امریکی مسلمان ووٹر رپبلکن پارٹی سے نالاں

امریکی مسلم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدارتی انتخاب میں مسلمانوں کے خلاف کهلے عام تعصب کی وجہ سے پہلی مرتبہ ایسے ووٹروں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے جن کی عمر 18 برس سے زیادہ ہے اور جنھوں نے اس سے پہلے کبهی ووٹ نہیں ڈالا۔

امریکی مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ایمرج یو ایس کے مطابق پاکستانی نژاد امریکیوں کا مرکز سمجهے جانے والی ریاست ٹیکسس کے شہر ہیوسٹن میں اب تک 16 ہزار کے قریب نئے ووٹر رجسٹر ہوئے ہیں۔ ان تمام ووٹروں کی عمر 18 برس سے زیادہ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایمرج کے کارکن آفاق درانی نے کہا: 'نئے ووٹروں میں اضافے کی ایک وجہ انتحابی جلوسوں میں مذہبی بنیاد پر تعصب ہے۔ اقلیتیں اور خاص طور پر مسلمان اپنی امریکی شناخت کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ماضی کے برعکس وہ اس انتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دیں گے

اسی کی نشاندہی کچھ عرصے پہلے کونسل آف مسلم امریکن نامی تنظیم نے بهی کی ہے۔ تنظیم کی جانب سے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ میں بسنے والے 76 فیصد مسلمانوں نے نو نمبر کو ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں سے 45 فیصد نے اس کی وجہ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کا نشانہ بنائے جانا بتائی ہے۔

ہیوسٹن کے رہائشی سعید شیخ اب تک نہ صرف رپبلکنز کو ووٹ دیتے آئے ہیں بلکہ رپبلکنز کے لیے فنڈز بهی جمع کرتے رہے ہیں۔ مگر اس بار وہ رپبلکنز کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرامپ سے نالاں ہیں۔

انھوں نے ان انتخابات میں پہلی مرتبہ اپنا ووٹ ڈیموکریٹس کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تها: 'نائن الیون کے بعد مسلمانوں کی کڑی نگرانی کی وجہ سے مسلمان برداری میں رپبلکنز کے خلاف غم و غصہ تو تها مگر ہم نے جماعت کا ساتھ نہیں چهوڑا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کا ساتھ دیں جو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتے ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر کسی کو نشانہ بنانا امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے۔'

انھوں نے اپنے گهر سے بیشتر نمایاں رپبلکنز کی اپنے ساتھ کهینچی ہوئی تصاویر کو امریکی صدر اوباما اور ہلیری کلنٹن کی تصاویر سے تبدیل کر دیا ہے۔

ہیوسٹن میں سب سے بڑے اسلامی سینٹر اسلامک سوسائٹی آف گریٹر ہیوسٹن نے مسلمان ووٹروں کو ووٹ کا حق استمعال کرنے کی جانب راغب کرنے کے لیے متعدد تقاریب کا انعقاد کیا ہے۔

ایسی ہی ایک تقریب میں شامل صحافی وجاہت علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'اس انتخاب اور ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب اب مین سٹریم پر آ گیا ہے۔ اس کی وجہ سے اقلیتوں میں بڑی حد تک خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس نے امریکی مسلمانوں کو یہ موقع بهی دیا ہے وہ نہ صرف اپنے ساتهی امریکیوں کے ساتھ روابط بڑهائیں بلکہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئے نفرت کو مات دیں۔'

ٹیکسس رپبلکنز کا گڑھ سمجها جاتا ہے۔ یہاں بسنے والے مسلمان روایتی طور پر خود کو نظریات کی بنیاد پر اب بهی کسی حد تک رپبلکنز کے قریب سمجهتے ہیں مگر 2016 کے انتحابی مراحل نے بڑی حد تک مسلمان ووٹوں کا رخ ڈیموکریٹس کے بیلٹ باکس کی طرف موڑ دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں