کھوبا روٹی: انڈیا کی سب سے پسندیدہ روٹی جس میں گھی کا زیادہ استعمال دراصل ’محبت کا اظہار‘ ہے

  • نیتا لال
  • بی بی سی ٹریول
کھوبا روٹی

،تصویر کا ذریعہNEETA LAL

انڈیا میں کورونا کی وبا کے دوران سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ ٹرینڈ کی جانے والی کھانے کی اشیا میں یہاں کی مشہور ’کھوبا‘ روٹی رہے ہے۔ یہ انڈیا کی شمال مغربی ریاست راجستھان کی خاص سوغات ہے جسے گندم کے آٹے، نمک، ہلکی پسی ہوئی لال مرچ اور اجوائن کے دانوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ دیسی گھی اور خوبصورت شکل میں پکی اس روٹی کو انڈیا میں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

کھانے کے دلدادہ افراد اس کھوبا روٹی کی تصاویر اپنے انسٹاگرام پر پوسٹ رہے ہیں جبکہ گھر میں کھانے پکانے کے شوقین افراد اس بڑی سی روٹی کو گھر میں تیار کرنے میں اپنا ہنر آزما رہے ہیں۔

یہ روٹی عموماً 15 سے 20 سینٹی میٹر بڑی اور آدھا سینٹی میٹر موٹی ہوتی ہے۔

شیف وکاس کھنہ بھی کھوبا روٹی کی مقبولیت کو دیکھ کر اس کی تیاری کی آسان ترکیبیں آن لائن سکھا رہے ہیں جبکہ دیگر مشہور انڈین شیف جیسا کہ رنویر برار اور اجے چوپڑہ بھی اس کے متعلق تراکیب اور ویڈیوز بنا کر پوسٹ کر رہے ہیں۔

انڈیا کے پکوان ایسی مزیدار روایتی موٹی اور بڑی روٹی سمیت دیگر ڈشز سے بھرے پڑے ہیں جو اس کے بھرپور تنوع، ثقافتی ورثے اور ہم آہنگی کو اجاگر کرتا ہے۔

کشمیر کی ’کزہو‘ سے لے کر بہار کی ’ستو روٹی‘ تک، کیرالہ کے ’بلوں والے پراٹھے‘ سے مہاراشٹرا کی ’بھاکری‘ تک، انڈین پکوانوں میں گھر کی بنی روٹی ایک اہم جزو ہے۔ یہ بظاہر سادہ دکھائی دیتی ہیں لیکن اس کے ذائقے اور بناوٹ کے لیے مہارت درکار ہوتی ہے۔ کھوبا روٹی کو مقامی طور پر کوبھا، روتھ، روٹلا، انگارکدی، جادی روٹی اور حتیٰ کہ بسکٹ روٹی بھی کہا جاتا ہے، اور اس کی وجہ اس کی بھربھری بناوٹ ہے۔

،تصویر کا ذریعہNEETA LAL

نیہا دتہ، جو بنگلور سے تعلق رکھنے والی ایک آئی ٹی ایگزیکٹیو ہیں اور گھر پر بیکنگ کرنے کی شوقین بھی، کا کہنا ہے کہ ’میں نے نان، چپاتی، پراٹھے اور پوریوں سمیت انڈین پکوانوں میں موجود مختلف طرح کی روٹیاں خود پکائی ہیں، لیکن مجھے کھوبا روٹی پکانا سب سے زیادہ پسند ہے کیونکہ یہ مجھے اپنی مہارت دکھانے کی اجازت دیتی ہے۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

'میں اسے بنانے کے لیے کسی بھی آٹے کا استعمال کرتی ہوں، اپنے انگوٹھوں یا چمٹے کی مدد سے کسی بھی طرح کا ڈیزائن بنا سکتی ہوں۔ اسے عام اچار، پُرلطف سزیوں اور گوشت کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ میں اسے پنج دال (پانچ دالوں کے مرکب) اور لہسن کی چٹنی کے ساتھ بھی بناتی ہوں۔ اور اس کی تعریفیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔‘

ونی مہتا جو ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور بہت شوق سے گھر پر کھانا پکاتی ہیں کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے پہلی مرتبہ اپنے ایک دوست کے گھر پر اس روٹی کو کھایا تو انھیں پہلی ہی نظر میں اس روٹی سے محبت ہو گئی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اس کی بناوٹ اور شکل اتنی پسند آئی کہ میں فوراً اپنی دوست کے کچن میں یہ دیکھنے کے لیے گھس گئی کہ یہ روٹی بنتی کیسے ہے۔‘

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’اس کی تیاری کا عمل اس سے بھی زیادہ دلچسپ تھا، اس روٹی پر ڈیزائن بنانا، اس پر اس وقت تک گھی ڈالنا جب تک روٹی پر ایک خاص سنہرے رنگ کی پرت نہ آ جائے، یہ سارا عمل بہت اچھا تھا اور میں اگلے ہی دن اسے اپنے باورچی خانے میں پکانے سے خود کو نہ روک پائی۔‘

ابھیلاشا جین جو مارواڑی خانہ نامی راجستھانی پکوان کی ایک کیٹرنگ کمپنی چلاتی ہیں کے مطابق لفظ ’کھوبا‘ کے لفظی معنی ’گڑھے‘ یا ’دباؤ‘ کے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتی ہیں کہ 'جب روٹی کو توے پر ڈالا جاتا ہے، تو اس کے کناروں پر ہاتھ کے انگوٹھے کی مدد سے گہرے گڑھے بنائے جاتے ہیں اور ان میں گھی ڈالا جاتا ہے۔ روٹی کو ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے جب تک کہ وہ کرکری نہ بن جائے لیکن اس میں یہ بھی دھیان رکھا جاتا ہے کہ وہ اندر سے کچی نہ رہے۔ آپ اسے گیس پر یا کوئلوں کے تندور میں پکا سکتے ہیں جو اس پر ہلکے جلے ہونے کے نشانات چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ہلکا تندوری ذائقہ بھی دیتا ہے۔ میں ویسے اسے کوئلوں پر پکانے پر ترجیح دیتی ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہNEETA LAL

جین کے مطابق اس روٹی کی بناوٹ کے لیے آڑے ترچھے ڈیزائن صرف دکھاوے کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ روٹی کو مکمل طور پر اندر سے پکنے میں مدد دیتے ہیں اور گھی کو روٹی کے پیڑے میں اچھے طریقے سے سرایت کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ جو اسے کھانے میں لذیذ اور چبانے میں آسان بناتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’میرے پاس اس کے بے شمار آرڈرز ہیں اور یہ اس وقت میری سب سے زیادہ بکنے والی آئٹم ہے۔‘

لیکن اس روٹی کی حالیہ مقبولیت کی وجہ کیا ہے؟

مختلف پکوانوں کی کتابوں کی مصنفہ نیتا مہتا، جنھوں نے انڈین پکوانوں پر چھ سو سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں، کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا نے گھر سے کام کرنے کے رحجان میں اضافہ کیا ہے اور اس کے باعث لوگوں نے گھروں میں وقت بتانے کے لیے اپنے باورچی خانوں میں نئے پکوان سیکھنے کے تجربات کیے ہیں۔

اب خاندان ایک ساتھ کھانا پکا رہے ہیں، نئے نئے پکوانوں کی تراکیب آزما رہے ہیں اور انٹرنیٹ پر اپنے پیاروں کے ساتھ اپنے کھانے پکانے کی مہارت کے لمحات شیئر کر رہے ہیں۔

نیتا مہتا ہے کہنا ہے کہ ’اگرچہ کھوبا صدیوں سے یہاں موجود ہے لیکن نئی نسل کی دلچسپی نے اس کی مقبولیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس روٹی کے غذائی فوائد کے علاوہ یہ فٹنس کا خیال رکھنے والی نئی نسل کو اچھی لگی ہے۔‘

وہ اس کو باجرا، مکئی اور جوار کے آٹے جیسے غذائی آٹوں سے تیار کر رہے ہیں۔ اور ویسے بھی کون اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ یہ روٹی اپنے ڈیزائن کی وجہ سے انسٹاگرام پر مقبول نہیں ہو سکتی۔

کھوبا روٹی کی تاریخ کے آثار راجستھان کے شہر جودھ پور کے قریبی دیہات اور وہاں کے باسیوں کے رہن سہن سے ملتے ہیں۔

اس خطے کو ’مہاراجاؤں کی زمین‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے متعدد راجپوت راجاؤں نے صدیوں اس علاقے پر حکمرانی کی ہے۔ راجستھان کی تاریخ جنگوں اور شکار کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

نیو دہلی کے لیلہ ایمبائنس کنونشن ہوٹل کے ایگزیکٹیو شیف آشوانی کمار سنگھ بتاتے ہیں کہ راجپوت راجا اپنی بڑی بڑی فوجوں کے ساتھ دور دور جنگیں لڑنے جاتے تھے۔

وہ اس روٹی کے تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایسے حالات میں انھیں ایسے کھانے یا روٹی کی ضرورت ہوتی تھی جو بہت دیر تک کھانے کے قابل رہے۔ لہذا راجپوت فوج کے سپاہی اپنے ساتھ کھوبا روٹی لے جاتے تھے جسے اچار اور پیاز کے ساتھ کم سے کم لوازمات کے ساتھ کھایا جا سکتا تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ یہ دیگر روٹیوں کے برعکس موٹی اور سخت ہوتی تھی اور گھی اور نمک کی وجہ سے یہ جلد خراب بھی نہیں ہوتی تھی۔

’کھوبا روٹی راجستھان کی خانہ بدوش برادری میں بھی مقبول تھی جو تپتے صحرا میں اپنے خاندانوں کے ساتھ اونٹوں اور پیدل قافلوں میں سفر کیا کرتے تھے۔‘

راجستھان کی ماڑواری برادری جو عموماً کاروباری ہوتے تھے وہ بھی کھوبا روٹی کو اپنے تجارتی سفر کے دوران ساتھ لے جانا پسند کرتے تھے۔ یہاں کی جین برادری، جو عدم تشدد کے پیرو کار ہیں اور گوشت بالکل نہیں کھاتے حتیٰ کہ وہ جڑ والی سبزیاں بھی نہیں کھاتے اور صرف سبزیاں کھاتے ہیں، میں بھی یہ روٹی مقبول تھی۔

انھیں اکثر اپنی مذہبی رسومات کے تحت گھر سے باہر کھانا کھانا پڑتا تھا لہذا ان کے لیے بھی یہ ایک پسندیدہ غذا تھی جسے بنا کسی لوازمات کے کھایا جا سکتا ہے۔

یہ جین برادری میں اتنی مقبول ہے کہ انھوں نے اس کے نام پر ’روتھ تیج‘ نام کا ایک تہوار بھی رکھا ہے۔

آشوانی سنگھ کہتے ہیں کہ ’اس تہوار کے دن ہم صرف ایک ہی طرح کے اناج سے بنی روٹی کھاتے ہیں۔ اس لیے ہم اس دن گندم سے بنی کھوبا روٹی کھاتے ہیں۔‘

’یہ تہوار ہمیں اس بات کی یاد دلاتے ہے کہ دنیاوی دولت ہمیشہ قائم نہیں رہتی، اور صرف اندورنی خوشی اور اطمینان ہمیشہ رہتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

راجستھان کو عظیم انڈین کا صحرا یا صحرائے تھر کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ اپنے سخت گرم موسم اور درجہ حرارت کے باعث جانا جاتا ہے۔ یہاں گرمیوں میں درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے۔

جس کے باعث جسمانی تقاضے جو انسانی جسم پر اثر ڈالتے ہیں اس نے طویل عرصے سے یہاں کے لوگوں کے زرعی طریقوں اور غذائی عادات کا تعین کیا ہے۔

ابھیلاشا جین بتاتی ہیں کہ یہاں روایتی اور مقامی سطح پر سوکھی سبزیاں، پاپڑ اور دالوں سے بنی وڑیاں، جو دیر تک خراب نہیں ہوتیں، مقامی پکوانوں میں استعمال کی جاتی ہیں۔

ان میں پانی کی جگہ یہ لوگ دودھ، دودھ سے بنا مکھن یا گھی استعمال کرتے ہیں جو انھیں سبزی خور ہونے کے باعث دیگر غذائی ضروریات پورا کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

کھوبا روٹی کے ساتھ کھائی جانے والے پکوان بھی کھوبا روٹی کی طرح دلچسپ ہیں۔ اسے بکرے کے سالن سے لے کر ربوری کی سبزی جسے مکئی کے آٹے اور مکھن میں پکایا جاتا ہے، کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ اسے مقامی طور پر پکائے جانے والے گاٹا کے سالن کے ساتھ بھی کھایا جاتا ہے۔ اس روٹی کے ساتھ اکثر مخلتف دالیں، کڑھی، سبزیوں اور چٹنیوں کے ساتھ بھی پیش کیا جاتا ہے۔

اسے ایک اور مشہور راجستھانی پکوان ’پنچ کوٹا‘ کے ساتھ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں پانچ مخصوص ریگستانی جنگلی چارے کے اجزا جن میں کیر، سنگری، امچور، گنڈا اور کماتی شامل ہیں استعمال کیے جاتے ہیں۔

انھیں خشک اور گرم موسم کے لیے بوائی کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے جب صحرا میں کچھ اور نہیں اگتا۔

سنگھ بتاتے ہیں کہ آج کل کے جدید کُک اکثر کھوبا روٹی کو گیس پر پکاتے ہیں، روائتی طور پر یہ چولھوں یا مٹی کے بنے تندوروں میں پکتی ہے جن میں گائے کے گوبر کے آپلے یا کوئلے سے آگ جلائی جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’روائتی طریقے سے اس کی تیاری اس کے ذائقے کو بڑھا دیتی ہے۔‘

’اس کی دلچسپ بات یہ ہے کہ دیگر انڈین روٹیوں، جنھیں زیادہ تر خواتین گھروں میں پکاتی ہیں، کے برعکس کھوبا کو راجستھان میں مرد بھی تیار کرتے ہیں۔‘

لذیذ کھوبا پکانے کا گر بتاتے ہوئے جین نے کہا کہ اس میں گھی کے استعمال میں کنجوسی کبھی نہ کریں۔ ’راجستھان میں کہتے ہیں کہ آپ جتنا زیادہ گھی استعمال کریں گے یہ اتنی ہی زیادہ لذیذ بنے گی۔‘

وہ کہتی ہیں ’گھی کا استعمال کھوبا پکانے والے کی محبت کا نہ صرف اظہار ہے بلکہ یہ روٹی کے ذائقے کو بھی انتہائی لذیذ بنا دیتا ہے۔‘

ابھیلا جین کے مطابقکھوبا روٹی تیار کرنے کی ترکیب

اجزا:

  • ایک کپ گندم کا آٹا
  • آدھا کپ گرم پانی
  • آدھا چائے کا چمچہ اجوائن کے دانے (یا حسب ذائقہ)
  • ڈھائی کھانے کا چمچ گھی
  • نمک حسب ذائقہ

پکانے کا طریقہ

  • آٹے، اجوائن کے دانوں، نمک اور گھی کو ایک ساتھ ملا لیں
  • گرم پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح گوند لیں
  • آب آٹے کو آدھے گھنٹے کے لیے رکھ دیں اور پھر دوبارہ گوندھیں تاکہ یہ مزید نرم ہو جائے
  • اب آٹے کے دو پیڑے بنا لیں
  • اس ایک پیڑے کی آدھ انچ موٹی گول روٹی بنا لیں
  • چولھے پر توا گرم کریں اور روٹی کو اس پر رکھ دیں اور چند سکینڈز بعد اس کو پلٹیں
  • اب روٹی کو درمیان سے اور کناروں سے دبانا شروع کریں اور اسی طرح کا ڈیزائن پوری روٹی پر بنا لیں
  • اب روٹی کو پلٹیں اور اسے کچھ دیر پکنے دیں
  • روٹی کو توے سے اتار لیں اور اسے تندور میں پکائیں جب تک وہ گولڈن نہ ہو جائے، اب اس تندور سے نکالیں اور اس کے گڑھوں میں گھی ڈالیں اور اسے کوئلوں کی ہلکی آنچ پر پکائیں

اور آب آپ کی روٹی تیار ہے جسے آپ اچار، گرم دال، سبزی یا گوشت کے سالن کے ساتھ بھی کھا سکتے ہیں۔