ہیٹی میں میتھیو طوفان سے سینکڑوں ہلاکتیں، اب رخ اب فلوریڈا کی جانب

ہیٹی، طوفان تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہیٹی میں رواں ہفتے ہونے والے صدارتی انتخابات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں

ہیٹی میں حکومت کا کہنا ہے کہ میتھیو طوفان کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 300 تک پہنچ گئی ہے۔

میتھیو طوفان جو تیسرے درجے کے طوفان میں بدل چکا ہے اب امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل سے چند گھنٹے دور رہ گیا ہے۔

فلوریڈا کے گورنر رک سکاٹ نے خبردار کیا ہے کہ عفریت کا رخ فلوریڈا کی جانب ہے اور یہ تباہ کن ہو سکتا ہے۔

خدشہ ظاہر کیا ہے کہ میتھیو طوفان فلوریڈا، جورجیا، ساؤتھ کیرولینا اور نارتھ کیرولینا کو متاثر کر سکتا ہے۔

ہیٹی کے شہر جیریمی میں 80 فیصد عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں جبکہ جنوبی صوبے میں 30 ہزار مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔

50 کے قریب افراد کی ہلاکت جنوبی شہر روشے آ بیتیو میں ہوئی ہے۔

ایک مقامی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ صرف جنوبی قصبے روشے آ بیتیو میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 50 ہے۔

ہیٹی دور دراز کے متاثرہ علاقوں سے موصول ہونے والی تازہ تصاویر میں تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

ایک مرتبہ پھر اس طوفان کو کیٹیگری فور میں رکھا گیا ہے اور اسے دوسرا شدید ترین طوفان قرار دیا جا رہا ہے جس کا رخ اس وقت امریکی ریاست فلوریڈا کی جانب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنوبی ساحل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی عمارتیں پانی میں بہہ گئی ہیں اور بعض کی چھتیں اکھڑ گئی ہیں

میتھیو طوفان ہیٹی میں تباہی کے بعد اب باہماس سے اوپر سے گزر رہا ہے اور توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ یہ جمعے کی صبح فلوڑیڈا سے ٹکرائے گا۔

امریکی حکام کے مطابق فلوریڈا، جورجیا اور جنوبی کیرولائنا میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو ساحلی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا گیا ہے۔

طوفان سے شمالی کیرولائنا کے علاقے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک مقامی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ صرف جنوبی قصبے روشے آ بیتیو میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 50 ہے

فضا سے حاصل کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنوب مغربی قصبے جیریمی میں سینکڑوں مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ ہیٹی میں آنے والے طوفان 'میتھیو' سے ہونے والی تباہی کے پیش نظر ملک میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ جو کہ رواں ہفتے کے اختتام پر ہونا تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بعض اطلاعات کے مطابق جنوب میں واقع کم از کم ایک گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گیا ہے

جنوبی ساحل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی عمارتیں پانی میں بہہ گئی ہیں اور بعض کی چھتیں اکھڑ گئی ہیں۔

ہیٹی میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مورد وہبا کا کہنا ہے کہ تقریباً دس ہزار افراد عارضی خیموں میں ہیں جبکہ ہسپتالوں میں مزید جگہ نہیں ہے۔

وزیر داخلہ فرانسز اینک جوزف نے بتایا ہے کہ 'ہم یہ جانتے ہیں کہ کئی، کئی مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔ بعض مکانات کی چھتیں اکھڑ گئی ہیں جنھیں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا جبکہ دیگر مکمل طور پر تباہ ہچکے ہیں۔'

اسی بارے میں