امریکہ نے میانمار کے خلاف اقتصادی پابندیاں نرم کر دیں

میانمار

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

صدر اوباما کی جانب سے یہ اقدام میانمار کی عملی سربراہ آنگ سانگ سوچی سے ملاقات کے چند ہفتے بعد کیا جا رہا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے باضابطہ طور پر میانمار کے خلاف عائد تجارتی پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ صدر اوباما کی جانب سے یہ اقدام میانمار کی عملی سربراہ آنگ سانگ سوچی سے ملاقات کے چند ہفتے بعد کیا جا رہا ہے۔

1989 میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیشِ نظر میانمار کو امریکہ کی جانب سے غیر ترقی یافتہ ممالک کو دی جانے والی خصوصی مراعات روک دی گئی تھیں۔

تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی جانب اہم پیش قدمی کو مدِنظر رکھتے ہوئے میانمار اب امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرہ نہیں ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یہ اقدام جنوب مشرقی ایشیا کے اس ملک کی تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت کو کئی سالوں کی اقتصادی تنہائی سے واپس لانا ہے۔

حال ہی میں امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سپیکروں کو خطوط میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اگرچہ میانمار کو جمہوریت کی ہمواری سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، امریکہ ان چیلنجز کا سامنا کرنے میں میانمار کے لوگوں اور حکومت کی مدد کر سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں میانمار میں آمرانہ حکومت کے دور میں لگائی گئیں تھیں

امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں میانمار میں آمرانہ حکومت کے دور میں لگائی گئیں تھیں۔

تاہم اب میانمار کی کئی کمپنیوں کو قدرے کم ٹیکسوں کا سامنا ہوگا مگر چند پابندیاں ابھی بھی رہیں گی۔ ماضی میں فوجی حکومت سے منسلک تقریباً ایک سو کمپنیوں کی ’بلیک لسٹ‘ خارج کر دی گئی ہے تاہم چند افراد ابھی بھی پابندیوں کا سامنا کریں گے۔

میانمار میں 1962 سے لے 2011 تک فوجی حکومت رہی تھی۔

حزبِ مخالف کی رہنما آنگ سانگ سوچی کو 15 سال تک ان کے گھر میں نذر بند رکھا گیا اور کئی دہائوں میں پہلی بار نومبر 2015 میں ہونے والے آزادانہ انتخابات میں ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کامیاب رہی۔