روس نے امریکہ کے ساتھ پلوٹونیم کو تلف کرنے کا معاہدہ معطل کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس نے حالیہ برسوں میں نئے ہتھیاروں کی تیاری پر خاصی سرمایہ کاری کی ہے

روس نے امریکہ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے اضافی پلوٹونیم کو تلف کرنے کا معاہدہ معطل کر دیا ہے۔

روس کی جانب سے حالیہ قدم دونوں ممالک کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات کی جانب ایک اور واضح اشارہ ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن کی جانب سے جاری ہونے والے حکمنامے میں امریکہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ غیر دوستانہ اقدامات کے تحت روس کے'سٹریٹیجک استحکام کے لیے خطرہ' پیدا کر رہا ہے۔

روس نے امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے پیشگی شرائط بھی رکھی ہیں۔

معطل کیے جانے والے معاہدے کے تحت ہر ملک نے 34 ٹن اضافی پلوٹونیم کو ری ایکٹرز میں تلف کر دینا تھا۔

امریکہ محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالکوں کے پاس موجود مجموعی طور پر 68 ٹن پلوٹونیم سے اندازاً 17 ہزار جوہری بم تیار کیے جا سکتے ہیں۔

دونوں ممالک نے سال 2010 میں اس معاہدے کی توثیق کی تھی۔

روسی صدر کے حکمنامے کے مطابق صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس نے روسی فیڈریشن کی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں۔

اپریل میں صدر پوتن نے کہا تھا کہ امریکہ اس معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا ہے اور اس کی بجائے وہ اس طریقۂ کار پر کام کر رہا ہے جس کی مدد سے پلوٹونیم کو دوبارہ جوہری ہتھیاروں میں استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

دونوں ممالک نے اضافی پلوٹونیم کو تلف کرنے کے لیے خصوصی مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا

دوسری جانب امریکہ نے روسی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی جانب سے اپنایا گیا تلفی کا طریقۂ کار معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ یوکرین کے مسئلے پر امریکہ اور روس کے تعلقات میں کشیدگی آئی تھی تاہم اس میں مزید اضافہ شام میں روس کی مداخلت کے بعد ہوا۔ روس شام میں حکومت کی ان باغیوں کے خلاف کارروائی میں مدد کر رہا ہے جن کو امریکہ اور اس کے اتحادی عرب ممالک حمایت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں