یوکرین:علیحدگی پسندوں کی گرفتاری کے بعد روس کی تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خارکوف اور دونیتسک میں روس نواز کارکنوں نے یوکرین سے آزادی کا اعلان کر دیا تھا

روس نے یوکرین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ عسکری تیاریاں روک دے کیونکہ اس سے ملک میں خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔

یہ بات روسی وزارتِ خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہی ہے۔

بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ یوکرین خطے میں فوج بھیجنے کی تیاریارں کر رہا ہے اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے کرائے کے فوجی بھی ان میں شامل ہیں۔

روس کی یہ تنبیہ یوکرین کی جانب سے پیر اور منگل کی درمیانی شب مشرقی شہر خارکوف میں ’انسدادِ دہشتگردی‘ کی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے۔

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں ان 70 روس نواز علیحدگی پسندوں کو حراست میں لیا گیا ہے جنھوں نے ریاستی حکومت کی عمارت پر قبضہ کر لیا تھا۔

پیر کو خارکوف اور دونستیک میں روس نواز کارکنوں نے یوکرین سے آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔

روس اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے علیحدگی پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔

امریکہ نے بھی یوکرین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری کے فون پر روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے کہا کہ روس کو یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کی قیمت ادا کرنے پڑے گی۔

دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہفتے براہِ راست مذاکرات کے انعقاد امکانات پر بھی بات کی۔

اس سے قبل یوکرین کے تین مشرقی شہروں دونیتسك، لہاسك اور خاركوف میں روس نواز گروپوں نے سرکاری عمارتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ دونیتسك میں تو روس نواز مظاہرین نے ’خود مختار عوامی جمہوریہ‘ کا اعلان کرتے ہوئے یوکرین سے علیحدگی کے لیے 11 مئی تک ریفرنڈم کرانے کو کہا ہے۔

اس صورتحال میں یوکرین کی حکومت ان تینوں شہروں میں صوتحال پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز روانہ کی تھیں۔

کچھ دنوں پہلے ہی یوکرین کا خود مختار علاقہ كرائميا ایک ریفرنڈم کے بعد روس میں شامل ہو گیا تھا۔ یوکرین اور مغربی ممالک نے اس قدم کی مخالفت کی تھی۔

یوکرین کے عبوری صدر نے تازہ واقعات کو ’یوکرین کو منقسم کرنے کی روسی کوشش‘ قرار دیا ہے۔انھوں نے قومی ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے، حکومت کو ہٹانے اور انتخابات میں خلل ڈالنے کے لیے یہ ’روسی مہم کی دوسری لہر‘ ہے۔

روس نے یوکرین سے ملحق اپنی سرحد پر ہزاروں فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن وہ روسی نژاد لوگوں کے حقوق کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دونیتسك ایک صنعتی شہر ہے جس کی آبادی دس لاکھ کے قریب ہے۔ ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل سینفرڈ کا کہنا ہے کہ دونیتسك کی حالت كرائميا سے اس لیے مختلف ہے کیونکہ وہاں روسی زبان بولنے والوں کے ساتھ ساتھ یوکرینین بولنے والوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

اسی بارے میں