ٹرمپ 'بیوقوف' ہیں اور ہلیری 'لاچار'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدارتی انتخابات میں نائب صدر کے عہدے کے امیدواروں میں بحث

امریکہ میں نائب صدارت کی انتخابی دوڑ میں شامل امیدواروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 'بیوقوف اور خبطی' جبکہ ہلیری کلنٹن کو 'کمزور اور لاچار' کے خطابات سے نوازا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نائب صدارت کے لیے نامزد ہونے والے امیدوار ریاست ورجینیا کے سینیٹر ٹِم کین ہیں جبکہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ریاست انڈیانا کے گورنر مائیک پنس ہیں۔

پیر کی رات ٹیلیویژن پر براہ راست نشر کیے جانے والے مباحثے میں دونوں امیدواروں نے امریکہ میں اسقاط حمل کے حق سے لےکر روس تک کئی موضوعات پر دھواں دھار بحث کی۔

تاہم ان کی فقرے بازی کا اصل نشانہ ان کی مخالف جماعتوں کے صدارتی امیدوار رہے اور سینیٹر ٹِم کین اور گورنر مائیک پنس نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن کے خوب لتے لیے۔

نائب صدارت کے امیدواروں کے درمیان یہ مباحثہ ریاست ورجینیا کی لونگ وُڈ یونیورسٹی میں ہوا۔

نائب صدارت کے امیدواروں کے درمیان یہ مباحثہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اگلے اتوار کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن کے درمیان ہونے والے دوسرے صدارتی مباحثے سے قبل یہ دونوں جماعتوں کے درمیان ایک بڑا ٹکراؤ تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ نائب صدارتی امیدواروں کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ اتوار کو ریاست مزوری میں ہونے والا دوسرا صدارتی مباحثہ بھی خاصا دھواں دھار ہوگا۔

پہلے صدارتی مباحثے میں مسٹر ٹرمپ کی کارکردگی اچھی نہیں تھی اور وہ کئی مقامات پر لڑکھڑا گئے تھے۔

ٹِم کین کی شہرت ایک قدرے کم گو شخص کی ہے، لیکن منگل کی رات کو نوے منٹ کے مباحثے میں انھوں نے شروع سے ہی جارحانہ انداز اپنایا۔

اگرچہ مباحثے میں دونوں امیدار بار بار ایک دوسرے کو ٹوکتے رہے، تاہم مسٹر پینس زیادہ تر پرسکون ہی نظر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈیموکریٹ پارٹی کے نائب صدر کے عہدے کے امیدوار مائیک پنس نے ٹرمپ کو شدید نقید کا نشانہ بنایا

ٹم کین نے ریبلکن پارٹی کے مسٹر ٹرمپ کو اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا جب وہ مسٹر ٹرمپ کی ممکنہ صدارت میں امریکہ کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔

کین کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن نے خبردار کیا تھا کہ اگر جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر قابو نہیں پایا جاتا تو کسی روز ان ہتھیاروں کا کنٹرول 'کسی بیوقوف یا خبطی شخص` کے ہاتھ میں بھی جا سکتا ہے جو بٹن دبا کر 'قیامت' برپا کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ رونلڈ ریگن کا اشارہ ٹرمپ جیسے شخص کی جانب ہی تھا۔

58 سالہ سینیٹر کین نے مباحثے کے دوران ٹرمپ کے مزاج کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ تو ایسے ہیں کہ وہ مسِ یونیورس کے ساتھ ٹوئٹر پر بھی جنگ نہیں لڑ سکتے، بلکہ خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار لیتے ہیں۔

مباحثے کے دوران جب تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہو رہا تھا تو ٹم کین نے ٹرمپ کو ان تعریفی کلمات کے حوالے سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو انھوں نے روس کے صدر ولادی میر پوتن کے بارے میں کہے تھے۔

ٹم کین کا کہنا تھا ڈونلڈ ٹرمپ آمروں کے مداح ہیں اور انھوں نے ولادیمیر پوتن، کِم جون انگ، صدام حسین اور معمر قذافی جیسے آمروں کی میزبانی کے لیے امریکی تاریخ کی علامت 'ماؤنٹ رشمور' جیسی ایک ذاتی یادگار بھی بنائی تھی۔

مسٹر ٹرمپ 'اگر آپ کو ڈکٹیٹرشِپ اور لیڈرشِپ کے درمیان فرق کا نہیں پتا، تو آپ کو چاہیے کہ واپس جائیں اور پانچویں جماعت کا معاشرتی علوم کا سبق دوبارہ پڑھیں۔ '

اسی بارے میں