قاہرہ:صدارتی محل کے باہر پولیس اور مظاہرین کی جھڑپیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 فروری 2013 ,‭ 22:03 GMT 03:03 PST

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان صدارتی محل کے باہر جھڑپیں ہوئی ہیں۔

پچھلے ایک ہفتے سے مصر کے مختلف شہروں میں مظاہرے جاری ہیں جن میں ساٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعہ کے روز قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر جمع مظاہرین نے ’گو مرسی گو‘ کے نعرے بلند کیے۔

اس کے بعد چند مظاہرین نے پٹرول بم صدارتی محل کی دیوار کے اوپر سے اندر پھینکنے شروع کردیے اور سڑکوں پر آگ لگا دی۔

پولیس نے پتھر اور پٹرول بم پھینکنے والے مظاہرین کو صدارتی محل سے پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کا استعمال کیا۔

تحریر سکوائر کے قریب بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جہاں مرسی کے خلاف ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ دوسری جانب ہزاروں افراد نے پورٹ سعید میں میں بھی مظاہرے کیے۔

مظاہرین ملک کے صدر محمد مرسی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے 2011 کے انقلاب کے ساتھ بغاوت کی ہے لیکن صدر مرسی اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

محمد مرسی نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ سکیورٹی فورسز ملک کے اداروں کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن کارروائی کریں گی اور ان مظاہروں کی پشت پناہی کرنے والے گروہوں کا ’سیاسی احتساب‘ کیا جائے گا۔

نامہ نگار کے مطابق محمد مرسی کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر لوگوں کو لا کر پہلی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔