روسی صدر پوتن نے شام کے معاملے پر اختلاف پر فرانس کا دورہ مؤخر کر دیا

صدر پوتن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر پوتن کا شام کے معاملے پر مغربی ممالک سے شدید اختلاف ہے

فرانسیسی صدارتی محل کے ذرائع کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوتن نے شام کے معاملے پر پائے جانے والے اختلافات کی وجہ سے اپنا فرانس کا دورہ موخر کر دیا ہے۔

صدر پوتن نے 19 اکتوبر کو پیرس پہنچنا تھا جہاں پر مذاکرات کے علاوہ انھوں نے ایک گرجا گھر کا افتتاح بھی کرنا تھا۔

تاہم روس کی جانب سے دورے کو مؤخر کرنے کے حوالے سے کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

پیر کو فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے اس جانب اشارہ کیا تھا کہ روس کی جانب سے شام کے شہر حلب میں کی جانے والی بمباری پر روس کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چل سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق فرانس کے صدارتی محل کے حکام نے روسی حکام کو بتایا تھا کہ صدر فرانسوا اولاند روس کے صدر کے دورہ فرانس کے دوران ان سے صرف ایک ملاقات کریں گے جس میں شام کے حوالے سے بات ہوگی۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد روس کی جانب سے یہ واضح کیا گیا کہ وہ دورہ مؤخر کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ملک کے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام کے معاملے پر بین الاقوامی جرائم کی عدالت میں مقدمے لائے جا سکتے ہیں۔

شام کی عوام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ یہ لوگ جنگی جرائم سے متاثر ہو رہے ہیں، وہ لوگ جو یہ جرائم کر رہے ہیں ان کو اپنے کیے کا سامنا کرنا پڑے گا بشمول بین الاقوامی جرائم کی عدالت میں۔‘

روس کا موقف ہے کہ وہ شام میں صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ بین الاقوامی جرائم کی عدالت میں صرف انھیں ممالک پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے جو عدالت کے ممبر ہوں ۔

روس اور شام دونوں بین الاقوامی جرائم کی عدالت کے ممبران نہیں ہیں۔

اسی بارے میں