مشرقِ وسطی میں ریت کے طوفانوں میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption غیر مستحکم کان کنی، تیل نکالنے کا عمل اور ذرعات کے ساتھ ساتھ عسکری تنازعوں سے صورتحال بدتر ہورہی ہے

اقوامِ متحدہ کے لیے کام کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطی میں ریت کے طوفان سے لوگوں کی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ایران اور کویت اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک ہیں۔ اس کی وجہ شام سے ریت اور آلودگی کا عراق کی طرف جانا ہے۔

موسمی تبدیلی اور خطے میں پانی اور زمین کے حوالے سے بد انتظامی بھی اس کا ایک اہم عنصر ہے۔ ماہر موسمیات کے مطابق ریت اور دھول کے طوفان وسطِ ایشیا کے کچھ حصوں میں بھی آئے ہیں۔ عالمی موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او کے ریت اور دھول کے طوفانوں کے شعبہ جات سے ساتھ وابستہ ماہر موسمیات انریق ٹیراڈیلاس کے مطابق پچھلے 15 برسوں میں مشرقِ وسطی میں ریت اور دھول کے طوفانوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ریت اور دھول کے طوفانوں کی ایک بڑی وجہ عراق ہے، جہاں سے ندیوں کے بہاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ ندی کے قریب واقع وہ ملک ہیں جہاں پر تیزی سے ڈیم بن رہے ہیں۔ اس سے عراق اور ایران میں واقع ندیاں سوکھ گئیں ہیں جبکہ پیچھے بچ جانے والے باقی خطے ریت کی ایک بڑی وجہ بن رہے ہیں۔‘ سحرا ہمیشہ سے ہی مشرقِ وسطی میں ریت کے طوفانوں کی وجہ رہے ہیں۔ تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ غیر مستحکم کان کنی، تیل نکالنے کا عمل اور ذراعت کے ساتھ ساتھ عسکری تنازعوں سے صورتحال بدتر ہو رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام ’یو این ای پی‘ نے پیشن گوئی کی ہے کہ عراق میں دس سال کے اندر 300 کے قریب ریت کے طوفان آ سکتے ہیں۔ گزشتہ سال تک ان کی تعداد 180 تھی۔

ایرانی صحت کے ادارے کے حکام کا کہنا ہے ریت کے طوفانوں سے 14 صوبوں پر اثر پڑا ہے جس میں تہران بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ریت کے طوفانوں سے ہوا میں آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اور نتیجاً ستر لاکھ سے زائد لوگ ہر سال ہلاک ہوتے ہیں

ملک کے جنوب مشرقی حصے اھواز میں ایک تاجر جاسم نے فون پر کھانستے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ فضا میں آلودگی کی وجہ سے انھیں سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’کھانسنا میرے لیے اب معمول کی بات ہے۔ ہمیں اپنی کھڑکیاں بند رکھنی پڑتی ہیں اور ایئر کنڈیشن کا استعمال ہر وقت جاری رہتا ہے‘۔

ایمان، ایران کے ایک جنوب مشرقی علاقے میں ایک یونیورسٹی میں لکچرار ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دن بہ دن باہر نکالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ملک کے مغربی حصے سے آتی ہوئی ریت کو محسوس کرسکتے ہیں، ہم بچوں کو گھر سے باہر کھیلنے نہیں دیتے‘۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شام سے اس حوالے سے معلومات حاصل کرنا آسان نہیں تاہم اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ یہ ریت اور دھول کا اہم ذریعہ ہے۔ برطانوی کالج سینٹ این کے ایک محقق نک مڈلٹن نے اقوامِ متحدہ کی تحقیق پر نظر ثانی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ ذراعت کے شعبے پر اس طرح سے توجہ نہیں دے پا رہے جس طرح انھیں دینی چاہیے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ خطے میں جاری کشیدگی ہے اور لوگ لڑنے میں یا ملک سے ہجرت کرنے میں مصروف ہیں۔ صحت کے عالمی ادارے ’ڈبلیو ایچ او‘ کا کہنا ہے کہ ریت کے طوفانوں سے ہوا میں آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں ستر لاکھ سے زیادہ لوگ ہر سال ہلاک ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں