار ہونا ہی اس کی خوبصورتی کو بڑھا رہی ہے۔

اپنے ہر دورے پر وونگ ان خداؤں کے آگے عبادت کرتے ہیں۔ اپنی عمر کے حساب سے وہ کافی فِٹ ہیں۔ وہ اس تمام جگہ کا چکر لگاتے ہیں جو شاید تین ڈبل ڈیکر بسوں جتنی ہے۔ وہ ان جگہوں تک بھی پہنچتے ہیں جہاں جانا مشکل ہوتا ہے اور پہاڑ کے راستے پر باآسانی چل لیتے ہیں۔

وونگ کہتے ہیں کہ ان خداؤں کی وجہ سے میری صحت اچھی ہے۔ وہ ان بتوں کو ایک باپ کی طرح شفقت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

تاہم وہ خود یہاں کبھی کوئی بت نہیں لائے۔ وہ اپنے ساتھ کچھ بتوں کو گھر لے جا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

وونگ کہتے ہیں کہ اس مقام کے بارے میں زیادہ لوگوں کو معلوم نہیں ہے مگر جن کو معلوم ہے وہ ہر ماہ اپنے بت لے کر آتے ہیں۔ کچھ کاروبار، ریسٹورانٹ وغیرہ یہاں آ کر اپنے وہ ببت چھوڑ جاتے ہیں جن کی انھیں ضرورت نہیں ہوتی۔

وونگ کہتے ہیں کہ ‘کچھ لوگ تو یہاں آنے کے لیے خاص بت خرید کر لے کر آتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ یہاں خداؤں کی عبادت کی جگہ ہے اور بدلے میں خدا انھیں نعمتیں دیں گے۔‘

ایک مچامی رہائشی مس لی اس مقام پر 20 سال سے آ رہی ہیں۔ ‘میں نے گوانین کا ایک بت یہاں لا کر رکھا تھا۔ یہ مجھے کسی نے دیا تھا اور میں اسے یہاں لے آئی۔‘

مس لی وونگ کی اس بات پر شکر گزار ہیں کہ وہ اس ساری جگہ کو سنبھالے ہوئے ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ یہاں ہر روز ائین۔ ‘مجھے یہ سارے خدا پسند ہیں یہ بہت خوبصورت ہیں۔ میں یہاں بتوں کی پوجا کرنے کے لیے آتی ہوں تاکہ میری فیملی خوش قسمت ہو۔‘

وونگ کا کہنا ہے کہ اس مقام کی قسمت اچھی ہے کیونکہ اس کا رخ ہپاڑوں اور سمندر کی جانب ہے اور اسی سمت سے موپت تونائی آتی ہے۔

اس کے علاوہ ان تمام بتوں کا رُخ بحر کی طرف ہے۔ وونگ سمجھتے ہیں کہ ان خداؤں کے بت ہمیشہ محفوظ رہیں گے اور بدلے میں وہ اپنے پیروکاروں کو محفوظ رکھیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب موسم گرما میں شدید گرمی کے باوجود پہاڑ پر یہ مقام ٹھنڈا رہتا ہے۔ اور جب موسم سرد ہو تو یہاں اتنی سردی نہیں ہوتی۔

وونگ کہتے ہیں کہ وہ ان خداؤں کے محافظ بنے رہیں گے، جب تک وہ چلنے پھرنے کے قابل نہ رہیں۔ انھیں یہ بات ہرگز پریشان نہیں کرتی کہ ان کے بعد ان کی رکھوالی کون کرے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس مقام کی مثبت طاقت سے یہاں لوگ آتے رہیں گے اور ان خداؤں کی عبادت کرتے رہیں گے۔

’میرے جانے کے بعد بھی کسی کو یہاں کی رکھوالی کرنے کی ہدایت ملے گی جسے مجھے کئی سال قبل ملی تھی۔ خدا یہ یقینی بنائیں گے کہ کوئی ان کی دیکھ بھال کرے۔ فطرت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔‘