معاہدوں سے متعلق نظریے پر معاشیات کا نوبل انعام

تصویر کے کاپی رائٹ Nobel Committee

برطانیہ نژاد ماہر معاشیات کو اولیور ہارٹ اور فِن لینڈ کے بینگٹ ہومسٹروم کو معاہدوں سے متعلق ان کے نظریے پر معاشیات کے شعبے میں نوبل کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔

نوبل انعام کا فیصلے کرنے والے ججوں کے مطابق ان کا کام نے بینکاری اور کمپنیوں کے دیوالیہ قرار دیے جانے سے متعلق قانون سازی اور سیاسی قوانین کے لیے انٹیکچوئل بنیاد فراہم کی ہے۔

ان دو معیشت دانوں کو نوبل کمیٹی کی طرف سے اسی لاکھ سویڈش کرونا یا سات لاکھ 44 ہزار پاؤنڈ دیے جائیں گے۔

مسٹر ہارٹ کو نوبل انعام ملنے کی خبر صبح چار بج کر 44 منٹ پر دی گئی۔ مسٹر ہومسٹروم کا کہنا ہے کہ وہ نوبل انعام ملنے پر حود کو ’بہت خوش قسمت‘ اور ’مشکور‘ سمجھتے ہیں۔

رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کا کہنا ہے کہ اولیور ہارٹ اور بینگٹ ہومسٹروم کا کم حقیقی معاہدوں اور اداروں کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔

اکیڈمی کا کہنا ہے کہ ان کا کام معاہدوں کے ڈیزائن میں ممکنہ خطرات کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

67 سالہ ہومسٹروم موبائل فون بنانے والی کمپنی نوکیا کے بورڈ کے سابق ممبر بھی ہیں۔ آج کل وہ مسیچیوسٹس انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں معاشیات اور مینیجمنٹ کے پروفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

دوسری طرف سنہ 1948 میں پیدا ہونے والے اولیور ہارٹ امریکی کی ہارورڈ یونیورسٹی میں بڑھاتے ہیں۔

اس سے پہلے توقع کی جا رہی تھی کہ عالمی بینک کے نئے چیف اکانومسٹ پال رومر نوبال انعام جیتیں گے۔

اسی بارے میں