امریکہ: ڈاکٹر فائی کو دو سال قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ KAC
Image caption پاکستان ڈاکٹر غلام بنی فائی کی سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے

امریکہ کی ایک عدالت نے غیر قانونی طور پر لابنگ کرنے کے الزام میں کشمیری نژاد امریکی شہری ڈاکٹر غلام نبی فائی کو دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔

باسٹھ سالہ ڈاکٹر غلام نبی فائی پر پاکستان اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے غیر قانونی طریقے سے رقوم وصول کرنے کا الزام تھا جس کا انہوں نے امریکی عدالت کے سامنے اعتراف بھی کیا۔

پاکستان نے ڈاکٹر غلام نبی فائی کی سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

عدالت میں استغاثہ کے مطابق انہوں نے آئی ایس آئی سے کوئی پینتیس لاکھ ڈالر کی رقوم وصول کیں اور اُن کے متعلق امریکی حکام کے سامنے غلط بیانی کی۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی ڈاکٹر فائی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے بارے میں امریکی پالیسی پر اثرانداز ہونا چاہتی تھی جس کے لیے انہیں رقوم ادا کی گئیں۔

سزا کے بعد امریکی ریاست ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ اُنہوں نے کشمیر کی آزادی کے مقصد کی خاطر قربانی دی ہے۔

اُن کی وکیل کے مطابق عدالت نے ڈاکٹر فائی کو سخت سزا سنائی ہے البتہ وہ اسے تسلیم کرتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سزا کے فیصلے کے بعد ڈپٹی اٹارنی جنرل لیسا موناکو نے کہا’امریکہ کی کمشیر پالیسی پر نظر اثر انداز ہونے کے حوالے ایک دہائی طویل منصوبے کو پوشیدہ رکھنے پر ڈاکٹر غلام نبی فائی کو آج قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔‘

ڈاکٹر فائی امریکہ میں کشمیری امریکن کونسل نامی ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تھے، جو ایک نان پرافٹ ادارہ تھا اور امریکی شہریوں کے فنڈز سے چلتا تھا۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا تھا اس ادارے کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے کچھ سرمایہ فراہم کیا تھا اور ڈاکٹر فائی نے امریکی قانون کے مطابق ایک غیر ملکی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر اپنا انداراج نہیں کرایا تھا۔

امریکہ میں غیر ملکی افراد اور حکومتیں امریکی انتخابی مہم میں چندہ نہیں دے سکتیں اور جو بھی کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام کرتا ہے اس کے لیے امریکی محکمۂ انصاف میں اپنا اندراج کروانا ضروری ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں جب ڈکٹر غلام بنی فائی نے رقم وصول کرنے کا اعتراف کیا تھا تو اس وقت امریکی اٹارنی نیل میک برائڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ’بیس سال سے غلام نبی فائی خفیہ طور پر لاکھوں ڈالرز پاکستانی انٹیلیجنس سے حاصل کرتے رہے اور اس بارے میں امریکی حکومت سے جھوٹ بولتے رہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’ آئی ایس آئی سے پیسے لے کرکام کرنے والے اہلکار کی حیثیت سے اس نے پاکستانی نگرانوں کے کہنے پر امریکی منتحب نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، اعلٰی پیمانے کی کانفرنسز کے لیے امداد دی اور واشنگٹن میں فیصلہ سازوں کے سامنے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا۔‘

اسی بارے میں