ترکی میں چیک پوسٹ پر کار بم دھماکہ، دس فوجیوں سمیت 18 ہلاک

ترکی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کئی دہائیوں سے کرد علاقوں میں شورش کا سامنا کر رہا ہے

ترکی میں حکام کے مطابق ملک کے جنوب مشرقی حصے میں ایک چیک پوسٹ پر کرد جنگجوؤں کے کار بم حملے میں کم از کم دس فوجیوں سمیت 18 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اتوار کو دورک کے مقام پر یہ حملہ اس وقت ہوا جب فوجیوں نے ایک کار کو چیک کرنے کے لیے روکا۔

ترک حکام کی جانب سے اس حملے کا الزام کرد باغیوں پر عائد کیا گیا ہے۔

حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں 26 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں دس فوجی شامل ہیں۔

تاحال کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

خیال رہے کہ ترکی کئی دہائیوں سے کرد علاقوں میں شورش کا سامنا کر رہا ہے اور اس کو خدشہ ہے کہ ہمسایہ ملک شام میں کردوں کی کامیابیوں سے ترکی میں بھی کرد علیحدگی پسندوں کو تقویت ملے گی۔

ترکی کی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ حملہ صوبہ ہکاری کے قصبے سیمدنلی سے 20 کلومیٹر فاصلے پر قائم ایک فوجی چوکی پر مقامی وقت کے مطابق صبح نو بج کر 45 منٹ پر ہوا۔

صوبائی گورنر کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے چیک پوسٹ پر تعینات فوجیوں پر فائرنگ کی اور بعد میں منی وین کو دھماکے سے اڑا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترک فوج کی جانب سے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں کی گئی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

ترک وزیراعظم بن یامین یلدرم کا کہنا تھا کہ اس حملے میں 'ایک خودکش بمبار نے وین میں لدے پانچ ٹن دھماکہ خیز مواد کو اڑایا۔'

واضح رہے کہ گذشتہ سال ترکی اور کرد باغیوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے خاتمے کے بعد سے کرد جنگجو تنظیم ’پی کے کے‘ نے ترک سکیورٹی فورسز کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب سے ترک فوج کی جانب سے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں کی گئی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہو ہلاک چکے ہیں۔

ترک حکومت ’پی کے کے‘ کے مکمل طور پر غیرمسلح ہونے تک ان ساتھ مذاکرات سے انکار کرتی ہے۔

ترکی میں ہونے والے حالیہ حملے

20 اگست: غازی عنتب شہر میں شادی کی ایک تقریب میں بم دھماکے سے 51 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے میں مبینہ طور پر دولت اسلامیہ ملوث تھی۔

29 جون: استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر فائرنگ اور بم دھاکے میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کا الزام دولت اسلامیہ پر عائد کیا گیا تھا۔

12 مارچ : انقرہ میں کرد جنگجوؤں کی جانب سے کیے گئے کار بم دھماکے میں 37 افراد ہلاک ہوئے۔

17 فروری: انقرہ میں ایک فوجی قافلے پر حملے میں 29 افراد ہلاک ہوئے جن میں بیشتر عام شہری تھے۔

12 جنوری: استنبول میں مشتبہ طور پر دولت اسلامیہ کی جانب سے کیے گئے خودکش دھماکے میں آٹھ جرمن سیاحوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں