شام میں باغیوں کی دولت اسلامیہ کے مضبوط گڑھ دابق کی جانب پیش قدمی

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption ترکی کے حامیت یافتہ باغیوں نے اگست کے آخر میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی شروع کی تھی

شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم سے جھڑپوں میں ترکی کے حمایت 15 باغی مارے گئے ہیں۔

شامی باغی دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ دابق کی جانب پیش قدمی کے دوران مارے گئے۔

برطانیہ میں شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہلاکتیں علاقے میں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جگہ جگہ بچھائی گئی باردوی سرنگوں کے پھٹنے کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔

باغیوں کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ اس وقت دابق سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

باغیوں کے ایک گروپ سلطان مراد کے ایک کمانڈر نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ باغیوں نے حالیہ دنوں میں دابق کے قریب متعدد دیہات پر قبضہ کر لیا ہے اور امید ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں پہنچ جائیں گے۔

دولتِ اسلامیہ کے لیے دابق بڑی اہمیت کا حاصل ہے اور اس کے ماہانہ انگلش زبان کے جریدے کا نام بھی اسی شہر کے نام پر ہے۔

شامی باغیوں کے اس اتحاد کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں ترکی کی فضائی مدد کے علاوہ ٹینکوں اور خصوصی فورسز کی مدد بھی حاصل ہے۔

اس اتحاد نے اگست کے اختتام کے قریب ترکی کی سرحد سے متصل شامی علاقوں میں دولتِ اسلامیہ اور کردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا اور ترک حکام کے مطابق اس اتحاد نے اب تک 960 مربع کلومیٹر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

پیر کی صبح ترک فوج کے حکام کے مطابق ال رائی کے جنوب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید جھڑپیں ہوئی ہیں اور اس میں 15 شامی باغی ہلاک اور 35 زخمی ہو گئے۔ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 21 ہے۔

خیال رہے کہ شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ نے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے تاہم حالیہ ماہ میں اسے متعدد مقامات پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی بارے میں