دنیا بھر میں عالمگیریت پر حملے کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دنیا بھر میں آزادانہ تجارت اور عالمگیریت تسلسل کے ساتھ دباؤ کا شکار دکھائی دے رہے ہیں اور ان پر ہونے والے حملے صرف ایک طرف سے نہیں آ رہے بلکہ کئی حلقے اس تنقید میں اپنی آواز شامل کر رہے ہیں۔

کئی دہائیوں تک اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ عالمگیریت کا نتیجہ زیادہ نوکریوں، بہتر تنخواہوں اور سستی اشیا کی شکل میں نکلتا ہے اور یہ صرف نسبتاً امیر ملکوں میں ہی نہیں ہوتا بلکہ غیر ممالک بھی اس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔

لیکن اب سیاستدانوں سمیت کئی لوگ اس بات پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں کہ مشینوں کی وجہ سے نوکریاں کاٹی جا رہی ہیں، پرانی صنعتیں ختم ہو رہی ہیں اور امیگریشن کی وجہ سے معاشرے میں اتھل پتھل دیکھنے میں آ رہی ہے۔

حالیہ واقعات میں اس تشویش کا دیکھنے کے لیے آپ کو زیادہ کوشش نہیں کرنا پڑتی۔

برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نہ رہنے کے معاملے پر ہونے والے ریفرنڈم میں امریگریشن کا ایشو چھایا رہا، امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے عروج نے ملکی صنعتوں کو تحفظ دینے کی بحث کو ایک پھر تازہ کر دیا اور یورپ بھر میں ممکنہ نئے تجارتی معاہدوں کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس تنقید کے پیچھے کیا ہے اور عالمگیریت کو درپیش بحران سے نپٹنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

امریکہ میں جاری صدارتی مہم آزادانہ تجارت اور عالمگیریت کے خلاف بڑھتے ہوئے غصے کا مرکز محسوس ہوتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ڈالر کے ساتھ ساز باز کر کے اور بین الاقوامی تجارت کو دھوکہ دے کر امریکی عوام کو بھوکا مارنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر چینی اشیا پر بھاری ٹیکس عائد کریں گے کیونکہ یہ معاشی لحاظ سے امریکہ کے ساتھ ’ریپ‘ کا ارتکاب کر رہا ہے۔

ہیلری کلنٹن کا چاروں طرف سے ایسے مخالفین کا سامنا ہے جو بین الاقوامی تجارت اور عالمگیریت کے فوائد پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ امریکہ میں اس نوعیت کی تنقید کی ایک بنیاد بھی ہے کیونکہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کے زوال کا مقابلہ چین کی معیشت کے عروج سے آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔

عالمگیریت کی مخالفت کم و بیش 2008 کے معاشی بحران کے ساتھ ہی شروع ہوئی اور اس نے عالمی تجارت میں اضافے کا رکاوٹیں کھڑی کرنے ایک خاص کردار ادا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تجارت کے عالمی ادارے ڈبلیو ٹی او کے مطابق 1998 اور 2008 کے درمیان عالمی تجارت میں اوسطاً ساڑھے چھ فی صد نمو دیکھی گئی جو 2012 اور 2015 کے دوران کم ہو کر تین اعشاریہ دو فیصد رہ گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی دنیا بھی میں ملکی صنعت کو تحفظ دینے کے لیے اقدامات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

جہاں آزادانہ تجارت کے سماجی اور معاشی فوائد پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں عالمگیریت کے حامی بھی ان حملوں کا جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ عالمگیریت کے خلاف کچھ غصہ ختم ہو جائے اگر معیشت کی شرحِ نمو برھنا شروع ہو جائے اور دنیا بھر میں لوگوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہونے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عالمگیریت اور آزادانہ تجارت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک کو تقویت مل رہی ہے۔ بحرِ اوقیانوس کے آر پار تجارت اور انوسٹمینٹپر شراکت یا ٹی ٹی آئی پی پر ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں، امریکی صدارتی انتخابات نے ٹی ٹی پی یا بحر الکاہل کے آر پار شراکت کے معاہدے کے مستقبل پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں اور نئے آزادانہ تجارت کے معاہدوں میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

اس لحاظ سے آزادانہ تجارت کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازیں ایک کورس کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ سیاسی میدان میں دائیں اور بائیں بازو کی طرف سے عالمگیریت کے فوائد کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

ہو سکتا ہے عالمگیریت تمام اطراف سے دباؤ کا شکار ہو لیکن اس کہ حامیوں کا کہنا ہے کہ اس غصے پر قابو پانے اور اس کا دوبارہ مقبول بنانے کے لیے واحد راستہ اس کا احیا ہے۔

اسی بارے میں