برطانیہ: فنکاروں اور لکھاریوں کو متاثر کرنے والا وہ گاؤں جس میں داخل ہونے کے لیے ٹکٹ لینا پڑتا ہے

  • اماندا روگیری
  • بی بی سی نیوز
انگلستان

،تصویر کا ذریعہAmanda Ruggeri/BBC

جنوبی مغربی انگلینڈ میں ڈیون کے ساحل پر واقع کلوویلی گاؤں میں دو چیزیں ایسی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ سمندر کے کنارے یہ کوئی عام سا گاؤں نہیں۔ پہلی چیز یہ کہ یہاں تک رسائی صرف ’وزیٹر سینٹر‘ کے ذریعے ہے، جس میں داخلے کے لیے ساڑھے آٹھ پاؤنڈ ادا کرنے ہوتے ہیں۔ بچوں کے لیے یہ ٹکٹ قدرے سستا ہے انھیں صرف 4.95 پاؤنڈ ہی ادا کرنے ہوتے ہیں۔

یہاں کی دوسری بات سلیجر (ہاتھ سے کھینچنے والی ریڑھیاں) ہیں، جو خاص ماربل سے بنی گلیوں کے اوپری حصے پر توجہ مبذول کراتی ہیں۔ یہ گلیاں کلوویلی کی بندرگاہ تک 120 میٹر نیچے جاتی ہیں۔ ان خاص گلیوں سے گزر کر جب کوئی خریداری کے بعد واپس گھر کا رخ کرتا ہے تو اسے ان سلیجر میں اپنا سامان گھسیٹ کر گھر تک لے جانا پڑتا ہے۔

پہلی بار یہاں کا رخ کرنے والوں کو یہ سب کچھ بے ہنگم لگ سکتا ہے مگر سنہ 1988 میں یہاں کھلنے والا وزیٹر سینٹر اور سنہ 1970 میں متعارف ہونے والی سلیجر، نے اب گدھوں کی جگہ لے لی ہے، جو اس ہزار سال پرانی کمیونٹی کی طرف سے جدید دور کی ضروریات کو اختیار کرنے کی نشانی ہے جبکہ ابھی بھی یہاں کے رہنے والوں نے ماضی کے انداز کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

آج بھی کلوویلی میں کاریں نہیں اور اگر یہاں کے رہنے والے ایسا چاہیں تو بھی ان کاروں کا یہاں کی سڑکوں پر چلنا اتنا آسان بھی نہیں۔ یہاں بڑے سٹورز کی بھی کوئی چین نہیں، ٹریفک کا شور نہیں، کوئی بھی آلودگی نہیں۔ اس کے بجائے یہاں 14 ویں صدی کی پتھر سے بنی ہوئی چھوٹی کشتیاں، خاص طرز کی گلیاں (کوبلڈ لین)، سفید کوٹھیاں، پھولوں پر پلنے والی تتلیاں اور شہد کی موٹی مکھیاں اور تقریباً ہر جگہ بحر اوقیانوس کی آواز، خوشبو اور نظارے ہیں۔

ایلی جارویس جو لندن سے یہاں سنہ 2007 میں اپنے خاندان کی سلک ورکشاپ چلانے میں مدد کے لیے چھ ماہ کے لیے آئی تھیں مگر پھر وہ یہیں کی ہو کر رہ گئیں، کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے ایک چٹان کی چھوٹی پر ایک چھوٹی سی جھونپڑی نما گھر میں رہنا ایک ایسی چیز تھی جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’لیکن کلوویلی کے بارے میں جو چیز بطور سیاح اتنی خوبصورت اور منفرد ہے وہ نہ صرف یہاں خاص پتھر سے بنی گلیاں اور دیگر اہم خصوصیات ہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ ماضی کے ساتھ جی رہے ہیں اور یہ نہ ختم ہونے والا یعنی بہت طویل ماضی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAmanda Ruggeri/BBC

گیارویں صدی میں جب یہ ڈومزڈے بک، برطانیہ کے ابتدائی سرکاری ریکارڈ، میں درج ہوا تو اس وقت اس گاؤں کلوویلی کی ملکیت فاتح ولیم کے نام سے لکھی گئی تھی۔ بادشاہ ولیم نے کچھ عرصے بعد اس گاؤں کو تحفے میں اپنی اہلیہ اور برطانیہ کی پہلی ملکہ جن کا خطاب ’ماٹیلڈا آف فلینڈرز‘ تھا، کو دے دیا۔

یہ گاؤں اب بھی گزرے دنوں کا عکاس ہے۔ یہی وجہ تھی کہ سنہ 2008 میں یہ جگہ فلموں ’سینس اینڈ سینسیبلیٹی‘ اور سنہ 2018 میں بننے والی فلم ’دی گیورنسے لٹریری اینڈ پوٹیٹو پیل پائی سوسائٹی‘ کے لیے خاص جگہ کے طور پر چُنی گئی۔ یہی خصوصیت ہے جس وجہ سے اس گاؤں نے صدیوں سے جے ایم ڈبلیو ٹرنر سے چارلس ڈکن تک فنکاروں اور لکھاریوں کو متاثر کیا۔

انیسویں صدی کے ناول نگار اور شاعر چارلس کنگسلے سے زیادہ اس گاؤں کی چاشنی کسے معلوم ہو سکتی ہے، جن کا بچپن بھی یہیں گزرا۔ انھوں نے سنہ 1954 میں اپنی اہلیہ کو ان کے اس گاؤں کے پہلے دورے سے متعلق لکھا کہ اب آپ نے پرانی اور پیاری جنت دیکھ لی ہے اب آپ کو معلوم ہے کہ آپ سے ملنے سے قبل میری زندگی کی چاہت کیا تھی۔

،تصویر کا ذریعہAmanda Ruggeri/BBC

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

یہ سچ ہے کہ اس علاقے میں اور بھی انتہائی حسین، دلکشن اور تاریخی گاؤں پائے جاتے ہیں جہاں انٹری فیس تک بھی نہیں لی جاتی ہے مگر جو آپ کو پہلی نظر میں درست محسوس ہو رہا ہو گا اس کا سحر نزدیک جانے سے ٹوٹ جائے گا۔ بہت سی اہم جگہیں چھٹیوں میں سیاحوں کے رش کی وجہ سے ویرانہ بن کر رہ گئی ہیں۔ ان جگہوں پر گرمیوں میں سیاحوں کی بڑی تعداد رخ کرتی ہے جبکہ باقی ماندہ دنوں میں یہ خالی پڑی رہتی ہیں۔

کلوویلی کے تاریخی گاؤں میں 83 کاٹیج نما گھروں میں 300 لوگ آباد ہیں جبکہ یہاں صورتحال دیگر قریبی دیہاتوں کے مقابلے میں یکسر مختلف ہے۔ جب وزیٹر سینٹر اور یہاں کی یادگاروں والی دکان (سونیئر شاپ) سے جب آپ گزریں گے تو پھر آپ کو ایک حقیقت پر مبنی اور بھرپور زندگی دیکھنے کو ملے گی۔ یہاں کہ رہنے والے متحرک لوگوں کا گروپ اس کے پیچھے کارفرما ہے۔

کاس میکفیرلین جو گذشتہ برس خزاں میں یہاں لندن سے آئی تھیں اور کنگزلے کاٹیج میں مٹھائی کی دکان چلا رہی ہیں، کا کہنا ہے کہ یہاں رہنے والی ایک حقیقی کمیونٹی ہے۔ کنگزلے کالج لکھاریوں کے لیے مختص ایک چھوٹا میوزیم ہے۔ ان کے مطابق یہاں رہنے والے ایک متحرک کمیونٹی ہے، جس میں ہر عمر اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں۔

یہاں ہر وقت کوئی ایسا مل جاتا ہے جس سے بات کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہAmanda Roggeri/BBC

اگرچہ میں پہلے بھی اس گاؤں جا چکی ہوں مگر پہلی بار میں نے اسے کرسمس کی تیاریوں کے دوران دیکھا تھا۔ کلوویلی سے 15 میل جانب جنوب میں واقع میرے گاؤں میں ہر کوئی یہ پوچھتا نظر آتا ہے کہ کیا ہم اس بار کلوویلی میں کرسمس لائٹس دیکھنے جائیں گے۔

جب ہم وہاں گئے تو وہاں اس سے بھی زیادہ رش تھا جتنا کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں سیاحوں کی آمد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک مقامی سکول کے بچوں نے کرسمس کا گانا گایا۔ ان پتھریلی سڑکوں پر لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔

بہت کم ہی کوئی سیاح یہ سوچنے کی غلطی کرے گا کہ یہ ایک سویا ہوا گاؤں ہے۔ جارویز نے پوچھا کہ کیا یہ ایسا نہیں۔ ان کے مطابق یہاں ایک ہی وقت پر بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے جیسے میلے، تقریبات، تھیٹر۔ یہاں زندگی گزارنے کا اور بھی بہت باوقار طریقہ ہے۔

میں ہمیشہ اپنے بچوں سے یہ کہتی ہوں کہ وہاں ہر وقت کوئی نہیں کوئی انھیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ غیرمناسب رویہ اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں لوگ موجود ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAmanda Ruggeri/BBC

کلوویلی کے مالک جان راؤس کا کہنا ہے کہ اس گاؤں کا یہ طرز زندگی جان بوجھ کر تشکیل دیا گیا۔ کلوویلی کے بارھویں صدی کے آل سینٹ چرچ کے سائے میں پتھر کی ایک عظیم الشان عمارت میں جب ہماری ان کے سٹیٹ آفس میں ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے پیش نظر ہمیشہ سے یہ ایک چیز رہی کہ کلوویلی ایک زندگی سے بھرپور یعنی ریل پیل والا گاؤں رہنا چاہیے۔

اب 71 برس کے جان راؤس کو یہ گاؤں سنہ 1983 میں اپنی ماں، جو کاؤنٹس تھیں، سے ورثے میں ملا تھا۔ کلوویلی کے غیرمعمولی ہونے کی یہ ایک اور وجہ ہے: یہ برطانیہ کے ان گاؤں میں سے ایک ہے جو کسی کی نجی ملکیت میں ہے۔ یہی نہیں بلکہ 12 ویں صدی سے راؤس فیملی تیسری ایسی فیملی ہے جس کے پاس اس گاؤں کی ملکیت ہے۔

بادشاہت کے دنوں میں یہ ایک عام سی بات ہوا کرتی تھی۔ جگہ کی مالک فیملی نہ صرف لوگوں کو فارمز پر کام کرنے کے لیے ملازمت کے مواقع دیتی تھی بلکہ انھیں گھر اور دکانیں بھی لیز پر دیتی تھی۔ ایسے ہی یہاں بڑے بڑے گھر ماضی میں یہاں کے رہنے والوں کو دیے گئے اور اس کے بدلے انھوں نے اپنی خدمات دیں۔

کلوویلی گاؤں میں بھی یہی معاملہ تھا، جہاں سنہ 1980 میں راؤس فیملی نے کچھ جگہیں فروخت کرنا شروع کر دیں تھیں۔ یہ علاقہ ڈیون سمندر کے شمال میں دو ہزار ایکڑ سے زائد پر پھیلا ہوا تھا، جو سب کے ذریعہ معاش کے لیے کافی تھا۔

جان راؤس کے مطابق یہ بہت مشکل وقت تھا۔ جب زمین سے زیادہ نہیں کمایا جا سکتا تھا۔ البتہ سیاحت سے کچھ پیسہ مل جاتا تھا۔ ان کے مطابق میں نے یہ سوچا کہ مجھے ایک منظم تنزلی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ہمیں کوشش کرنا ہو گی اور تباہی کو روکنا ہو گا اور خود خرچ کرنا ہوگا۔ لہٰذا مجھے یہ ادراک ہوا کہ ہمیں سیاحت کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

اس کے بعد یہ خیال آیا کہ یہاں ایک وزیٹر سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے اور پھر کار پارکنگ کی فیس کے بجائے یوں پہلی بار گاؤں میں داخل ہونے کے لیے ٹکٹ متعارف کرایا۔ انھیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ اس سے سیاحوں کی تعداد میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہوا۔ اب اس گاؤں میں سالانہ سیاحت کی غرض سے آنے والوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تک بنتی ہے۔ ابھی بھی اسے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

30 برس بعد بھی بہت سے سیاح ایسے ہیں جو ابھی بھی فیس ادا کرنے پر غصے میں آجاتے ہیں۔

جان راؤس کا کہنا ہے کہ اس کمائی نے ہی تو کلوویلی کو بچائے رکھا ہے۔ اس رقم سے یہاں پر قائم گھروں کی مرمت کی جاتی ہے۔ کچھ گھر 15 ویں صدی کے ہیں اور ایسے تمام گھروں میں تزئین و آرائش اور مرمت کی ضرورت رہتی ہے۔ یہاں کا شدید موسم اور ہواؤں سے ان گھروں کی چھت تک متاثر ہو جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAmanda Ruggeri/BBC

دنیا کے اس حصے میں واقع اس آبادی کو سیاحت سے ملنے والی رقم یہاں کی خوبصورتی کو قائم رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہاں کسی کو دوسرا گھر بنانے یا کسی اور کونے میں رہ کر گھر کا مالک بننے کی اجازت نہیں۔ یہاں کے مالک جان راؤس وہ واحد شخص ہیں جو ’کلوویلی مینر‘ گھر پر رہتے ہیں، جبکہ اصلی مینر دوسری عالمی جنگ کے دوران سنہ 1943 میں جل کر بھسم ہو گیا تھا۔

تاہم اس کے کلوویلی کورٹ گارڈن بچ گئے تھے اور آج ان کو دیکھنے کے لیے بھی ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔ کرایہ نامہ کی شرط کے مطابق یہاں رہنے والوں کو کل وقتی طور پر یہیں رہنا پڑتا ہے۔

جارویز جیسے رہائشی جو طویل عرصے سے یہ یہاں رہ رہے ہیں، کا مطلب یہ ہے کہ اب ان کی فیملی میں اضافہ ہو گیا ہے اور اب انھیں مزید گھروں کی ضرورت ہے۔ ان کے دو بچے جن کی عمریں نو اور 13 برس ہے یہیں بڑے ہوئے ہیں۔ یہاں سال کے کچھ دنوں میں گھر کی چیزیں میوزیکل چیئر گیم کے طرز پر ایک ہی بار میں لائی جاتی ہیں تاہم یہ چیزیں گاڑیوں کے بجائے سلیجز کے ذریعے لائی جاتی ہیں۔

سلیجز سے متعلق بات کرتے ہوئے یہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نرالا پن نہیں۔ یہ کلوویلی کے طرز زندگی کا ایک اہم بنیادی حصہ ہے۔ ہر کسی کے پاس اپنے سلیجز ہیں جنھیں وہ گاؤں کے بالائی حصوں میں رکھتے ہیں۔ جب یہاں کے مقامی افراد گروسری وغیرہ کا آرڈر دیتے ہیں تو ڈیلیوری والی گاڑیوں کو 15 منٹ پہلے انھیں بتانا پڑتا ہے۔ یہ لوگ پھر گاؤں کے اس بالائی حصے تک پہنچ جاتے ہیں جہاں تک گاڑیاں آتی ہیں اور پھر وہاں سے سلیجز پر یہ سامان رکھ کر یہ گھروں تک لے کر آتے ہیں۔

میکفیرلین کے مطابق ان اشیائے ضروریہ کو گھروں تک لے کر آنے میں کوئی راز پنہاں نہیں۔ ان کے مطابق آج صبح ہی میں نے ایک نوجوان کو ایک واشنگ مشین اور ایک ککر کے ساتھ دیکھا ہے۔ گذشتہ برس ایک بڑے پیانو کو سلیجر کے ذریعے نیچے لایا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAmanda Ruggeri/BBC

یہ بھی پڑھیے

یہاں کے بہت سے رہائشی ایسی دلکش جگہ رہنے کے بدلے اسے ایک معمولی قیمت سمجھتے ہیں۔ جب سمندر میں طغیانی ہو تو جارویز کے بچے کچن کی کھڑکی سے سیدھا سمندر میں چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ دیگر رہائشی بھی اس بات سے متفق ہیں کہ یہاں جو سہولیات کا فقدان ہے وہ یہاں رہنے کو خوبصورت بنا دیتا ہے۔

ڈیو فرانسس، جو سنہ 2020 میں یہاں آئے تھے اور اپنی اہلیہ جیکی کے ساتھ مل کر یہاں ایک تحائف اور جیولری کی دکان چلا رہے ہیں کا کہنا ہے کہ جب آپ اپنا ذہن بنا لیتے ہیں کہ آپ نے گیس اور سینٹرل ہیٹنگ کو خیرآباد کہہ کر کوئلے اور بڑی بڑی لکڑیوں کو بالائی حصے سے نیچے کی طرف سلیج پر لے کر آنا ہے اور یہاں لکڑیاں کاٹنا اور پھر ان سے لکڑی کا چولہا بنانا، یہ خوب لگتا ہے۔‘

یہ سیاحوں کے لیے بھولنا آسان ہے۔ کلوویلی سٹیٹ گاؤں سے کافی دور ہے۔ اس کے 700 ایکڑ میں لکڑیاں ہیں۔ تین بڑے فارم ہیں۔ اس کے علاوہ باغ، بندرگاہ اور آرامل یعنی لکڑیاں کاٹنے والی مشین بھی ہیں۔

یہاں 80 ملازمین سب کو کچھ چلا رہے ہیں۔ یہ سب چیلنجز کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ جان راؤس کے مطابق بےتکی بات یہ ہے کہ یہاں آپ جتنے بھی پیسے خرچ کر دیں مگر فرق پھر بھی بہت کم ہی محسوس ہو گا۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت پر جب آپ تاریخی مقامات کی مرمت حساس انداز میں کرتے ہیں، جس میں پھر سستا مٹیریل استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

،تصویر کا ذریعہAmanda Ruggeri/BBC

چیلنجز کے باوجود جان راؤس یہاں کے نظام کے چلانے کے ہر پہلو پر بات کرتے ہیں اور آگے بڑھنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ کلوویلی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دستکاری کی صنعت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔۔ (ریشم بنانے والے جارویز کے ساتھ، صابن بنانے والے اور کمہار کی بھی یہاں ورکشاپس ہیں)۔ اور ماہی گیری اور سمندر سے گاؤں کے ساتھ جڑے تاریخی روابط بھی قائم و دائم ہیں۔

یہاں تک کہ وہ یہاں ساحل پر چھوٹے پیمانے پر اویسٹر فارمنگ متعارف کرانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ماضی کو محفوظ رکھتے ہوئے بھی ان کے مطابق ’ہمیں بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مستقل طور پر تیار ہونا اور اسے اختیار کرنا ہو گا۔‘

جارویز اور دیگر رہائشیوں کے لیے جب وہ تمام پہلوؤں پر نظر دوڑاتے ہیں تو کلوویلی ایک کامیابی کا معیار ہے۔

یہ ایک آسان طرز زندگی نہیں۔ یہ بالکل کوئی سیدھا سادہ نہیں۔ جارویز کا کہنا ہے کہ آپ یہاں کے رہنے کا کسی اور جگہ سے موازنہ نہیں کر سکتے۔ بس آپ اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں آپ یہاں دل سے رہتے ہیں۔‘