فرانس نے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی کا آغاز کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کے متعدد رفال طیاروں نے جمعے کی صبع دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کیے

اطلاعات کے مطابق فرانس نے عراق میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کے متعدد رفال طیاروں نے جمعے کی صبع دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کیے۔

اے ایف پی نے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ فرانسیسی طیارے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ موصل پر ہونے والے فضائی حملوں میں حصہ لیں گے۔

خیال رہے کہ فرانس نے رواں ماہ کے شروع میں چارلس ڈی گال نامی بحری بیٹرے کو خطے میں روانہ کیا تھا۔

فرانسیسی ریڈیو آر ٹی ایل کے مطابق 24 لڑاکا طیارے آج ہونے والے آپریش میں حصہ لیں گے۔

ریڈیو کے مطابق یہ لڑاکا طیارے 250 کلو گرام لیزر گائیڈڈ بم سے مسلح ہیں۔

فرانس کا چارلس ڈی گال نامی بحری بیٹرا 38 ہزار ٹن وزنی ہے اور اس میں دو جوہری ریکٹرز جتنی طاقت ہے۔

اس بحری بیڑے کا عملہ 1,900 افراد پر مشتمل ہے جب کہ اس کی لمبائی 260 میٹر ہے۔

دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ وہ شام کے باغیوں کے زیرِ قبصہ مشرقی شہر حلب پر امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے مطالبے کے باوجود بمباری جاری رکھے گا۔

روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو کہا کہ روسی فضائیہ شامی مسلح افواج کی حمایت جاری رکھے گی۔

پیسکوف نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ 'اعتدال پسند' باغی تنظمیوں کو 'دہشت گردوں' سے الگ کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کرے۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے متنبہ کیا تھا کہ وہ شام کے مسئلے پر روس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مطل کرنے کے 'دہانے پر تھا۔'

اسی بارے میں