’دست درازی کا الزام انتخابی مہم کو خراب کرنے کی سازش ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مریکہ کی رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار پر مزید دو خواتین نے جنسی ہراس کے الزامات عائد کیے ہیں

امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے خود پر عائد کیے جانے والے تازہ جنسی ہراس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزامات ان کی انتخابی مہم کو خراب کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'ایسے جھوٹے الزامات عائد کرنے والے مٹھی بھر لوگوں کو ڈھونڈنا مشکل نہیں ہے۔‘

جنوبی کیرولینا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ الزامات جھوٹ ہیں اور ان کا مقصد شہرت، پیسہ یا سیاست ہے۔

خواتین سے دست درازی کے الزامات ’ مکمل طور پر جھوٹے‘: ٹرمپ

رپبلکن قیادت ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرنا بند کرے: اوباما

رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کے مطابق 'ان الزامات کا مقصد بہت آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے مخالفین ہماری انتخابی مہم کو بند کرنا چاہتے ہیں۔‘

جنوبی کیرولینا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا 'یہ الزامات کسی دعوے، سچائی، منطق اور کسی گواہ کے بغیر عاید کیے گئے ہیں۔'

واضح رہے کہ امریکہ کی رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار پر مزید دو خواتین نے جنسی ہراس کے الزامات عائد کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی ہراس کے الزامات ایسے وقت سامنے آنا شروع ہوئے ہیں جب گذشتہ ہفتے ایک ویڈیو افشا ہوئی تھی جس میں ٹرمپ کو عورتوں سے دست درازی کے بارے میں فحش کلمات ادا کرتے سنا جا سکتا ہے

ان میں سے ایک خاتون سمر زغوژ نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ نے لاس اینجلس کے ایک ہوٹل میں انھیں جنسی ہراس کا نشانہ بنایا۔

41 سالہ سمر زغوژ نے لاس اینجلس میں ایک کانفرنس میں بتایا کہ ٹرمپ نے نوکری کے لیے بلایا تھا اور اس وقت انھیں جنسی ہراس کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا ہے کہ سال 2007 میں انھیں ٹرمپ نے بیورلی ہلز ہوٹل میں بلایا اور اس دوران انھیں ہونٹوں پر چوما اور اس کے بعد اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھنے کا کہا۔

'جب میں وہاں بیٹھی تو انھوں نے کندھے سے پکڑا اور جارحانہ انداز میں چومنا شروع کر دیا۔'

ایک دوسری خاتون کرسٹین اینڈرسن نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ٹرمپ نے 1990 میں نیویارک کے ایک کلب میں ان سے دست درازی کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت وہ ہوٹل میں ویٹرس کے طور پر کام کر رہی تھیں اور وہ ماڈل بننا چاہتی تھیں۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی ہراس کے الزامات ایسے وقت سامنے آنا شروع ہوئے ہیں جب گذشتہ ہفتے ایک ویڈیو افشا ہوئی تھی جس میں ٹرمپ کو عورتوں سے دست درازی کے بارے میں فحش کلمات ادا کرتے سنا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو پر شدید تنقید کے بعد انھوں نے معافی مانگی تھی۔ تاہم کہا تھا کہ محض 'لاکر روم' میں کی جانے والی گفتگو تھی۔

تاہم بدھ کو دو خواتین نے اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ٹرمپ نے بغیر اجازت ان سے دست درازی کی اور انھیں چوما۔

اسی بارے میں